امریکا اور ایران کے بڑھتے ہوئے اختلافات
ایران اور امریکا کے درمیان محاذ آرائی پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان محاذ آرائی پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ فوٹو:فائل
امریکا کا صدر بننے سے قبل اپنی انتخابی مہم میں ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دل کا غبار نکالنا شروع کر دیا تھا ، اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی اور سابق صدر بارک اوباما نے ایران کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اسے سبوتاژ کردیا۔اب صدر ٹرمپ نے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یوں ایران اور امریکا کے درمیان محاذ آرائی پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان اختلاف ایرانی انقلاب کے بعد ہی شروع ہوگئے تھے۔ نئی ایرانی انقلابی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو مظاہرین نے تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر لیا اور تمام امریکی سفارتکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا اور ایران کے مابین شدید ترین دشمنی کی بنیاد رکھی گئی اور بعد میں امریکا نے ایران پر گوناگوں اقتصادی تجارتی اور ثقافتی پابندیاں عائد کر دیں اور ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگا کر ایران کا ناطقہ پوری طرح بند کرنے کی کوشش کی گئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں ایران پر پے در پے پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے رہے۔ اب امریکا اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا اورصدر ٹرمپ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔
ایران کے خلاف سخت اقدامات کے اشارے تو اسی وقت مل گئے تھے جب گزشتہ برس صدر ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو توڑنے کا اعلان کر دیا تھا ۔صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ظاہر کر رہا تھا کہ اب دونوں ملک شاید قریب نہ آسکیں لیکن ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد صورتحال خاصی سنگین ہوگئی ہے۔ امریکا کے اس اعلان کے بعد لگتا یہ ہے کہ امریکا میں جنگ و جدل کی حامی لابی کامیاب ہوئی ہے۔
واضح رہے یہ امریکی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ اس نے کسی غیرملکی فوجی تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا ہے۔ پاسداران انقلاب کا قیام اسلامی انقلاب کی ہنگامہ خیزی کے دوران عمل میں آیا تھا، اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں نئی اسلامک اسٹیبلشمنٹ کے بنیادی مقاصد کی حفاظت اور پاسداری کرنا تھا۔ادھر نیتن یاہو جو اپنی پانچویں ٹرم کے لیے انتخابی میدان میں اترے ہیں انھوں نے پاسداران انقلاب پر امریکی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسرائیل کے مقاصد واضح ہیں۔ بہرحال نئے امریکی فیصلے کے مشرق وسطیٰ اور اردگرد کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
یہ خطہ پہلے ہی جنگ سے متاثر ہے، یہاں شام ، عراق اور یمن کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، یہ خطہ کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ امریکا اور ایران کے بڑھتے ہوئے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اگر معاملات کسی مہم جوئی کی طرف گئے تو یہ عالمی امن کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔پاکستان کو بھی بدلتی ہوئی صورتحال پرگہری نظر رکھنی چاہیے۔
ایران اور امریکا کے درمیان اختلاف ایرانی انقلاب کے بعد ہی شروع ہوگئے تھے۔ نئی ایرانی انقلابی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو مظاہرین نے تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ کر لیا اور تمام امریکی سفارتکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا اور ایران کے مابین شدید ترین دشمنی کی بنیاد رکھی گئی اور بعد میں امریکا نے ایران پر گوناگوں اقتصادی تجارتی اور ثقافتی پابندیاں عائد کر دیں اور ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگا کر ایران کا ناطقہ پوری طرح بند کرنے کی کوشش کی گئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں ایران پر پے در پے پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے رہے۔ اب امریکا اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا اورصدر ٹرمپ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔
ایران کے خلاف سخت اقدامات کے اشارے تو اسی وقت مل گئے تھے جب گزشتہ برس صدر ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو توڑنے کا اعلان کر دیا تھا ۔صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ظاہر کر رہا تھا کہ اب دونوں ملک شاید قریب نہ آسکیں لیکن ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد صورتحال خاصی سنگین ہوگئی ہے۔ امریکا کے اس اعلان کے بعد لگتا یہ ہے کہ امریکا میں جنگ و جدل کی حامی لابی کامیاب ہوئی ہے۔
واضح رہے یہ امریکی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ اس نے کسی غیرملکی فوجی تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا ہے۔ پاسداران انقلاب کا قیام اسلامی انقلاب کی ہنگامہ خیزی کے دوران عمل میں آیا تھا، اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں نئی اسلامک اسٹیبلشمنٹ کے بنیادی مقاصد کی حفاظت اور پاسداری کرنا تھا۔ادھر نیتن یاہو جو اپنی پانچویں ٹرم کے لیے انتخابی میدان میں اترے ہیں انھوں نے پاسداران انقلاب پر امریکی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسرائیل کے مقاصد واضح ہیں۔ بہرحال نئے امریکی فیصلے کے مشرق وسطیٰ اور اردگرد کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
یہ خطہ پہلے ہی جنگ سے متاثر ہے، یہاں شام ، عراق اور یمن کی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، یہ خطہ کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ امریکا اور ایران کے بڑھتے ہوئے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اگر معاملات کسی مہم جوئی کی طرف گئے تو یہ عالمی امن کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔پاکستان کو بھی بدلتی ہوئی صورتحال پرگہری نظر رکھنی چاہیے۔