اسلام آباد ڈرامے کا ڈراپ سین
اسلام آباد میں ریڈزون کے قریب ساڑھے پانچ گھنٹے کا اعصاب شکن ڈرامہ بڑے سنسنی خیزانداز میں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے اور شرعی تقاضوں کے مطابق الیکشن دوبارہ کرائے جائیں، سکندر فوٹو : اے پی پی
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریڈزون کے قریب ساڑھے پانچ گھنٹے کا اعصاب شکن ڈرامہ بڑے سنسنی خیزانداز میں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔پورے ملک کو ہیجان میں مبتلا رکھنے والے مسلح شخص کو پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان کی بہادری کے باعث زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جب کہ اس کے بیوی بچوں کو بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔ زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے شخص کا نام سکندر ہے۔ جمعرات کی شام پونے 6 بجے کے قریب اس نے ایک کالی رنگ کی کار اوجی ڈی سی ایل ہیڈکوارٹرز کے قریب گرین بیلٹ پر چڑھا دی ، اس سے پہلے کہ پولیس اس تک پہنچتی اور اسے گرفتار کرتی اس نے جدید ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔اس کار میں اس کی بیوی کنول اور دو بچے بھی سوار تھے۔یوں اس ڈرامے کا آغاز ہوا جو پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔
گرفتار ہونے والے شخص کا کسی تنظیم یا گروپ سے کوئی تعلق ہے'اس کے بارے میں تاحال کوئی حتمی بات سامنے نہیں آ سکی تاہم پولیس اور میڈیا کے ساتھ ہونے والی گفتگومیں اس نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے اور شرعی تقاضوں کے مطابق الیکشن دوبارہ کرائے جائیں ، مسلمان فوج نہ اٹھی تو رسوائی کا ٹیکہ لگنے والا ہے، مجھے کوئی نقصان پہنچا تو میں خود تو مروں گا اور سب کو ساتھ لے کر مروں گا ۔ سکندر کی بیوی کنول نے کہا کہ ہم مسائل سے تب نکلیں گے جب ہم مسلمان اکٹھے ہوں گے، ایس ایس پی سے بات ہوئی ہے اور ہم نے مطالبات لکھ کر دیے ہیں، جن میں دین کا نفاذ اور اسلامی طریقے سے دوبارہ الیکشن کرانا شامل ہیں۔ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرفتار ہونے والاشخص ایک مخصوص سوچ اور فکر کا حامل ہے اور ممکن ہے کہ اس کا کسی انتہا پسند تنظیم یا گروپ سے تعلق ہے۔
اس کی بیوی کے خیالات کا جائزہ لیںتو یہی چیز سامنے آتی ہے کہ وہ بھی اپنے خاوند جیسے ہی خیالات کی حامل ہے۔یہ واقعہ یا ڈرامہ اختتام پذیرہو چکا ہے اور اس کا مرکزی کردار حراست میں ہے۔اس سے پوچھ گچھ ہو گی تواصل حقائق سامنے آئیں گے مگر اس سارے معاملے میں ایک حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ اسلام آباد پولیس اس شخص پر جلد قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اس سارے ڈرامے کی چوں کہ میڈیا پر لائیو کوریج جاری تھی' اس لیے یہ سارا کھیل پورے پاکستان کے عوام نے دیکھا ہے۔ممکن ہے پولیس نے اس شخص کے خلاف فوری کارروائی اس لیے نہ کی ہو کہ کہیںاس کے بچوں اور بیوی کو نقصان نہ پہنچے لیکن یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ وہ شخص تنہا تھا اور اس کے ساتھ کوئی مسلح لوگ نہیں تھے۔ سیکیورٹی حکام نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ اسے اسنائپر کے ذریعے نشانہ بنانا بظاہر کوئی مشکل نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے باوجود اسے گرفتار کرنے یا اسے نشانہ بنانے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی 'اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا کہ اسلام آباد کے ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر رضوان نے اس شخص سے تین بار مذاکرات کیے۔
اس دوران ایس ایس پی غیر مسلح تھے۔ یہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کراچی سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول بھی وہاں پہنچے اورمسلح شخص سے مذاکرات کیے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ان کے بعد آخر میں پیپلز پارٹی راولپنڈی اسلام آباد کے رہنما زمرد خان وہاں پہنچے 'اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ پوری قوم نے ٹی وی اسکرینوں پر خود دیکھاہے۔ بلاشبہ مسلح شخص سے نہتے ہو کر مذاکرات کرنے والے ایس ایس پی 'رکن قومی اسمبلی نبیل گبول انھیں جرات کا مظاہرہ کیا۔اسی طرح زمرد خان نے بھی بہادری دکھائی اور بالآخر یہ اعصاب شکن کھیل مسلح شخص کی گرفتاری پر ختم ہوالیکن یہ واقعہ بہت سے سوال چھوڑ گیا ہے۔ اس سے ایک حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان میں پولیس کی تربیت ایسے خطوط پر نہیں کی جا رہی جس کے بل بوتے پر وہ اس قسم کے ہنگامی معاملات پر تیزی سے ایکشن کر سکے۔
