افغان سرزمین گولیوں کی گھن گرج کے بعد اب تالیاں گونجیں گی
جنگ زدہ ملک 10 برس بعد پہلے انٹرنیشنل فٹبال میچ کی میزبانی کیلیے تیار، منگل کو پاکستان سے مصنوعی پچ پر مقابلہ
جنگ زدہ ملک 10 برس بعد پہلے انٹرنیشنل فٹبال میچ کی میزبانی کیلیے تیار، منگل کو پاکستان سے مصنوعی پچ پر مقابلہ۔ فوٹو: فائل
BAHAWALPUR:
افغان سرزمین پرگولیوں کی گھن گرج کے بعد اب تالیاں گونجیں گی، جنگ زدہ ملک 10 برس بعد پہلے انٹرنیشنل فٹبال میچ کی میزبانی کیلیے مکمل تیار ہے، فیفا نے منگل کو شیڈول میچ کی تفصیلات کا اعلان کر دیا۔
دونوں ٹیمیں اے ایف ایف اسٹیڈیم کی مصنوعی پچ پر صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گی، افغان فٹبال فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل سید آغازادہ نے میڈیا کو بتایا کہ کابل میں 1977 کے بعد پاکستان سے پہلا جبکہ 10 سال بعد ملک میں پہلا انٹرنیشنل مقابلہ ہوگا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت مشکل وقت کے بعد ہم نارمل زندگی کی جانب لوٹ رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر اور انتظامی طور پر افغان فٹبال بہتر ہوگئی۔
ملک میں فٹبال اب بڑے پیمانے پر کھیلی جا سکتی ہے، انھوں نے پاکستانی ٹیم سے مقابلے میں اسٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرے ہونے کا یقین ظاہر کیا، یاد رہے افغان سرزمین پر قدم رکھنے والی آخری انٹرنیشنل فٹبال ٹیم ترکمانستان کی تھی جس نے 2003 میں کھیلا گیا میچ 2-0 سے جیتا تھا۔
عالمی فٹبال رینکنگ میں 139ویں نمبر پر موجود افغانی سائیڈ رواں سال تینوں مقابلوں میں ناقابل شکست رہی، اس نے سری لنکا اور منگولیا کو مات دی جبکہ لاؤس سے میچ برابر رہا۔ دریں اثنا پاکستان فٹبال فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری احمد یار لودھی نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی فٹبال کمیونٹی کیلیے یہ میچ بہت اہمیت کا حامل ہوگا، اس سے ظاہر ہوگا کہ ہمارا کھیل پڑوسی ممالک میں مثبت تعلقات کیلیے کردار ادا کر سکتا ہے۔
8 ٹیموں پر مشتمل افغان پریمیئر لیگ آئندہ ہفتے شروع ہوگی، دوسری بار منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ میں ملک بھر کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، کابل کے اے ایف ایف اسٹیڈیم میں ہونے والے تمام میچز براہ راست ٹیلی کاسٹ کیے جائینگے۔
افغان سرزمین پرگولیوں کی گھن گرج کے بعد اب تالیاں گونجیں گی، جنگ زدہ ملک 10 برس بعد پہلے انٹرنیشنل فٹبال میچ کی میزبانی کیلیے مکمل تیار ہے، فیفا نے منگل کو شیڈول میچ کی تفصیلات کا اعلان کر دیا۔
دونوں ٹیمیں اے ایف ایف اسٹیڈیم کی مصنوعی پچ پر صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گی، افغان فٹبال فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل سید آغازادہ نے میڈیا کو بتایا کہ کابل میں 1977 کے بعد پاکستان سے پہلا جبکہ 10 سال بعد ملک میں پہلا انٹرنیشنل مقابلہ ہوگا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت مشکل وقت کے بعد ہم نارمل زندگی کی جانب لوٹ رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر اور انتظامی طور پر افغان فٹبال بہتر ہوگئی۔
ملک میں فٹبال اب بڑے پیمانے پر کھیلی جا سکتی ہے، انھوں نے پاکستانی ٹیم سے مقابلے میں اسٹیڈیم شائقین سے کھچا کھچ بھرے ہونے کا یقین ظاہر کیا، یاد رہے افغان سرزمین پر قدم رکھنے والی آخری انٹرنیشنل فٹبال ٹیم ترکمانستان کی تھی جس نے 2003 میں کھیلا گیا میچ 2-0 سے جیتا تھا۔
عالمی فٹبال رینکنگ میں 139ویں نمبر پر موجود افغانی سائیڈ رواں سال تینوں مقابلوں میں ناقابل شکست رہی، اس نے سری لنکا اور منگولیا کو مات دی جبکہ لاؤس سے میچ برابر رہا۔ دریں اثنا پاکستان فٹبال فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری احمد یار لودھی نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی فٹبال کمیونٹی کیلیے یہ میچ بہت اہمیت کا حامل ہوگا، اس سے ظاہر ہوگا کہ ہمارا کھیل پڑوسی ممالک میں مثبت تعلقات کیلیے کردار ادا کر سکتا ہے۔
8 ٹیموں پر مشتمل افغان پریمیئر لیگ آئندہ ہفتے شروع ہوگی، دوسری بار منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ میں ملک بھر کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، کابل کے اے ایف ایف اسٹیڈیم میں ہونے والے تمام میچز براہ راست ٹیلی کاسٹ کیے جائینگے۔