سٹی کورٹ میں آتشزدگی کو سال گزرنے کے باوجود مال خانہ دوبارہ تعمیر نہ ہوسکا
آتشزدگی کے بعدکیس پراپرٹی تھانوں تک محدودکردی گئی تھی،حکومت اورپولیس نے خستہ حال کمرے کوعارضی مال خانہ بنادیا۔
نئے مال خانے کی جگہ کا تعین اب تک نہ ہوسکا،2004میں بھی آتشزدگی کے بعدغیرملکی ٹیم نے مال خانے کوخطرناک قراردیاتھا۔ فوٹو: ایکسپریس
سٹی کورٹ کے مال خانے میں ہونے والی آتشزدگی کو ایک سال مکمل ہوگیا جب کہ آتشزدگی کے بعد مال خانہ بن سکا نہ ہی ملبہ ہٹایا جاسکا ہے۔
سٹی کورٹ مال خانے میں گیارہ اپریل 2018 کو ہونے والی آتشزدگی کو ایک سال مکمل ہوگیا، قیامِ پاکستان سے قبل تعمیر ہونے والا قدیم مال خانہ آتشزدگی کے واقعے کے ایک سال بعد بھی اسی حالت میں موجود ہے، حکومتی نااہلی اور عدم دلچسپی کے باعث آتشزدگی کے بعد مال خانہ بن سکا نہ ہی ملبہ ہٹایا جا سکا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابھی تک نئے مال خانے کی جگہ کا تعین بھی نہیں ہوسکا، آتش زدگی کے بعد کیس پراپرٹی تھانوں تک محدود کردی گئی تھی لیکن اب قدیم مال خانے کے بالکل سامنے ایک چھوٹے سے خستہ حال کمرے میں کیس پراپرٹی رکھنے کا انکشاف ہوا ہے ساتھ ہی کیس پراپرٹی دوبارہ مال خانے میں بھی آنا شروع ہوگئی ہے۔
2004 میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد غیر ملکی ٹیم نے جلے ہوئے مال خانے کو خطرناک قرار دیا تھا، غیر ملکی تحقیقاتی ٹیم نے محفوظ عمارت تعمیر کرنے کی سفارش کی تھی 15 سال میں نئی عمارت نہ بنی اور پتھروں سے بنی قدیم عمارت ایک بار پھر آگ کی نذر ہوگئی، آبادی کے بیچ ایسی حساس عمارت کا ہونا کسی خطرے سے کم نہیں۔
سٹی کورٹ مال خانے میں گیارہ اپریل 2018 کو ہونے والی آتشزدگی کو ایک سال مکمل ہوگیا، قیامِ پاکستان سے قبل تعمیر ہونے والا قدیم مال خانہ آتشزدگی کے واقعے کے ایک سال بعد بھی اسی حالت میں موجود ہے، حکومتی نااہلی اور عدم دلچسپی کے باعث آتشزدگی کے بعد مال خانہ بن سکا نہ ہی ملبہ ہٹایا جا سکا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابھی تک نئے مال خانے کی جگہ کا تعین بھی نہیں ہوسکا، آتش زدگی کے بعد کیس پراپرٹی تھانوں تک محدود کردی گئی تھی لیکن اب قدیم مال خانے کے بالکل سامنے ایک چھوٹے سے خستہ حال کمرے میں کیس پراپرٹی رکھنے کا انکشاف ہوا ہے ساتھ ہی کیس پراپرٹی دوبارہ مال خانے میں بھی آنا شروع ہوگئی ہے۔
2004 میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد غیر ملکی ٹیم نے جلے ہوئے مال خانے کو خطرناک قرار دیا تھا، غیر ملکی تحقیقاتی ٹیم نے محفوظ عمارت تعمیر کرنے کی سفارش کی تھی 15 سال میں نئی عمارت نہ بنی اور پتھروں سے بنی قدیم عمارت ایک بار پھر آگ کی نذر ہوگئی، آبادی کے بیچ ایسی حساس عمارت کا ہونا کسی خطرے سے کم نہیں۔