اخباری ملازمہ کے قاتلوں کو جلدگرفتار کر لیا جائیگا رانا ثنااللہ

40ہزار دے کر نوکری لی،چار ماہ کی تنخواہ مانگنے پر چھت سے دھکا دیا گیا، والد، بھائی، والدہ

40ہزار دے کر نوکری لی،چار ماہ کی تنخواہ مانگنے پر چھت سے دھکا دیا گیا، والد، بھائی، والدہ۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے کہاہے کہ مقامی اخبار اینٹی کرائم کی ملازمہ اور ہوسٹل سے گر کر ہلاک ہونے والی سیماب قتل ہوئی ہے جس کی ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ سیماب کے قتل میں عرفان اور امین نامی افراد ملوث ہیں جنھوں نے سیشن کورٹ سے ضمانت کرائی ہوئی ہے۔ یکم ستمبر کو سرکاری وکیل پیش ہوکر تمام حقائق عدالت کے سامنے لائے گا اور ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

پروگرام بات سے بات میں اینکر پرسن ماریہ ذوالفقار سے گفتگو میں انھوںنے کہاکہ سیماب کے خاندان کی مالی امداد کی جائے گی جبکہ والد کے علاج اور بھائی کی تعلیم کا خرچہ حکومت پنجاب کے ذمے ہوگا۔ جعلی قسم کے اخبار صحافت کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہیں انھیں بند ہونا چاہیے۔ سیماب کی کزن نے بتایا کہ ہم دونوں پبلک ڈیلنگ کرتی تھیں۔ 4 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی۔ عید کی وجہ سے فوری ادائیگی پر اصرار کیا تو دفتر کے عملے نے بدتمیزی کی اور کہاکہ ہوسٹل میں آکر بات کریں گے۔


ہم ہوسٹل آگئے اور حیات بھنڈر ہمارے پیچھے آگیا، اس نے سیماب سے کہاکہ تم مجھے دھمکی دے رہی تھی اور اس کے بعد اس نے سیماب کو دھکا دے دیا جس پر وہ چھت سے نیچے گر گئی اور میں نے باتھ روم میں خود کو لاک کرکے اپنی جان بچائی۔ سیماب کے بھائی نے بتایا کہ ہمیں ٹیلی فون پر سیماب نے کہاکہ ان کو یہ لوگ تنگ کررہے ہیں اور تنخواہ نہیں مل رہی ہم انھیں لینے لاہور گئے تھے، میں نے چھت پر حیات بھنڈر اور سیماب کو گفتگو کرتے دیکھا اور پھر اچانک اس نے سیماب کودھکا دے دیا اور وہ نیچے گر گئی۔

سیماب کی والدہ نے کہا کہ میرا بیمار شوہر اور بیٹا انھیں لینے گئے تھے۔ سیماب بہت اچھی تھی جس وقت اس کی جان لی گئی وہ روزے اور وضوسے تھی۔ اخبار میں اشتہار دیکھ کر ہم نے ناظم نامی آدمی سے رابطہ کیا تھا۔ سیماب اور اس کی کزن نزہت کی نوکری کے لیے قسطوں میں 40 ہزار اداکیے۔کینسر کے مرض میں مبتلا سیماب کے والد نے کہاکہ وہ میرا واحد سہارا تھی اور میرے علاج کی خاطر اس نے نوکری کی تھی۔ میری حکومت سے انصاف کی اپیل ہے کہ وہ قاتلوں کو سزا دی جائے۔

Recommended Stories

Load Next Story