امریکا 'برطانیہ 'فرانس' اٹلی اور لاطینی امریکا کے بعض ملکوں میں ایسے مافیاز کام کر رہے ہیں جو جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور ان کے ارکان عسکری نوعیت کی تربیت رکھتے ہیں۔ ان ملکوں کی پولیس ایسے گینگز کا مقابلہ کامیابی سے کرتی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی اور جرائم مافیا سے نمٹنے کے لیے پولیس کی ذہنی تربیت کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی فوجی انداز میں ٹریننگ کی گئی۔ ان کے پاس اسلحہ بھی جدید نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ہنگامی نوعیت کے کیس میں جہاں ہلاکت کا خطرہ ہو 'وہاں ایکشن کرنے کا حکم کس نے دینا ہے ' اس قسم کی قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ بعض ان اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے جنھوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان کو مسلح شخص تک پہنچنے کی اجازت دی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بھی اگلے روز پریس کانفرنس میں کچھ وضاحتیں اور باتیں کی ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ ہیں لیکن اصل کام یہ ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص سے تفتیش کی جائے اور اس بات کا پتہ چلایا جائے کہ اس نے یہ کام کیو ں کیا۔کہیں اس کے پیچھے کوئی انتہا پسند گروپ تو نہیں ؟اس نے جو ڈرامہ کیا 'یہ اس کے اپنے ذہن کی پیدا وار تھا یا کسی ماسٹر مائنڈ کا ۔پاکستان جن حالات سے دوچار ہے 'ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے انتہائی زیرکی 'معاملہ فہمی اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔ برسراقتدار حکومت کو ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اورلاقانونیت کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ایک شخص نے ساڑھے پانچ گھنٹے تک وفاقی دارالحکومت کی انتظامی مشینری کو بے بس کیے رکھا۔ کل کو کوئی اور شخص اس سے بھی بڑھ کر ڈرامے بازی کر سکتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت تمام مصلحتوں اور نظریاتی نوعیت کے ابہام کو ختم کرے اور قانون شکن عناصر 'گروپوں اور ان کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کا میکنزم تیار کرے اور پھر ان لوگوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے۔اگر اب بھی چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کی پالیسی برقرار رہی تو پھر کسی اور ڈرامے کے لیے تیار رہیں اور ممکن ہے کہ یہ ڈرامہ بہت ہی المناک ہو۔
گرفتار ہونے والے شخص کا کسی تنظیم یا گروپ سے کوئی تعلق ہے'اس کے بارے میں تاحال کوئی حتمی بات سامنے نہیں آ سکی تاہم پولیس اور میڈیا کے ساتھ ہونے والی گفتگومیں اس نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے اور شرعی تقاضوں کے مطابق الیکشن دوبارہ کرائے جائیں ، مسلمان فوج نہ اٹھی تو رسوائی کا ٹیکہ لگنے والا ہے، مجھے کوئی نقصان پہنچا تو میں خود تو مروں گا اور سب کو ساتھ لے کر مروں گا ۔ سکندر کی بیوی کنول نے کہا کہ ہم مسائل سے تب نکلیں گے جب ہم مسلمان اکٹھے ہوں گے، ایس ایس پی سے بات ہوئی ہے اور ہم نے مطالبات لکھ کر دیے ہیں، جن میں دین کا نفاذ اور اسلامی طریقے سے دوبارہ الیکشن کرانا شامل ہیں۔ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرفتار ہونے والاشخص ایک مخصوص سوچ اور فکر کا حامل ہے اور ممکن ہے کہ اس کا کسی انتہا پسند تنظیم یا گروپ سے تعلق ہے۔
