گلبائی فلائی اوور پر آئل ٹینکر میں ہولناک آتشزدگی
ابتدائی اطلاع کے مطابق آئل ٹینکر اوورٹیکنگ کرتے ہوئے الٹ گیا جس میں 40 ہزار گیلن ڈیزل موجود تھا۔
ابتدائی اطلاع کے مطابق آئل ٹینکر اوورٹیکنگ کرتے ہوئے الٹ گیا جس میں 40 ہزار گیلن ڈیزل موجود تھا۔ فوٹو: فائل
کراچی کے صنعتی علاقہ شیرشاہ میں گلبائی کے فلائی اوور پر ڈیزل ٹینکر الٹنے سے ہولناک آگ لگی، خدا کا شکر ہے کہ اس مصروف ترین شاہراہ پر ٹریفک کا فلو کم تھا ، اس لیے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم تین نمبر کی آگ پر بڑی کوششوں کے بعد قابو پالیا گیا۔ ابتدائی اطلاع کے مطابق آئل ٹینکر اوورٹیکنگ کرتے ہوئے الٹ گیا جس میں 40 ہزار گیلن ڈیزل موجود تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔آگ لگنے سے فلائی اوور کے نیچے گودام، 5 گاڑیاں اور 2 موٹر سائیکلیں متاثر ہوئیں، حادثے کے بعد ڈیزل ٹینکر اور ٹرالر کے ڈرائیور فرار ہو گئے، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔آگ پر ساڑھے 3 گھنٹے سے زائد وقت کی جدو جہد کے بعد قابو پالیا گیا، آگ بجھانے میں پاکستان ایئر فورس کے 2 فائر ٹینڈرز سمیت 9فائر ٹینڈرز اور 4 واٹرباؤزرز نے حصہ لیا اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔
پولیس کے مطابق آئل ٹینکر نمبر ٹی ایل این 895 کے مالک کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ سانحہ کے فوری بعد ڈرائیور فرار ہوگیا۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اگر آئل ٹینکر تیزرفتاری کے بعد الٹتا اور ریلنگ توڑتا ہوا نیچے گرجاتا تو بڑی تباہی مچ جاتی، واضح رہے علاقے کے لوگوں نے مقامی انتظامیہ سے متعدد بار مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکروں اور ہیوی وہیکلز ٹرانسپورٹ کا صبح کے وقت سڑکوں پر آنا ممنوع قراردیا جائے۔ ان کی وجہ سے آئی سی آئی برج پر ٹریفک جام ہونا معمول بن گیا ہے۔
واضح رہے 2 سال قبل پنجاب کے شہر احمد پور شرقیہ میں پیش آنے والے حادثے میں آئل ٹینکر الٹنے سے گرنے والے پیٹرول نے آگ پکڑ لی تھی، اس حادثے کے نتیجے میں تقریباً 200 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔آگ لگنے سے فلائی اوور کے نیچے گودام، 5 گاڑیاں اور 2 موٹر سائیکلیں متاثر ہوئیں، حادثے کے بعد ڈیزل ٹینکر اور ٹرالر کے ڈرائیور فرار ہو گئے، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔آگ پر ساڑھے 3 گھنٹے سے زائد وقت کی جدو جہد کے بعد قابو پالیا گیا، آگ بجھانے میں پاکستان ایئر فورس کے 2 فائر ٹینڈرز سمیت 9فائر ٹینڈرز اور 4 واٹرباؤزرز نے حصہ لیا اور اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔
پولیس کے مطابق آئل ٹینکر نمبر ٹی ایل این 895 کے مالک کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ سانحہ کے فوری بعد ڈرائیور فرار ہوگیا۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اگر آئل ٹینکر تیزرفتاری کے بعد الٹتا اور ریلنگ توڑتا ہوا نیچے گرجاتا تو بڑی تباہی مچ جاتی، واضح رہے علاقے کے لوگوں نے مقامی انتظامیہ سے متعدد بار مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکروں اور ہیوی وہیکلز ٹرانسپورٹ کا صبح کے وقت سڑکوں پر آنا ممنوع قراردیا جائے۔ ان کی وجہ سے آئی سی آئی برج پر ٹریفک جام ہونا معمول بن گیا ہے۔
واضح رہے 2 سال قبل پنجاب کے شہر احمد پور شرقیہ میں پیش آنے والے حادثے میں آئل ٹینکر الٹنے سے گرنے والے پیٹرول نے آگ پکڑ لی تھی، اس حادثے کے نتیجے میں تقریباً 200 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