دہشت گردی صوبائی اشتراک عمل ناگزیر

دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ایک متوازی اسٹریٹ کرائم کی لہر بھی سارے ملک میں چل رہی ہے.

پولیس کی ناقص حکمت عملی نے ڈی ایس پی گلشن اقبال اور اے ایس آئی کو زندگی سے محروم کردیا. فوٹو: فائل

یہ ایک اندوہناک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ایک متوازی اسٹریٹ کرائم کی لہر بھی سارے ملک میں چل رہی ہے جس نے دہشت گردی کے تزویراتی، عسکری اورانتہاپسندانہ جہادی و مسلکی مضمرات کو عادی جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں میں گڈمڈ کردیا ہے، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وارداتوں اور سانحات کی فوری تفتیش اور پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے اصل محرکات اور ملزمان تک رسائی میں ٹامک ٹوئیاں مارنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اس تضاد کا خاتمہ کیے بغیر وارداتوں کا سدباب مشکل ہوگا۔ دہشت گردی کے تسلسل کا حال غم انگیز ہے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں جمعرات اور جمعہ کو فائرنگ کے واقعات میں مزید 15 افراد ہلاک جب کہ 15 زخمی ہوگئے جب کہ اسی روز کراچی پولیس کی روایتی بھتہ طلب کرنے کی عادت پر شروع ہونے والاتنازع سفاری پارک کے اندر خونیں پولیس مقابلے میں بدل گیا۔

پولیس کی ناقص حکمت عملی نے ڈی ایس پی گلشن اقبال اور اے ایس آئی کو زندگی سے محروم کردیا جب کہ 2 تھانوں کے ایس ایچ اوز سمیت 5 پولیس افسران زخمی ہوگئے، پولیس کے ناکام ہونے پر سندھ رینجرز کو طلب کیا گیا جس نے 3 ڈاکوؤں کو مقابلے کے دوران ہلاک کرکے اسلحہ برآمد کرلیا۔ پولیس کے مطابق مقابلے کی وجہ پولیس کی بھتہ خوری بنی تھی۔ ادھر پشاور میں اے این پی کی رہنما نجمہ حنیف کو قتل کردیا گیا، انہیں گھر میں گھس کر سر پر گولی ماری گئی، صوابی میں پولیس موبائل پر حملے میں ایک اہلکار شہید جب کہ زخمی اے ایس آئی معراج الحق نے جمعہ کو دم توڑ دیا، 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے۔ سندھ کے کوٹری ریلوے اسٹیشن کے قریب ملتان سے کراچی جانے والی زکریا ایکسپریس کوٹری ریلوے اسٹیشن پہنچی تو نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 12 سالہ شہباز جاں بحق جب کہ محمد عابد منظور علی گلزار اور طاہر محمود زخمی ہوگئے۔


بلوچستان میں حالات بدستور مخدوش ہیں، بولان کے علاقے دوزان میں کوئٹہ سے آنے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک 31 زخمی ہوگئے۔ اندرون صوبہ فائرنگ کے واقعات میں چار مزید افراد جاں بحق ہوگئے، دو لاشیں ملیں، تفصیلات کے مطابق وڈھ میں جھگڑے میں خیربخش جاں بحق ہوگیا، چمن کے علاقے بوغرہ میں فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا گیا، سوراب میں فائرنگ سے احمد دین جاں بحق ہوگیا، اتھل میں کوسٹل ہائی وے کے قریب فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، حب سے پولیس کو بچے کی لاش ملی، پشین کے سرانان، اجرم، دینار کے علاقے سے بھی لاش ملی، کوئٹہ پولیس لائن دھماکے کا زخمی کانسٹیبل جان محمد دم توڑ گیا جب کہ بلوچستان کے سرحدی علاقہ نوکنڈی اور ماشکیل میں دو غیر ملکی (ازبک و افغان ) جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔

ارباب اختیارکے لیے ان دردناک واقعات میں ایک سبق پوشیدہ ہے اور وہ دہشت گردوں پر کریک ڈائون کا ہے۔ منی پاکستان، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں عام جرائم اور دہشت گردی کے واقعات کی تہہ میں مضمر اسباب کا کھوج لگانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے مابین جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کی پراسرار نقل و حمل، اسلحہ کی اسمگلنگ اور اس کے بہیمانہ استعمال کی کھلی آزادی کا سلسلہ ختم کرنے کے لیے اشتراک عمل اور انٹیلی جنس شیئرنگ کا مضبوط نیٹ ورک ضروری ہے۔ علاوہ ازیں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی اور عدلیہ کے سامنے ان کی پیشی بھی مضبوط چالان اور ٹھوس شواہد کی محتاج ہوتی ہے، چنانچہ استغاثہ اور بین الصوبائی انٹیلی جنس اشتراک عمل شفاف ہونا چاہیے تاکہ کوئی ملزم بچ کر نہ جاسکے۔
Load Next Story