کشمیر پر مذاکرات امن کی کلید
خطے کی تاریخ میں پہلی بار مسئلہ کشمیربہ انداز دگر عالمی منظر نامہ پر ابھرکر آیا ہے۔
خطے کی تاریخ میں پہلی بار مسئلہ کشمیربہ انداز دگر عالمی منظر نامہ پر ابھرکر آیا ہے۔ فوٹو:فائل
غیرملکی صحافیوں ، پاکستان میں تعینات کئی ممالک کے سفیروں اور دفاعی اتاشیوں نے بالاکوٹ کے قریبی علاقہ جبہ کا دورہ کیا ۔ بھارت میں مقیم غیرملکی صحافی بھی اس میں شامل تھے ۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے 26 فروری کو بھارت کی طرف سے فضائی حدود کی خلاف ورزی بارے تفصیلی بریفنگ دی، جنرل آصف غفور نے بھارت کے جھوٹے دعوؤں سے انھیں آگاہ کیا اور حقائق بتائے ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے انھیں بتایا کہ بھارتی حملے کے نتیجے میں اس علاقے میں جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔صحافیوں اور سفرا نے قریبی مدرسے کا بھی دورہ کیا۔ بھارت نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس مدرسے میں بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے ہیں، مدرسہ اپنی جگہ موجود تھا اور طلبا تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ اس موقع پر صحافیوں اور سفرا نے اساتذہ اور طلبا سے گفتگو کی اور دیکھا کہ مدرسے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔
بالاکوٹ پر بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے جھوٹ کا پول کھولنے کے لیے میڈیا، سفراء اور دفاعی اتاشیوں کے وفد کا جائے وقوعہ کا دورہ صائب اقدام تھا اور تزویراتی تقاضوں کے روح کے مطابق بھی۔
علاوہ ازیں غیر ملکی صحافیوں ، سفیروں اور دفاعی اتاشیوں کی عینی شہادت بھی بھارتی پروپیگنڈہ کو غیر موثر کرنے کا ایک مسلمہ سفارتی وسیلہ تھا۔ اس لیے امید کرنی چاہیے کہ اس دورہ سے بھارت کو امن کے پیامبروں کے ذریعہ پاکستان کا خیر سگالی پیغام ایک پھر پہنچ جائے گا۔
دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن خطے کے لیے بے حد خوش آیند اور زبردست فوائد کا حامل ہو گا، مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، اس مسئلہ کو سلگتا ہوا نہیں چھوڑا جا سکتا، بی بی سی کو انٹرویو میں انھوں نے کہا جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ مودی کو یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افسروں اور جوانوں کو اعزازات کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ شہدا اور غازی قوم کے ہیرو ہیں ،جن کی قربانیوں سے امن آیا۔ اسی جذبہ کے تحت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے ، یہ بات انھوں نے اسلام آباد میں ''جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اور ابھرتے چیلنجز'' سے متعلق کانفرنس سے خطا کرتے ہوئے کہی، وزیر خارجہ نے پاک بھارت مذاکرات کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا واحد حل مذاکرات ہی ہیں ۔ طاقت کا استعمال خطے میں عدم استحکام پیدا کر دیگا، دو جوہری طاقتوں کی جنگ کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان کے مطابق بھارتی انتخابات کے بعد جو بھی پارٹی اقتدار میں آئے گی اس کے ساتھ پاکستان بات چیت آگے بڑھائے گا،پاکستان کرتار پور راہداری کو فعال کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کریگا۔ بھارتی اخبار ''ہندوستان ٹائمز'' کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا بھارتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان بھارت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
معروضی حقائق کی روشنی میں عالمی برادری پر اب واضح ہونا چاہیے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، سلامتی اور عوام کی خوشحالی کا خواہاں ہے اور جنگجویانہ بھارتی روش کے خلاف بھارت پر زور دے رہا ہے کہ وہ مکالمہ کے جمہوری اصولوں کے تحت مسئلہ کشمیر کا منصفانہ او پائیدار حل نکالنے میں پاکستان کی امن پیشکش کا مثبت جواب دے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارتی انتخابات میں فوکس نریندر مودی کی غلط پالیسیاں اور ان کا جنگی جنون ہے جسے کانگریس سمیت دنیا کا ہر امن پسند قبول کرنے کو تیار نہیں، دوسری طرف مودی ازم کو انتخابی تنقید اور شدید نکتہ چینی کا سامناہے جب کہ ان کی امکانی جیت کو بھارتی اپوزیشن ایک بڑے المیہ سے تعبیر کررہی ہے، مودی پر کثیر جہتی تنقید میں اضافہ ہوا ہے، سیاست دانوں، ججوں ، مصوروں اور فن کاروں کے بعد اب سائنس داں بھی مودی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
ادھر بھارتی الیکشن کمیشن نے نریندرا مودی کی زندگی پر بننے والی فلم کو انتخابی عمل مکمل ہونے تک ریلیز کرنے سے روک دیا ہے۔ فلم ' پی ایم نریندرا مودی' کی نمائش آج سے ہونا تھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت مودی سرکار کی پالیسیوں سے تنگ بھارتی عوام نے بی جے پی کے انتخابی منشور کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر 'گو بیک فاشسٹ مودی' کے ہیش ٹیگ کو ٹاپ ٹرینڈ بنادیا ہے ۔
