شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن قبائلیوں کی نقل مکانی
امن معاہدہ برقراراورپاسداری کی جارہی ہے،مولوی عبدالرحمن،حالات کنٹرول سے باہرہوجائیں گے،اکرم درانی،تحریک چلانے کااعلان
امن معاہدہ برقراراورپاسداری کی جارہی ہے،مولوی عبدالرحمن،حالات کنٹرول سے باہرہوجائیں گے،اکرم درانی،تحریک چلانے کااعلان. فوٹو اے ایف پی
شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کے باعث قبائلیوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی جبکہ قبائلی عمائدین اور علما کے جرگے نے دھمکی دی ہے کہ اگرحکومت نے آپریشن کی غلطی کی تو وہ افغانستان ہجرت کرجائینگے،جے یوآئی (ف) نے ممکنہ آپریشن کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔
آن لائن کے مطابق شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف ممکنہ آپریشن کے خوف سے لوگ اپنا گھر بارچھوڑ کرمحفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں اور مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر مشتمل قافلے مختلف علاقوں کی طرف جارہے ہیں جبکہ پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایجنسی میں آپریشن نہیں ہو رہا، فوج سرحدوں کی سیکیورٹی کے لیے تعینات ہے، لوگ ازخود گھر چھوڑ کرجا رہے ہیں۔
ادھرشمالی وزیر ستان میں قبائلی عمائدین اور علما کا جرگہ ہوا ، جرگے سے خطاب میں مولوی عبد الرحمن نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں امن معاہدہ برقرار ہے اوراس کی پاسداری کی جارہی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آپریشن کی غلطی کی تو وہ افغانستان ہجرت کرجائیں گے، انھوں نے کہا یہ اسلامی مدرسہ ، شوریٰ وزیرستان ،قبائلی عمائدین اور علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ہے۔
دریں اثنا بنوں میں جلسے سے خطاب میں جے یوآئی (ف) کے رہنما اکرم خان درانی نے شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کیخلاف تحریک چلانے کا اعلا ن کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے امن معاہدے ختم ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے حالات کنٹرول سے باہر ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جے یوآئی نیٹو سپلائی بحال ہونے دیگی نہ وزیرستان آپریشن کی اجازت دیگی، حکومت نے اگر امریکی ایما پرایسا کیا تواسکے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
آن لائن کے مطابق شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف ممکنہ آپریشن کے خوف سے لوگ اپنا گھر بارچھوڑ کرمحفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں اور مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر مشتمل قافلے مختلف علاقوں کی طرف جارہے ہیں جبکہ پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایجنسی میں آپریشن نہیں ہو رہا، فوج سرحدوں کی سیکیورٹی کے لیے تعینات ہے، لوگ ازخود گھر چھوڑ کرجا رہے ہیں۔
ادھرشمالی وزیر ستان میں قبائلی عمائدین اور علما کا جرگہ ہوا ، جرگے سے خطاب میں مولوی عبد الرحمن نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں امن معاہدہ برقرار ہے اوراس کی پاسداری کی جارہی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آپریشن کی غلطی کی تو وہ افغانستان ہجرت کرجائیں گے، انھوں نے کہا یہ اسلامی مدرسہ ، شوریٰ وزیرستان ،قبائلی عمائدین اور علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ ہے۔
دریں اثنا بنوں میں جلسے سے خطاب میں جے یوآئی (ف) کے رہنما اکرم خان درانی نے شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کیخلاف تحریک چلانے کا اعلا ن کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے امن معاہدے ختم ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے حالات کنٹرول سے باہر ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جے یوآئی نیٹو سپلائی بحال ہونے دیگی نہ وزیرستان آپریشن کی اجازت دیگی، حکومت نے اگر امریکی ایما پرایسا کیا تواسکے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