اس کی بیوی کے خیالات کا جائزہ لیںتو یہی چیز سامنے آتی ہے کہ وہ بھی اپنے خاوند جیسے ہی خیالات کی حامل ہے۔یہ واقعہ یا ڈرامہ اختتام پذیرہو چکا ہے اور اس کا مرکزی کردار حراست میں ہے۔اس سے پوچھ گچھ ہو گی تواصل حقائق سامنے آئیں گے مگر اس سارے معاملے میں ایک حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ اسلام آباد پولیس اس شخص پر جلد قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اس سارے ڈرامے کی چوں کہ میڈیا پر لائیو کوریج جاری تھی' اس لیے یہ سارا کھیل پورے پاکستان کے عوام نے دیکھا ہے۔ممکن ہے پولیس نے اس شخص کے خلاف فوری کارروائی اس لیے نہ کی ہو کہ کہیںاس کے بچوں اور بیوی کو نقصان نہ پہنچے لیکن یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ وہ شخص تنہا تھا اور اس کے ساتھ کوئی مسلح لوگ نہیں تھے۔ سیکیورٹی حکام نے اسے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ اسے اسنائپر کے ذریعے نشانہ بنانا بظاہر کوئی مشکل نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے باوجود اسے گرفتار کرنے یا اسے نشانہ بنانے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی 'اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا کہ اسلام آباد کے ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر رضوان نے اس شخص سے تین بار مذاکرات کیے۔
اس دوران ایس ایس پی غیر مسلح تھے۔ یہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کراچی سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول بھی وہاں پہنچے اورمسلح شخص سے مذاکرات کیے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ان کے بعد آخر میں پیپلز پارٹی راولپنڈی اسلام آباد کے رہنما زمرد خان وہاں پہنچے 'اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ پوری قوم نے ٹی وی اسکرینوں پر خود دیکھاہے۔ بلاشبہ مسلح شخص سے نہتے ہو کر مذاکرات کرنے والے ایس ایس پی 'رکن قومی اسمبلی نبیل گبول انھیں جرات کا مظاہرہ کیا۔اسی طرح زمرد خان نے بھی بہادری دکھائی اور بالآخر یہ اعصاب شکن کھیل مسلح شخص کی گرفتاری پر ختم ہوالیکن یہ واقعہ بہت سے سوال چھوڑ گیا ہے۔ اس سے ایک حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان میں پولیس کی تربیت ایسے خطوط پر نہیں کی جا رہی جس کے بل بوتے پر وہ اس قسم کے ہنگامی معاملات پر تیزی سے ایکشن کر سکے۔
امریکا 'برطانیہ 'فرانس' اٹلی اور لاطینی امریکا کے بعض ملکوں میں ایسے مافیاز کام کر رہے ہیں جو جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور ان کے ارکان عسکری نوعیت کی تربیت رکھتے ہیں۔ ان ملکوں کی پولیس ایسے گینگز کا مقابلہ کامیابی سے کرتی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی اور جرائم مافیا سے نمٹنے کے لیے پولیس کی ذہنی تربیت کی گئی ہے اور نہ ہی ان کی فوجی انداز میں ٹریننگ کی گئی۔ ان کے پاس اسلحہ بھی جدید نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ہنگامی نوعیت کے کیس میں جہاں ہلاکت کا خطرہ ہو 'وہاں ایکشن کرنے کا حکم کس نے دینا ہے ' اس قسم کی قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ بعض ان اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے جنھوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان کو مسلح شخص تک پہنچنے کی اجازت دی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بھی اگلے روز پریس کانفرنس میں کچھ وضاحتیں اور باتیں کی ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ ہیں لیکن اصل کام یہ ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص سے تفتیش کی جائے اور اس بات کا پتہ چلایا جائے کہ اس نے یہ کام کیو ں کیا۔کہیں اس کے پیچھے کوئی انتہا پسند گروپ تو نہیں ؟اس نے جو ڈرامہ کیا 'یہ اس کے اپنے ذہن کی پیدا وار تھا یا کسی ماسٹر مائنڈ کا ۔پاکستان جن حالات سے دوچار ہے 'ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے انتہائی زیرکی 'معاملہ فہمی اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔ برسراقتدار حکومت کو ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اورلاقانونیت کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ایک شخص نے ساڑھے پانچ گھنٹے تک وفاقی دارالحکومت کی انتظامی مشینری کو بے بس کیے رکھا۔ کل کو کوئی اور شخص اس سے بھی بڑھ کر ڈرامے بازی کر سکتا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت تمام مصلحتوں اور نظریاتی نوعیت کے ابہام کو ختم کرے اور قانون شکن عناصر 'گروپوں اور ان کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کا میکنزم تیار کرے اور پھر ان لوگوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے۔اگر اب بھی چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کی پالیسی برقرار رہی تو پھر کسی اور ڈرامے کے لیے تیار رہیں اور ممکن ہے کہ یہ ڈرامہ بہت ہی المناک ہو۔