ایکسپریس نیوز چینل اور روزنامہ ایکسپریس کے دفتر پر حملہ قابل مذمت

وزیراعظم نواز شریف نے ایکسپریس نیوز اور روزنامہ ایکسپریس کے دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ایکسپریس کے دفاتر کا دورہ کیا ۔فوٹو محمد ثاقب/ ایپریس

ISLAMABAD:
کراچی میں ایکسپریس میڈیا گروپ کی عمارت جہاں ایکسپریس نیوز چینل، روزنامہ ایکسپریس اور ڈیلی ایکسپریس ٹریبیون کے دفاتر ہیںپرجمعہ کو دہشت گردی کی بہیمانہ واردات ہوئی، جس میں دو موٹرسائیکلوں پر سوار 4 مسلح افراد کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے نتیجہ میں خاتون ورکر راحیلہ زہیر اور گارڈ میر علی زخمی ہوگئے، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچایا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے 38 فائر کیے جب کہ فائرنگ کے بعد بلوچ کالونی کی طرف فرار ہوئے، تاہم اس واقعے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اطلاع کے باوجود پولیس پون گھنٹے تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچی۔ وزیراعظم نواز شریف نے ایکسپریس نیوز اور روزنامہ ایکسپریس کے دفتر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا ہے، انھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کی تحقیقات کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایکسپریس نیوز اور روزنامہ ایکسپریس کے دفتر پر حملے کی مذمت کی اور متعلقہ اداروںسے اس افسوس ناک واقعے کی رپورٹ طلب کرلی جب کہ گورنر سندھ نے صوبائی انتظامیہ سے ایکسپریس نیوز اور روزنامہ ایکسپریس کے دفتر کی ایکسٹرنل سیکیورٹی بڑھانے کی فوری ہدایت کی ہے جب کہ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ایکسپریس کے دفاتر کا دورہ کیا اور واقعے پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ دوسری جانب واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی سمیت سیاسی، مذہبی اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت جاری کی گئی ہے۔


اگرچہ کسی تنظیم یا پریشر گروپ کی طرف سے حملہ کی تاحال ذمے داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم کراچی میں قتل و غارت کی اندوہ ناک صورتحال اور دہشت ناک وارداتوں اور ٹارگٹ کلنگ کے تسلسل کے پیش نظر اس امر میں اب کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی کہ منی پاکستان میں شہریوں کو جرم بے گناہی میں روز مارنے کی مشق ستم روا رکھنے والے نامعلوم عناصر اور میڈیا کی آواز دبانے اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے خواہاں جنونی اور سازشی قوتوں کی طرف سے ہی یہ بزدلانہ حملہ کیا گیا ہے جو آزاد پریس کا گلا دبانے کے مترادف ہے۔ یہ فسطائی پریشر گروپس، اور بے چہرہ قانون شکن عناصر ایکسپریس میڈیا گروپ کو سچ کہنے اور سچ دکھانے کی سزا دینے کے درپے ہیں اور ان کی کوشش رہی ہے کہ وہ ایکسپریس میڈیا گروپ کے ذریعے معروضیت، قرائنی و ٹھوس شواہد و حقیقت پر مبنی نیوز اور ویوز کا راستہ روکیں اور اپنے ایجنڈے اور مرضی و خواہشات کو قومی پریس پر مسلط کریں، چنانچہ اپنے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں آزادی اظہار و تحریر مخالف قوتوں نے جہاں ملک کے چاروں صوبوں میں صحافیوں کو قتل کرنے اور قلم کی آبرو پر جان نثار کرنے والے نڈر اہل صحافت کا غیر محسوس اور علانیہ محاصرہ کیا بلکہ ان کو ہلاک اور مسلسل دھمکیوں کی زد میں رکھا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو اہل صحافت کا مقتل قرار دیا جاتا ہے جہاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ مرد و خواتین صحافیوں اور اینکر پرسنز کوکھلے عام موت کی دھمکیاں ملتی ہیں اور قانون کی حکمرانی ایک دیوانے کا خواب معلوم ہوتی ہے۔ ایک متحرک اور عوام کو ہر خبر پر نظر رکھنے کے قومی کاز پر کاربند میڈیا گروپ کو دہشت گردوں نے جو پیغام دیا ہے اب ارباب اختیار اور میڈیا کے حقوق اور آزادانہ کردار کے تحفظ پر مامور اداروں اور صحافتی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ ان قوتوںکو روکیں جو قلم اور زبان کی حرمت اورحق و صداقت کی تشہیر و ترویج کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔

منی پاکستان کی اندوہ ناک اور غیر انسانی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث گروہوں کی ہلاکت خیزیوں کا ادراک کریں گی، سماجی شیرازہ بندی پر توجہ دیں گی، اور آزادی صحافت پر یلغار کرنے والی بربریت پر مبنی طاقتوں کی ہر محاذ اور فورم پر حوصلہ شکنی کریں گی۔ دہشت گردی ایک عفریت ہے اور ایک آزاد، غیر جانبدار چینل اور اخبار کے دفتر پر حملہ درحقیقت آزادی اظہار پر حملہ ہے، سچ کے چراغ کو بجھانے کی دیوانگی ہے۔ ہم اپنے قارئین اور ناظرین کو یقین دلاتے ہیں کہ ایکسپریس نیوز اور روزنامہ ایکسپریس کے کمیٹیڈ کارکن عوام کے اطلاع تک رسائی کے بنیادی جمہوری حق کی حمایت اور عملی معاونت میںتشدد، فسطائیت اور قاتلانہ حملوں کے خلاف اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حملے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
Load Next Story