مہنگائی بڑھی ہے مشیر تجارت کا اعتراف

موجودہ حکومت کو معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا۔

موجودہ حکومت کو معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے تسلیم کیا ہے کہ روپے کی قدرگھٹانے سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ گرانی بڑھ گئی مگر برآمدات میں توقع کے مطابق اضافہ نہیں ہوا ۔ بلاشبہ اس بات میں اب کوئی دو رائے نہیں ہے کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر سے مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اشیائے خورونوش اور ادویات کا حصول عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے ۔ ملک میں مڈل کلاس تیزی سے لوئرکلاس میں تبدیل ہوتی جارہی ہے ۔

مہنگائی بڑھنے سے غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ بھی دیکھنے کو ملا ہے ۔ سنجیدہ اور فہمیدہ حلقے حکومت کے موجودہ معاشی پروگراموں سے مطمئن نظر نہیں آتے ۔ پاکستان کے عوام تو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے تھے کہ اب ان پر منی بجٹ اور آئے روز قیمتوں میں اضافے کے ذریعے رہی سہی کسر بھی پوری کردی گئی ہے ۔ حکومت کے معاشی ماہرین کی ٹیم کے اراکین اور ان کے سربراہ وزیر خزانہ کے بیانات میں کھلا تضاد پایا جاتا ہے ۔ وزراء کے غیر ذمے دارانہ رویوں اور بیانات نے بھی معیشت کو دھچکا پہنچایا ہے۔


رمضان کی آمد سے قبل روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی تشویش ناک امر ہے جس کی روک تھام نہیں کی جا رہی ہے ۔ گوکہ مشیر تجارت امید دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان دیگر ممالک کی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، چینی مارکیٹ تک رسائی ہونے کے بعد صورت حال مزید بہتر ہوجائے گی ۔

دوسری جانب زمینی حقائق کچھ اور ہی منظر نامہ پیش کر رہے ہیں ،اگر مہنگائی کی یہی صورتحال رہی تو ڈالر 170روپے اور سونا 80 ہزار روپے تولہ تک جانے کے امکانات موجود ہیں۔ موجودہ حالات میں اگر غریب کی تنخواہ کم ازکم 25 ہزار روپے ماہانہ بھی کردی جائے تو وہ اپنا گزارا نہیں کرسکتا ۔ اس وقت ادویہ سازکمپنیاں مافیا بنی ہوئی ہیں،ادویات غریب آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں،آنے والے دنوں میں زندگی مہنگی اور موت سستی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

موجودہ حکومت کو معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پرکام کرنا ہوگا اور فوری طور پر ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے کہ ملک میں معیشت کی بہتری ممکن ہوجائے، تاکہ حکومت جمہورکی فلاح کے لیے کام کرسکے، ورنہ بڑھتی ہوئی گرانی سے عوام اور حکومت کے درمیان خلیج وسیع ہوجائے گی،جو نیک شگون نہیں ہوگا۔
Load Next Story