افغان طالبان کا نئے حملوں کے لیے اعلان

طالبان کی کوشش ہے کہ وہ خود کو طاقتور ثابت کریں تاکہ مذاکرات میں ان کی پوزیشن مضبوط ہو۔

طالبان کی کوشش ہے کہ وہ خود کو طاقتور ثابت کریں تاکہ مذاکرات میں ان کی پوزیشن مضبوط ہو۔ فوٹو: فائل

افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی موسم بہار کے شروع ہونے پر نئے حملوں کا سلسلہ شروع کردیں گے۔ یہ حملے امریکی فوج اور افغان نیشنل آرمی کے دستوں پر کیے جائیں گے جن کی امریکیوں نے تربیت کی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب امریکا اور افغان حکومت طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانا کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں برسرپیکار طالبان نے اپنے ان آیندہ حملوں کو ''آپریشن فتح'' کا نام دیا ہے۔

ادھر ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے ان پر اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) پر پابندی کے اعلان کے بعد انھوں نے افغانستان میں اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ریڈ کراس اور ڈبلیو ایچ او پر طالبان کی طرف سے الزام عاید کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں ادارے طالبان کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنی آوٹ فٹ کو غلط مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جب کہ لوگ ان کو عوامی خدمت کے مستند ادارے سمجھتے ہوئے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور یوں بھاری نقصان اٹھاتے ہیں۔


افغانستان جیسے پہاڑی علاقوں میں موسم سرما کے دوران بھاری برف باری سے چونکہ کاروبار زندگی معطل ہو جاتا ہے اس لیے راستے موسم بہار میں ہی کھلتے ہیں اور تب ہی لڑائی کی شطرنج بھی دوبارہ جمتی ہے اسی حوالے سے طالبان نے بھی موسم بہار میں جنگ کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فریقین میں امن مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں جس کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کامیابی کے امکانات کا اعلان کیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ فریقین اپنی پوزیشن زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔امریکا اور افغان فورسز بھی مسلسل طالبان کے خلاف کارروائی کررہی ہیں جب کہ طالبان بھی اپنے حملوں میں شدت لا رہے ہیں، طالبان نے موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی حملوں میں شدت لانے کا جو اعلان کیا ہے، وہ اسی حکمت عملی کی ایک کڑی ہے۔

طالبان کی کوشش ہے کہ وہ خود کو طاقتور ثابت کریں تاکہ مذاکرات میں ان کی پوزیشن مضبوط ہو اور وہ اقتدار میں زیادہ حصہ لے سکیں، دوسری جانب افغان حکومت اور امریکا بھی اسی کوشش میں مصروف ہیں۔ بہرحال جب تک فریقین کسی حتمی امن معاہدے پر نہیں پہنچتے ، افغانستان میں لڑائی جاری رہے گی۔

 
Load Next Story