بھٹائی کی درگاہ پر قوم پرستوں کے2گروہوں میں تصادم زائرین لڑکیاں زخمی

بھگڈر مچ گئی، خوف زدہ زائرین بھاگ گئے، پولیس اور اوقاف ملازمین تماشا دیکھتے رہے، فریقین لاڑکانہ اور سکھر سے آئے تھے

قوم پرست نوجوان لاڑکانہ اور سکھر سے ریلیوں کی صورت میں نعرے لگاتے ہوئے درگاہ پر پہنچے، مخالفانہ نعروں پر دونوں گروہوں کے نوجوانوں میں جھگڑا شروع ہوگیا.

درگاہ شاہ لطیف بھٹائی کے صحن میں 2 گروہوں میں تصادم، اوقاف ملازمین اور پولیس تماشا دیکھتی رہی، 2 لڑکیاں زخمی، درگاہ میں بھگڈر زائرین خوفزدہ

تفصیلات کے مطابق درگاہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے صحن میں قوم پرست پارٹیوں کے 2 گروہوں میں تصادم کے باعث 2 زائرین لڑکیاں زخمی ہوگئی۔ قوم پرست نوجوان لاڑکانہ اور سکھر سے ریلیوں کی صورت میں نعرے لگاتے ہوئے درگاہ پر پہنچے، مخالفانہ نعروں پر دونوں گروہوں کے نوجوانوں میں جھگڑا شروع ہوگیا جس کے باعث درگاہ میں بھگڈر مچ گئی اور زائرین بھاگ کر بازاروں میں چلے گئے۔ درگاہ پر موجود پولیس اہلکار اور اوقاف ملازمین تماشا دیکھتے رہے۔




جھگڑا کرنے والے گروہوں کا تعلق لاڑکانہ اور سکھر سے تھا، رابطے پر سلیم اختر، ضیا الدین اور دیگر نے بتایا کہ اوقاف کلرک عبدالشکور بوزدار نے قوم پرست کارکنوں سے درگاہ میں داخل ہونے کے لیے پیسے مانگے نہ دینے پر انھوں نے ایک گروپ سے مل کر گالیاں دیں جس پر جھگڑا ہوا،۔ زائرین اور شہریوں نے بتایا کہ اوقاف ملازمین نے درگاہ کو کاروبار بنا لیا ہے جس کی وجہ سے آئے روز زائرین اور دیگر تنظیموں میں جھگڑے ہوتے ہیں جس سے درگاہ کا تقدس پامال ہوتا ہے۔
Load Next Story