وزیراعظم کوئی بھی ہوپارلیمنٹ 5 سال پورے کریگی گورنرپنجاب
شہبازکوآئینی طورپروزیراعلیٰ نہیں مانتا، نواز اور سونامی الجھے رہیں گے، تکرار میں گفتگو
شہبازکوآئینی طورپروزیراعلیٰ نہیں مانتا، نواز اور سونامی الجھے رہیں گے، تکرار میں گفتگو۔ فوٹو: فائل
گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے کہاہے کہ ہم سپریم کورٹ کی بات مانتے ہیں سپریم کورٹ کو بھی اپنی حدود وقیود کا خیال کرنا چاہیے۔ وزیراعظم چاہے کوئی بھی ہو پارلیمنٹ پانچ سال پورے کرے گی ۔شہبازشریف کوآئینی طورپر وزیراعلیٰ نہیں مانتا۔نواز اور سونامی الجھے رہیں گے اور ہم پنجاب میں سے ستر فی صد سیٹیں لے جائیں گے۔نہ ضرورت پڑی نہ وسائل تھے اور نہ موقع ملا کہ کرپشن کروں۔
ان خیالات کااظہارگورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے پروگرام تکرار میں اینکرپرسن عمران خان سے گفتگو میں کیا ۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ ابھی کئی پیر آنی ہیں ہم ویسے بھی پیر پرست لوگ ہیں ہمیں پیرکا روز اچھا لگتا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ عدالت دوسرے وزیراعظم کے ساتھ پہلے وزیراعظم جیساسلوک نہیں کرے گی۔ہم سپریم کورٹ کی بات مانتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی حدود اور قیود میں رہے۔
وزیراعظم کو سپریم کورٹ میں نہیں جانا چاہیے کیونکہ وہ سپریم کورٹ کو جوابدہ نہیں ہے۔ یوسف رضا گیلانی کے جانے کا فیصلہ پاکستان اور جمہوریت کی بھلائی کے لیے تسلیم کرلیا تھا ۔ ہم نے پنجاب حکومت کو گرنے نہیں دیا ہم چاہتے تو پنجاب حکومت کو گراسکتے تھے۔ شہبازشریف کی زیادہ تر سمریوں کو مستردکردیتا ہوں میں ان کو وزیراعلیٰ نہیں مانتا اور نہ وہ آئینی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔
سپریم کورٹ سے کئی مرتبہ میڈیا کے ذریعے استدعا کی ہے کہ حکومت پنجاب کے معاملے پرکیس پرنظرڈالیں لیکن ابھی کامیابی نہیں ہوئی اور بطور گورنر میں عدالت نہیں جاسکتا۔میں تو پارٹی کا ایک ادنیٰ سا ورکر ہوں الیکشن تک گورنر ہوں یا نہیں اس کا مجھے پتہ نہیں ہے ۔سوئس حکام کو خط لکھنا کوئی مذاق نہیں ہے یہ بیس کروڑ پاکستانی عوام کی عزت کا معاملہ ہے صرف یہ نہ دیکھیں کہ صدرآصف زرداری ہیں یہ دیکھیں کہ صدر پاکستان کوایک تھرڈکلاس مجسٹریٹ کے سامنے کیسے پیش کرسکتے ہیں۔
ہم اگراپیل کربھی لیتے تو کیا فائدہ ہونا تھا۔یوسف رضاگیلانی کا وکیل اگر آسمان سے بھی آتا تو فیصلہ یہ ہی ہونا تھا اس سارے بحران کا ذمے دار بابر اعوان ہے جس نے سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے انکارکردیا۔پنجاب میں اس وقت لااینڈ آرڈر کی صورتحال بہت خراب ہوچکی ہے صرف لاہور میں عید پر ڈکیتیوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔لاہور کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اتفاق فائونڈریز کا سارا سریا لاہور میں لگ رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا کا تعلق بھی کھوسہ برادری سے ہے۔
ان خیالات کااظہارگورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے پروگرام تکرار میں اینکرپرسن عمران خان سے گفتگو میں کیا ۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ ابھی کئی پیر آنی ہیں ہم ویسے بھی پیر پرست لوگ ہیں ہمیں پیرکا روز اچھا لگتا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ عدالت دوسرے وزیراعظم کے ساتھ پہلے وزیراعظم جیساسلوک نہیں کرے گی۔ہم سپریم کورٹ کی بات مانتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی حدود اور قیود میں رہے۔
وزیراعظم کو سپریم کورٹ میں نہیں جانا چاہیے کیونکہ وہ سپریم کورٹ کو جوابدہ نہیں ہے۔ یوسف رضا گیلانی کے جانے کا فیصلہ پاکستان اور جمہوریت کی بھلائی کے لیے تسلیم کرلیا تھا ۔ ہم نے پنجاب حکومت کو گرنے نہیں دیا ہم چاہتے تو پنجاب حکومت کو گراسکتے تھے۔ شہبازشریف کی زیادہ تر سمریوں کو مستردکردیتا ہوں میں ان کو وزیراعلیٰ نہیں مانتا اور نہ وہ آئینی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔
سپریم کورٹ سے کئی مرتبہ میڈیا کے ذریعے استدعا کی ہے کہ حکومت پنجاب کے معاملے پرکیس پرنظرڈالیں لیکن ابھی کامیابی نہیں ہوئی اور بطور گورنر میں عدالت نہیں جاسکتا۔میں تو پارٹی کا ایک ادنیٰ سا ورکر ہوں الیکشن تک گورنر ہوں یا نہیں اس کا مجھے پتہ نہیں ہے ۔سوئس حکام کو خط لکھنا کوئی مذاق نہیں ہے یہ بیس کروڑ پاکستانی عوام کی عزت کا معاملہ ہے صرف یہ نہ دیکھیں کہ صدرآصف زرداری ہیں یہ دیکھیں کہ صدر پاکستان کوایک تھرڈکلاس مجسٹریٹ کے سامنے کیسے پیش کرسکتے ہیں۔
ہم اگراپیل کربھی لیتے تو کیا فائدہ ہونا تھا۔یوسف رضاگیلانی کا وکیل اگر آسمان سے بھی آتا تو فیصلہ یہ ہی ہونا تھا اس سارے بحران کا ذمے دار بابر اعوان ہے جس نے سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے انکارکردیا۔پنجاب میں اس وقت لااینڈ آرڈر کی صورتحال بہت خراب ہوچکی ہے صرف لاہور میں عید پر ڈکیتیوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔لاہور کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اتفاق فائونڈریز کا سارا سریا لاہور میں لگ رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا کا تعلق بھی کھوسہ برادری سے ہے۔