ملزمان کی پشت پناہی کا الزام وی سی سندھ یونیورسٹی عدالت میں طلب
وائس چانسلر کی عدم موجودگی پرجج کا اظہار برہمی، ملزمان کے رشتے داروں کی تقرری کاریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کا حکم
وائس چانسلر کی عدم موجودگی پرجج کا اظہار برہمی، ملزمان کے رشتے داروں کی تقرری کاریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کا حکم۔ فوٹو: وکی پیڈیا
سپریم کورٹ نے جرائم پیشہ عناصرکی پشت پناہی کے الزام میں وائس چانسلرسندھ یونیورسٹی کو آج طلب کرلیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ملزمان کے رشتے داروں کی تقرری کا تمام ریکارڈ بھی ہفتہ کو عدالت میں پیش کیا جائے ،جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جمعہ کو مسمات امیرزادی کی درخواست کی سماعت کی،عدالت کے حکم کی پیروی کے سلسلے میں سندھ یونیورسٹی کی جانب سے غلام محمد بھٹو نامی افسر پیش ہوئے اور دعویٰ کیا کہ وہ سندھ یونیورسٹی کے رجسٹرار ہیں، پہلے رجسٹرار محمد نواز ناریجو کو 3 اگست کو جامعہ کا مشیر پلاننگ مقرر کردیا گیا ہے جنھیں عدالت نے طلب کیا تھا۔
بینچ نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے رویے پر انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بارہا محمد نواز ناریجو کی طلبی کے احکام جاری کیے لیکن وہ ہر بارکوئی نہ کوئی بہانہ کرکے عدالت میں پیش ہونے سے گریزاں رہے۔
اب بھی عدالت کو بتایا جارہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجود وائس چانسلر نے ان کا تبادلہ کردیا، صورتحال یہ ہے کہ مدعی فریق نے رجسٹرار محمد نواز ناریجو پر انتہائی سنگین الزام عائد کیے ہیں کہ وہ غلام رسول ناریجو جیسے جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کررہے ہیں جو اغوا کے مقدمے میں ملوث ہے اس کے علاوہ اسی مقدمے میں ملوث جامعہ کے 2 ملازمین محمد حق نواز ناریجو اور رب نواز ناریجو کیخلاف کارروائی نہیں کی، سپریم کورٹ کی مداخلت پر 22 اپریل کو اس وقت کے رجسٹرار نواز ناریجو کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
بعدازاں ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی اور انھیں عدالت سے سزا بھی ہوئی ، مدعی فریق نے الزام عائد کیا ہے عدالت سے سزا پانے والے ملزم رب نواز ناریجو کے بیٹے کو رجسٹرار کے ایما پر ملازمت دی گئی ، شارع نورجہاں پولیس اسٹیشن کی حدود میں رہائشی مسمات امیرزادی نے درخواست دائر کی ہے کہ اس کے بیٹے اسراراحمد نے فخرالنسا ناریجو سے پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد 4 جون 2009 کو فخرالنسا کے اہل خانہ علی اکبر،اصغرعلی،رب نواز ناریجو، حق نواز اور عبدالطیف ناریجو نے اسے اغوا کرلیا وہ تاحال لاپتہ ہے، مفرور ملزمان حق نواز اور رب نوازناریجو سندھ یونیورسٹی کے ملازم ہیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ملزمان کے رشتے داروں کی تقرری کا تمام ریکارڈ بھی ہفتہ کو عدالت میں پیش کیا جائے ،جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جمعہ کو مسمات امیرزادی کی درخواست کی سماعت کی،عدالت کے حکم کی پیروی کے سلسلے میں سندھ یونیورسٹی کی جانب سے غلام محمد بھٹو نامی افسر پیش ہوئے اور دعویٰ کیا کہ وہ سندھ یونیورسٹی کے رجسٹرار ہیں، پہلے رجسٹرار محمد نواز ناریجو کو 3 اگست کو جامعہ کا مشیر پلاننگ مقرر کردیا گیا ہے جنھیں عدالت نے طلب کیا تھا۔
بینچ نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے رویے پر انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بارہا محمد نواز ناریجو کی طلبی کے احکام جاری کیے لیکن وہ ہر بارکوئی نہ کوئی بہانہ کرکے عدالت میں پیش ہونے سے گریزاں رہے۔
اب بھی عدالت کو بتایا جارہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے حکم کے باوجود وائس چانسلر نے ان کا تبادلہ کردیا، صورتحال یہ ہے کہ مدعی فریق نے رجسٹرار محمد نواز ناریجو پر انتہائی سنگین الزام عائد کیے ہیں کہ وہ غلام رسول ناریجو جیسے جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کررہے ہیں جو اغوا کے مقدمے میں ملوث ہے اس کے علاوہ اسی مقدمے میں ملوث جامعہ کے 2 ملازمین محمد حق نواز ناریجو اور رب نواز ناریجو کیخلاف کارروائی نہیں کی، سپریم کورٹ کی مداخلت پر 22 اپریل کو اس وقت کے رجسٹرار نواز ناریجو کو ملازمت سے برطرف کیا گیا۔
بعدازاں ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی اور انھیں عدالت سے سزا بھی ہوئی ، مدعی فریق نے الزام عائد کیا ہے عدالت سے سزا پانے والے ملزم رب نواز ناریجو کے بیٹے کو رجسٹرار کے ایما پر ملازمت دی گئی ، شارع نورجہاں پولیس اسٹیشن کی حدود میں رہائشی مسمات امیرزادی نے درخواست دائر کی ہے کہ اس کے بیٹے اسراراحمد نے فخرالنسا ناریجو سے پسند کی شادی کی تھی، جس کے بعد 4 جون 2009 کو فخرالنسا کے اہل خانہ علی اکبر،اصغرعلی،رب نواز ناریجو، حق نواز اور عبدالطیف ناریجو نے اسے اغوا کرلیا وہ تاحال لاپتہ ہے، مفرور ملزمان حق نواز اور رب نوازناریجو سندھ یونیورسٹی کے ملازم ہیں۔