پرامن بقائے باہمی کا اصول اور مصر کی صورت حال

سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس سے مزید 90 افراد کے جاں بحق ہونے۔

مصری فوج نے ہوش مندی اور تدبر کا مظاہرہ نہ کیا تو ملک میں خون ریزی ہو جائے گی۔ فوٹو :رائٹرز

مصر کی فوجی حکومت نے جمعہ کو بھی معزول صدر مرسی کے حامیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی' اخوان المسلمون نے جمعہ کے دن کو یوم الغضب کا نام دیا۔ اس روز ہونے والے مظاہروں پر سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس سے مزید 90 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ زخمیوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں 24 پولیس اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ مصر کی فوجی حکومت نے ملک کے چودہ صوبوں میں کرفیو نافذ کر دیا۔

مصر میں جب محمد مرسی کو معزول کیا گیا تو اس وقت ہی یہ آثار نظر آرہے تھے کہ اگر فریقین نے ہوش مندی اور تدبر کا مظاہرہ نہ کیا تو ملک میں خون ریزی ہو جائے گی۔ محمد مرسی کے خلاف بھی عوام نے مظاہرے کیے اور دھرنے دیے۔ ان مظاہروں اور دھرنوں کی آڑ میں فوج نے مرسی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ محمد مرسی چونکہ عوام کی تائید اور حمایت سے برسراقتدار آئے تھے اور انھوں نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی، اس لیے یہ لازمی امر تھا کہ ان کے حامی فوج کے اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔ لہٰذا جس بات کا خدشہ تھا، وہی ہوا اور اب مصر میں خون ریزی شروع ہو چکی ہے۔ مصر کی سیکیورٹی فورسز مظاہرین کے خلاف آپریشن کر رہی ہیں۔ اخوان المسلمون کا دعویٰ ہے کہ ان پر بلاوجہ گولیاں برسائی گئیں۔ ادھر مصر کی وزارت داخلہ نے الزام لگایا ہے کہ مرسی کے حامی پولیس اسٹیشنوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ ادھر مصر کی کابینہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت، افواج اور عوام اخوان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف متحد ہیں۔

اس صورت حال سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مصر میں طاقت ور قوتیں دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہیں اور ان کے درمیان فوری مفاہمت کا امکان نظر نہیں آتا۔ مصر کی حکومت کے اقدامات کو سامنے رکھا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ وہ فوج کے ذریعے مظاہرین کو کچل دینا چاہتی ہے۔ مصر کے چودہ شہروں میں کرفیو کا نفاذ اسی سلسلے کی کڑی نظر آتا ہے لیکن جس بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو رہی ہیں اس سے مصر کے عوام میں غم وغصے کا پھیلنا لازمی امر ہے۔ یوں دیکھا جائے تو اخوان المسلمون کی جدوجہد کو سختی سے کچلنا خاصا مشکل کام ہے۔ اس سارے معاملے کا منطقی نتیجہ وہی نکلے گا جو اس وقت شام میں ہو رہا ہے۔ مصر کے معاملے پر اسلامی خصوصاً عرب ملکوں میں بھی مختلف رائے موجود ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی عرب مصر کا حامی ہے، عرب ممالک متحد ہو جائیں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ سعودی عرب' مصر کی حکومت کے ساتھ ہے۔


ادھر اقوام متحدہ نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ یورپین یونین نے مصر کی صورتحال پر بحث کے لیے پیر کو رکن ملکوں کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اٹلی نے مصری سفیر کو طلب کر کے مظاہرین کے خلاف تشدد کے استعمال کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں مصر کی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ اقوام متحدہ کا مؤقف یوں ہے کہ وہ کسی فریق کی حامی نہیں ہے بلکہ اس نے دونوں فریقوں کو صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی ہے۔ امریکا، یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک بھی سرکاری طور پر تو یہی کہیں گے کہ فریقین صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں لیکن ممکن ہے کہ وہ درپردہ مصر کی حکومت کے حامی ہوں اور یہ نہ چاہتے ہوں کہ اخوان المسلمون مصر میں دوبارہ برسراقتدار آئے۔ اسرائیل کی بھی ایسی ہی خواہش ہو سکتی ہے۔

عالم اسلام میں عوامی سطح پر صورت حال ذرا مختلف نظر آتی ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتیں مصری حکومت کے اقدامات کی مخالف ہیں۔ ان جماعتوں میں اخوان المسلمون کی حمایت خاصی مضبوط ہے۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا میں مصر میں حکومت مخالف مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا اور مصر میں جاں بحق افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد مظاہرین نے امریکا اور مصر کے سفارتخانوں کی طرف مارچ کیا۔ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی حماس کے مظاہرین نے مصر کے حکمران جنرل سیسی کے خلاف ریلی نکالی۔ پاکستان میں بھی امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی کال پر ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا اور مصر میں صدر مرسی کی حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا، مختلف شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلوس نکالے گئے۔

مصر کے بحران کے حوالے سے ان ہی سطور میں کہا جا چکا ہے کہ اگر فریقین نے اپنے نظریاتی اختلافات کو پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت طے نہ کیا تو اس ملک کا مستقبل شام، صومالیہ اور یمن سے مختلف نہیں ہو گا۔ جمہوری روایات کا تقاضا یہ ہے کہ اگر عوام کسی سیاسی جماعت کو اکثریت سے حکومت سازی کا مینڈیٹ دیتے ہیں تو اقلیت کو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ مصر میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ مرسی حکومت کے مینڈیٹ کو آئین میں درج مدت تک برداشت کیا جانا چاہیے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس یہ حق تھا کہ وہ مرسی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے اور عوام کو بتاتے کہ یہ پالیسیاں مصر کے قومی مفاد سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ عوام ان کے خیالات سے متفق ہو جاتے تو اگلے الیکشن میں محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کو ہرا کر برسراقتدار آ سکتے تھے لیکن افسوس کہ مصری اپوزیشن نے جمہوری نظام کی بنیادی روایت کو نظرانداز کیا اور فوج سے مل کر مظاہروں کی آڑ میں حکومت کو ختم کرا دیا۔

جمہوری روایات میں ایک روایت برسراقتدار اکثریتی گروپ کے لیے بھی ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اکثریتی پارٹی کو آئین کے تحت ایک مخصوص مدت کے لیے حکومت چلانے کا مینڈیٹ حاصل ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اکثریت کے بل بوتے پر آمرانہ اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کرے یا اختیارات کو آمرانہ طریقے سے استعمال کرے۔ دنیا کا ہر ملک مختلف الخیال عوامی طبقوں کا حامل ہوتا ہے۔ ہر طبقے کے اپنے اپنے نظریات اور مفادات ہوتے ہیں۔ آئین ہر طبقے کے نظریات اور مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اگر کوئی گروپ اکثریت کے بل بوتے پر یہ سمجھنا شروع کر دے کہ وہ دوسرے طبقوں پر اپنے نظریات مسلط کرے اور ان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو اس کا نتیجہ بھی ٹکراؤ کی صورت میں ہی نکلے گا۔ مصر کے متحارب گروپوں کو ان ہی جمہوری اقدار اور روایات کا خیال رکھنا چاہیے۔ ابھی وقت موجود ہے۔ فریقین اگر پرامن بقائے باہمی کا اصول اپنائیں تو مصر میں امن لوٹ سکتا ہے۔
Load Next Story