ناصر ادیب ہر موضوع پر اسکرپٹ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں
ان کے لکھے کردار سلطان راہی نے آخری سانس تک بخوبی نبھائے۔
ناصر ادیب کو سوشل اور کمرشل سمیت ہر موضوع پر ایک جاندار اسکرپٹ لکھنے کا ہنر بخوبی آتا ہے۔ فوٹو: فائل
ناصر ادیب کا نام مصنف ومکالمہ نویس کی حیثیت سے مقبولیت اور شہرت کا حامل ہے ۔
جب فلم ''بشیرا'' ہٹ ہوئی تو اس کے بعد ''وحشی جٹ '' اور ''مولاجٹ'' ٹائپ کی فلموں کا عروج ہوا تو فلمسازوں نے اس تخلیق کار کو اسی قسم کی کہانیاں اور مکالمے لکھنے پر مجبور کردیا ۔ اسی رحجان نے اس رائٹر کو قتل و غارت گری ، قانون شکنی اور جبرو تشدد کا ''سمبل'' بنا دیا ۔ اس کے اندر جو ایک فنکار تھا اسے لاٹھیوں ، کلہاڑیوں ، گنڈاسوں اور بندوقوں نے باہر ہی نہیں آنے دیا ۔ان کے لکھے کردار سلطان راہی نے آخری سانس تک بخوبی نبھائے ۔سلطان راہی کے انتقال کے بعد یہ ذمے داری شان ، سعود، معمر رانا کے ناتواں کندھوں پر ڈالی گئی مگر وہ یہ بوجھ زیادہ دیر برداشت نہ کرسکے جب کہ دوسری طرف فلم بینوں کا مزاج بھی الیکٹرانک میڈیا اور اسٹیلائیٹس چینلز نے بدل کر رکھ دیا ۔
جہاں تک ناصر ادیب کی تخلیقی صلاحیتوں کا تعلق ہے وہ ایک بہترین رائٹر ہیں جنھیں سوشل اور کمرشل سمیت ہر موضوع پر ایک جاندار اسکرپٹ لکھنے کا ہنر بخوبی آتا ہے۔ انھوں نے اس کا ثبوت فلم ''یہ آدم'' بنا کر دیا جو ایک مکمل سوشل فلم تھی ۔انھوں نے صرف رائٹر ہی نہیں بلکہ بطور ڈائریکٹر بھی روٹین سے ہٹ کر ''دنیا دیکھے گی'' ، ''دشمن زندہ رہے '' اور '' دیکھا جائے گا'' جیسی فلمیں بناکر لوہا منوایا جب کہ ایک فلم ''سورج برسائے پھول'' بھی ریلیز کیلیے تیار ہے مگر بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر ابھی تک نمائش نہیں ہوسکی جس میں انھوں نے نام نہاد سپراسٹارز کی بجائے نئے چہروں کو متعارف کروایاہے۔
ہدایتکار یونس ملک کے ساتھ ''مولا جٹ'' ، ''شعلے'' ، '' خان اعظم'' ، ''امیر خان'' ، '' شیر خان'' ، '' جٹ دا کھڑاک''، '' کالا طوفان'' ، '' خون اور پانی'' ، ''جگا ڈاکو'' اور ''جٹ دا ویر'' کیں۔ ہدایتکار مسعودبٹ کی فلموں ''خداگواہ'' ، '' انصاف ہو تو ایسا'' ، '' جسے دے مولا'' ، ''صوبے خان'' ، '' ڈاکو چور سپاہی'' ، ''نیلم '' ، '' وارث'' ، ''چکوری'' ، '' بلو بادشاہ'' ، ''ہتھیار'' اور ''جنگل کا قانون'' کے علاوہ ''ناگ دیوتا'' کا اسکرین پلے اور مکالمے بھی ناصر ادیب ہی نے تحریر کیے تھے۔ ہدایتکار کیفی کی فلموں ''شاہ بہرام '' ، '' ملے گا ظلم دا بدلہ'' ، '' جی دار'' اور ''حق سچ'' ، ہدایتکار حیدر چوہدری کے لیے ''ہوشیار'' ، '' چور سپاہی'' ، ہدایتکارہ سنگیتا کے لیے ''جیت '' اور ''دوبوند پانی'' ، ہدایتکار رحمت کے لیے ''انسانیت کے دشمن'' لکھیں ۔
ان کے علاوہ ''لیلی مجنوں'' ، ''بے اولاد'' ، ''روشن جٹ'' ، '' خاندان'' ، '' ہلاکو تے خان'' ، '' چن وریام'' ، '' حق مہر'' ، '' جابر خان'' ،'' قرض'' ، '' ڈنڈے دا دور'' ، '' آتش'' ، ''کون شریف کون بدمعاش'' ، ''لاہوری بادشاہ'' ، '' میرا ناں مچلے خاں'' ، '' رب تے ماں'' ، '' بدمعاشی بند'' ، '' پروا ہ نیئں'' ، '' ناگن سپیرا'' ، '' کالا روپیہ''، '' چنگیز خان'' ، ''اچا شملہ جٹ دا '' نامی فلموں کے مصنف ناصر ادیب ہی تھے۔
