کوئٹہ اور چمن میں الم ناک واقعات

بلوچستان میں 22 دنوں میں 5 دھماکوں میں 27 افراد جاں بحق ہوئے۔

بلوچستان میں 22 دنوں میں 5 دھماکوں میں 27 افراد جاں بحق ہوئے۔ فوٹو: فائل

کوئٹہ کی سبزی منڈی میں بم دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد اور چمن مال روڈ پر دھماکے میں ایک شخص شہید اور مجموعی طور پر58 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ بلوچستان میں ایک ہی دن میں دہشت گردی کے دو الم ناک واقعات نے سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بلوچستان میں 22 دنوں میں 5 دھماکوں میں 27 افراد جاں بحق ہوئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ہزار گنجی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوںکو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور سیاسی رہنماؤں نے کوئٹہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔

تاہم ہمیشہ کی طرح دہشت گردی کے ان دو واقعات میں بھی حقائق کی چھان بین اور دہشت گردی کی ٹائمنگ اور ڈیوائسز کی تشخیص روایتی طریقوں کی محتاج نظر آئی جو اب تک دہشت گردی کے سدباب کے لیے کارروائی کے دعوؤں کی بازگشت بنتی رہی ہے۔

ارباب اختیار نے ہزار گنجی سانحہ کے بعد ہی اس کی ضرورت محسوس کی کہ سبزی مارکیٹ میں سی سی ٹی کیمرے نصب کیے جانے چاہئیں جب کہ دہشت گردی مخالف اسٹریٹجی کا تقاضہ تھا کہ گنجان آباد علاقوں ، منڈیوں ، مارکیٹوں اور مصروف ترین عوامی مقامات پر سیکیورٹی ہمہ وقت ہائی الرٹ رہے۔ اس تناظر میں سیکیورٹی لیپس اور اس کے سنگین مضمرات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، دہشتگرد نیٹ ورک کے پاس ٹارگیٹنگ ٹائمنگ میں سب سے بنیادی عنصر سیکیورٹی گیپ یا لیپس کا ہے۔

خود کش بمبار گنگناتا، ہنستا گاتا ہوا نہیں آتا اس کی آمد محتاط اور پراسرار ہوتی ہے، اس لیے جتنی تربیت دہشتگرد کی ہے اس سے زیادہ چابکدستی اور مستعدی ایف سی، لیویز ، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی ہونی شرط ہے۔ اولین فرصت میں حملہ آور کو دبوچنے کی حکمت عملی شفاف اور فالٹ فری ہونی ناگزیر ہے۔ یہ درست ہے کہ خود کش بمبار دنیا میں کہیں بھی واردات کر بیٹھتا ہے مگر صوبہ بلوچستان سمیت دہشتگردوں کو کہیں بھی جائے پناہ ہرگز نہیں ملنی چاہیے، یہ اطلاع کہ ہزار گنجی اور چمن واقعہ میں بھارتی ایجنسی ''را'' اور طالبان فیکٹر بھی ملوث ہے حکام کے لیے چشم کشا ہے۔


بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا جس کا ٹارگٹ کوئی خاص کمیونٹی نہیں تھی ، ہزارہ کے علاوہ مری بلوچ و دیگر بھی متاثر ہوئے، انھوں نے کہا مرنے والوں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے آٹھ افراد کے علاوہ ایک سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے.

مگر اس سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ دھماکے میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا، ان کے مطابق ہزارہ کمیونٹی کے افراد روزانہ یہاں سبزی لینے کے لیے قافلے کی صورت میں آتے ہیں جنھیں سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پولیس اور ایف سی اہلکار بھی ہمراہ ہوتے ہیں، آج بھی وہ 11 گاڑیوں کے قافلے میں آئے جس میں 55 افراد سوار تھے اور معمول کے مطابق پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے انھیں منڈی میں پہنچا کر مرکزی دروازے اور اطراف میں پوزیشنز سنبھال لی تھیں۔ مگر آلو کی دکان سے سامان گاڑیوں میں لوڈ کرتے ہوئے دھماکہ ہوا جو آلو کی بوریوں میں چھپایا گیا تھا۔ یہ پہلو سیکیورٹی ٹیم کے پیش نظر رہنا چاہیے تھا جب کہ حملہ کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔

اس واقعہ کے خلاف ہزارہ قبیلے کے افراد نے کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا۔ دریں اثناء پاک افغان سرحد چمن میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور دو ایف سی اہلکاروں سمیت گیارہ افراد زخمی ہو گئے، جمعہ کی رات کو چمن کے علاقے مال روڈ اور ٹرنچ روڈ کے سنگم پر اس وقت دھماکہ ہوا جب وہاں سے ایف سی کی گاڑی گزر رہی تھی۔ پولیس کے مطابق دھماکے میں بائیس سالہ نوجوان شہید ہو گیا۔

دہشت گردی کی مذکورہ دو وارداتوں سے سیاسی رہنماؤں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دہشت گرد افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں ۔ صوبہ میں بیرونی قوتیں ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جب کہ بعض مبصرین اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بعض عناصر در پردہ اور علی الاعلان 15 سال سے مسلسل خطے اور بلوچستان کے حالات بگاڑنے کے درپے ہیں۔ ان کے عزائم سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

ان میں کئی مسلح گروپ، سیاسی دشمنی میں ملوث تنظیمیں دہشگرد دھڑے اور کرمنل عناصر بدی کے ایک کثیر جہتی محور سے پیوستہ ہیں، سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے صائب فیصلہ کیا ہے کہ کوئٹہ دہشت گردی پر خصوصی اجلاس بلایا جائے اور بلوچستان کے دشمنوں کا ہر قیمت پر صفایا ہونا چاہیے۔

 
Load Next Story