بلاشبہ خطے کی تاریخ میں پہلی بار مسئلہ کشمیربہ انداز دگر عالمی منظر نامہ پر ابھرکر آیا ہے چنانچہ پاکستان کے اس استدلال پر عالمی برادری کو اب سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ بھارت جامع اور بامقصد مزاکرات سے مسئلہ کا حل نکالنے پر تیار ہوجائے کیونکہ امن کا یہی واحد راستہ ہے۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے 26 فروری کو بھارت کی طرف سے فضائی حدود کی خلاف ورزی بارے تفصیلی بریفنگ دی، جنرل آصف غفور نے بھارت کے جھوٹے دعوؤں سے انھیں آگاہ کیا اور حقائق بتائے ، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے انھیں بتایا کہ بھارتی حملے کے نتیجے میں اس علاقے میں جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔صحافیوں اور سفرا نے قریبی مدرسے کا بھی دورہ کیا۔ بھارت نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس مدرسے میں بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے ہیں، مدرسہ اپنی جگہ موجود تھا اور طلبا تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ اس موقع پر صحافیوں اور سفرا نے اساتذہ اور طلبا سے گفتگو کی اور دیکھا کہ مدرسے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔
بالاکوٹ پر بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے جھوٹ کا پول کھولنے کے لیے میڈیا، سفراء اور دفاعی اتاشیوں کے وفد کا جائے وقوعہ کا دورہ صائب اقدام تھا اور تزویراتی تقاضوں کے روح کے مطابق بھی۔
علاوہ ازیں غیر ملکی صحافیوں ، سفیروں اور دفاعی اتاشیوں کی عینی شہادت بھی بھارتی پروپیگنڈہ کو غیر موثر کرنے کا ایک مسلمہ سفارتی وسیلہ تھا۔ اس لیے امید کرنی چاہیے کہ اس دورہ سے بھارت کو امن کے پیامبروں کے ذریعہ پاکستان کا خیر سگالی پیغام ایک پھر پہنچ جائے گا۔
دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ امن خطے کے لیے بے حد خوش آیند اور زبردست فوائد کا حامل ہو گا، مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، اس مسئلہ کو سلگتا ہوا نہیں چھوڑا جا سکتا، بی بی سی کو انٹرویو میں انھوں نے کہا جوہری طور پر مسلح ہمسائے اپنے اختلافات کو صرف مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ مودی کو یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو گا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افسروں اور جوانوں کو اعزازات کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ شہدا اور غازی قوم کے ہیرو ہیں ،جن کی قربانیوں سے امن آیا۔ اسی جذبہ کے تحت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے ، یہ بات انھوں نے اسلام آباد میں ''جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اور ابھرتے چیلنجز'' سے متعلق کانفرنس سے خطا کرتے ہوئے کہی، وزیر خارجہ نے پاک بھارت مذاکرات کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا واحد حل مذاکرات ہی ہیں ۔ طاقت کا استعمال خطے میں عدم استحکام پیدا کر دیگا، دو جوہری طاقتوں کی جنگ کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان کے مطابق بھارتی انتخابات کے بعد جو بھی پارٹی اقتدار میں آئے گی اس کے ساتھ پاکستان بات چیت آگے بڑھائے گا،پاکستان کرتار پور راہداری کو فعال کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کریگا۔ بھارتی اخبار ''ہندوستان ٹائمز'' کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا بھارتی انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان بھارت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
معروضی حقائق کی روشنی میں عالمی برادری پر اب واضح ہونا چاہیے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، سلامتی اور عوام کی خوشحالی کا خواہاں ہے اور جنگجویانہ بھارتی روش کے خلاف بھارت پر زور دے رہا ہے کہ وہ مکالمہ کے جمہوری اصولوں کے تحت مسئلہ کشمیر کا منصفانہ او پائیدار حل نکالنے میں پاکستان کی امن پیشکش کا مثبت جواب دے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارتی انتخابات میں فوکس نریندر مودی کی غلط پالیسیاں اور ان کا جنگی جنون ہے جسے کانگریس سمیت دنیا کا ہر امن پسند قبول کرنے کو تیار نہیں، دوسری طرف مودی ازم کو انتخابی تنقید اور شدید نکتہ چینی کا سامناہے جب کہ ان کی امکانی جیت کو بھارتی اپوزیشن ایک بڑے المیہ سے تعبیر کررہی ہے، مودی پر کثیر جہتی تنقید میں اضافہ ہوا ہے، سیاست دانوں، ججوں ، مصوروں اور فن کاروں کے بعد اب سائنس داں بھی مودی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
ادھر بھارتی الیکشن کمیشن نے نریندرا مودی کی زندگی پر بننے والی فلم کو انتخابی عمل مکمل ہونے تک ریلیز کرنے سے روک دیا ہے۔ فلم ' پی ایم نریندرا مودی' کی نمائش آج سے ہونا تھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت مودی سرکار کی پالیسیوں سے تنگ بھارتی عوام نے بی جے پی کے انتخابی منشور کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر 'گو بیک فاشسٹ مودی' کے ہیش ٹیگ کو ٹاپ ٹرینڈ بنادیا ہے ۔
بلاشبہ خطے کی تاریخ میں پہلی بار مسئلہ کشمیربہ انداز دگر عالمی منظر نامہ پر ابھرکر آیا ہے چنانچہ پاکستان کے اس استدلال پر عالمی برادری کو اب سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ بھارت جامع اور بامقصد مزاکرات سے مسئلہ کا حل نکالنے پر تیار ہوجائے کیونکہ امن کا یہی واحد راستہ ہے۔