جب فلم ''بشیرا'' ہٹ ہوئی تو اس کے بعد ''وحشی جٹ '' اور ''مولاجٹ'' ٹائپ کی فلموں کا عروج ہوا تو فلمسازوں نے اس تخلیق کار کو اسی قسم کی کہانیاں اور مکالمے لکھنے پر مجبور کردیا ۔ اسی رحجان نے اس رائٹر کو قتل و غارت گری ، قانون شکنی اور جبرو تشدد کا ''سمبل'' بنا دیا ۔ اس کے اندر جو ایک فنکار تھا اسے لاٹھیوں ، کلہاڑیوں ، گنڈاسوں اور بندوقوں نے باہر ہی نہیں آنے دیا ۔ان کے لکھے کردار سلطان راہی نے آخری سانس تک بخوبی نبھائے ۔سلطان راہی کے انتقال کے بعد یہ ذمے داری شان ، سعود، معمر رانا کے ناتواں کندھوں پر ڈالی گئی مگر وہ یہ بوجھ زیادہ دیر برداشت نہ کرسکے جب کہ دوسری طرف فلم بینوں کا مزاج بھی الیکٹرانک میڈیا اور اسٹیلائیٹس چینلز نے بدل کر رکھ دیا ۔
جہاں تک ناصر ادیب کی تخلیقی صلاحیتوں کا تعلق ہے وہ ایک بہترین رائٹر ہیں جنھیں سوشل اور کمرشل سمیت ہر موضوع پر ایک جاندار اسکرپٹ لکھنے کا ہنر بخوبی آتا ہے۔ انھوں نے اس کا ثبوت فلم ''یہ آدم'' بنا کر دیا جو ایک مکمل سوشل فلم تھی ۔انھوں نے صرف رائٹر ہی نہیں بلکہ بطور ڈائریکٹر بھی روٹین سے ہٹ کر ''دنیا دیکھے گی'' ، ''دشمن زندہ رہے '' اور '' دیکھا جائے گا'' جیسی فلمیں بناکر لوہا منوایا جب کہ ایک فلم ''سورج برسائے پھول'' بھی ریلیز کیلیے تیار ہے مگر بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر ابھی تک نمائش نہیں ہوسکی جس میں انھوں نے نام نہاد سپراسٹارز کی بجائے نئے چہروں کو متعارف کروایاہے۔
ہدایتکار یونس ملک کے ساتھ ''مولا جٹ'' ، ''شعلے'' ، '' خان اعظم'' ، ''امیر خان'' ، '' شیر خان'' ، '' جٹ دا کھڑاک''، '' کالا طوفان'' ، '' خون اور پانی'' ، ''جگا ڈاکو'' اور ''جٹ دا ویر'' کیں۔ ہدایتکار مسعودبٹ کی فلموں ''خداگواہ'' ، '' انصاف ہو تو ایسا'' ، '' جسے دے مولا'' ، ''صوبے خان'' ، '' ڈاکو چور سپاہی'' ، ''نیلم '' ، '' وارث'' ، ''چکوری'' ، '' بلو بادشاہ'' ، ''ہتھیار'' اور ''جنگل کا قانون'' کے علاوہ ''ناگ دیوتا'' کا اسکرین پلے اور مکالمے بھی ناصر ادیب ہی نے تحریر کیے تھے۔ ہدایتکار کیفی کی فلموں ''شاہ بہرام '' ، '' ملے گا ظلم دا بدلہ'' ، '' جی دار'' اور ''حق سچ'' ، ہدایتکار حیدر چوہدری کے لیے ''ہوشیار'' ، '' چور سپاہی'' ، ہدایتکارہ سنگیتا کے لیے ''جیت '' اور ''دوبوند پانی'' ، ہدایتکار رحمت کے لیے ''انسانیت کے دشمن'' لکھیں ۔
ان کے علاوہ ''لیلی مجنوں'' ، ''بے اولاد'' ، ''روشن جٹ'' ، '' خاندان'' ، '' ہلاکو تے خان'' ، '' چن وریام'' ، '' حق مہر'' ، '' جابر خان'' ،'' قرض'' ، '' ڈنڈے دا دور'' ، '' آتش'' ، ''کون شریف کون بدمعاش'' ، ''لاہوری بادشاہ'' ، '' میرا ناں مچلے خاں'' ، '' رب تے ماں'' ، '' بدمعاشی بند'' ، '' پروا ہ نیئں'' ، '' ناگن سپیرا'' ، '' کالا روپیہ''، '' چنگیز خان'' ، ''اچا شملہ جٹ دا '' نامی فلموں کے مصنف ناصر ادیب ہی تھے۔