بھوجا ایئر حادثہ سربراہ تحقیقاتی کمیشن کیلیے جسٹس عبدالرحمن کا نام تجویز
ریٹائرڈجج کی رضا مندی کے بعد انھیں سربراہ کمیشن بنادیا جائیگا، اسلام آباد ہائیکورٹ
ریٹائرڈجج کی رضا مندی کے بعد انھیں سربراہ کمیشن بنادیا جائیگا، اسلام آباد ہائیکورٹ. فوٹو فائل
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے بھوجا ایئرلائن حادثے کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈجج جسٹس عبدالرحمن خان کا نام تجویزکیا ہے تاہم اس تجویزکو انھوں نے جسٹس (ر) عبدالرحمن خان کی رضامندی سے مشروط کیا ہے۔
قبل ازیں فاضل عدالت نے سپریم کورٹ کے ریٹائر جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم بعد میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ذاتی وجوہ کی بنا پرکمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی تھی۔
جمعے کو مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی، بھوجا ایئرلائن کے وکلا سے مذکورہ کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کا نام تجویزکرنے کاکہا مگرانھوں نے فاضل عدالت سے جون 2013ء کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی۔ وکلا نے عدالت سے کچھ دیر کی مہلت مانگی۔ دوبارہ سماعت کے موقع پر بھوجا ایئرلائن کے وکیل محمود عالم نے فاضل عدالت کی توجہ کمیشن کے قیام کے فیصلے پرنظرثانی کی طرف دلائی عدالت نے کہا کہ اپریل 2012میں حادثہ ہوا اور اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔
قبل ازیں فاضل عدالت نے سپریم کورٹ کے ریٹائر جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم بعد میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ذاتی وجوہ کی بنا پرکمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی تھی۔
جمعے کو مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی، بھوجا ایئرلائن کے وکلا سے مذکورہ کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کا نام تجویزکرنے کاکہا مگرانھوں نے فاضل عدالت سے جون 2013ء کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی۔ وکلا نے عدالت سے کچھ دیر کی مہلت مانگی۔ دوبارہ سماعت کے موقع پر بھوجا ایئرلائن کے وکیل محمود عالم نے فاضل عدالت کی توجہ کمیشن کے قیام کے فیصلے پرنظرثانی کی طرف دلائی عدالت نے کہا کہ اپریل 2012میں حادثہ ہوا اور اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