سوڈان میں فوجی بغاوت عمرالبشیر برطرف
وزیر دفاع نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا کہ اس وقت ملک میں 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔
وزیر دفاع نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا کہ اس وقت ملک میں 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔ فوٹو: فائل
سوڈان میں عوامی احتجاج رنگ لے آیا ، تیس سال سے برسراقتدار ملک کے صدر عمر البشیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر حراست میں لے لیا گیا۔ یوں ایک طویل ترین آمرانہ دورکا خاتمہ عوامی جدوجہد کے ذریعے ممکن ہوا ۔ 2003میں انھوں نے سوڈان کے علاقے دارفر میں اٹھنے والی ایک بغاوت کو کچلنے کے لیے وہاں فوج بھیجی ۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس لڑائی کے نتیجے میں تقریباً تین لاکھ افراد مارے گئے۔دسمبر 2018میں ملک کے مختلف علاقوںمیں مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھر اس وقت شروع ہوا جب کھانے پینے کی اشیا کے دام کئی گنا بڑھ گئے، اس بار مظاہرین نے عمرالبشیر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ زور پکڑتا گیا ۔ بالآخر سوڈان کی فوج نے ملک کے انتظامی امور سنبھالتے ہوئے 2 سال کے عرصے میں ملک میں انتقال اقتدارکے عمل کو مکمل کرنے کے بعد عام انتخابات کا عندیہ دیا ہے ۔
اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ فوج عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے ملک میں جمہوریت کو بحال کرتی ہے یا پھر خود ہی برسر اقتدار رہنا پسند کرتی ہے ۔ معزول اور گرفتار صدر 1989میں سوڈانی فوج کے کرنل تھے اور وزیر اعظم صادق المہدی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک کے صدر بن گئے تھے۔
بین الاقوامی عدالت جرائم میں عمر البشیرپر بڑے پیمانے پر قتل، عصمت دری اور شہریوں کی املاک لوٹنے کا مقدمہ بھی چلا تھا ، گوکہ ان تمام الزامات کی انھوں نے تردید کی تھی۔ سوڈان میں کئی ہفتوں سے صدر کے خلاف احتجاج جاری تھا ، صدر نے فوج کو مظاہرین کو منتشر کرنے کا حکم دیا تھا تاہم فوج نے یہ حکم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے آئین اور انسانی حقوق کے منشور کے تحت عوام کو پر امن مظاہروں کا حق حاصل ہے۔
وزیر دفاع نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا کہ اس وقت ملک میں 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ انقلابات زمانہ ہیں جب بھی حکمران مطلق العنان بن جاتے ہیںاور عوام کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے تو وہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور پھر ان کے سامنے بڑے بڑے کوہ گراں ریزہ ، ریزہ ہو کر بکھر جاتے ہیں ۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس لڑائی کے نتیجے میں تقریباً تین لاکھ افراد مارے گئے۔دسمبر 2018میں ملک کے مختلف علاقوںمیں مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھر اس وقت شروع ہوا جب کھانے پینے کی اشیا کے دام کئی گنا بڑھ گئے، اس بار مظاہرین نے عمرالبشیر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ زور پکڑتا گیا ۔ بالآخر سوڈان کی فوج نے ملک کے انتظامی امور سنبھالتے ہوئے 2 سال کے عرصے میں ملک میں انتقال اقتدارکے عمل کو مکمل کرنے کے بعد عام انتخابات کا عندیہ دیا ہے ۔
اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ فوج عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے ملک میں جمہوریت کو بحال کرتی ہے یا پھر خود ہی برسر اقتدار رہنا پسند کرتی ہے ۔ معزول اور گرفتار صدر 1989میں سوڈانی فوج کے کرنل تھے اور وزیر اعظم صادق المہدی کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک کے صدر بن گئے تھے۔
بین الاقوامی عدالت جرائم میں عمر البشیرپر بڑے پیمانے پر قتل، عصمت دری اور شہریوں کی املاک لوٹنے کا مقدمہ بھی چلا تھا ، گوکہ ان تمام الزامات کی انھوں نے تردید کی تھی۔ سوڈان میں کئی ہفتوں سے صدر کے خلاف احتجاج جاری تھا ، صدر نے فوج کو مظاہرین کو منتشر کرنے کا حکم دیا تھا تاہم فوج نے یہ حکم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے آئین اور انسانی حقوق کے منشور کے تحت عوام کو پر امن مظاہروں کا حق حاصل ہے۔
وزیر دفاع نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا کہ اس وقت ملک میں 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ انقلابات زمانہ ہیں جب بھی حکمران مطلق العنان بن جاتے ہیںاور عوام کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے تو وہ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور پھر ان کے سامنے بڑے بڑے کوہ گراں ریزہ ، ریزہ ہو کر بکھر جاتے ہیں ۔