پاک بھارت سیکریٹری خارجہ مذاکرات
پاک بھارت سیکریٹری خارجہ مذاکرات
پاکستان اور بھارت نے باہمی اتفاق رائے بڑھانے اور اختلافات میں کمی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے نتیجہ خیز بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کو امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ قرار دیتے ہوئے اس لعنت کے خاتمے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا جب کہ پاکستان نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ 2008 کے ممبئی حملوں میں پاکستان کا کوئی سرکاری ادارہ ملوث تھا۔ نئی دہلی میں خارجہ سیکریٹریوں کے دو روزہ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی جب کہ بھارتی وفد کی قیادت بھارتی سیکریٹری خارجہ رنجن متھائی نے کی۔
مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں فریقین نے نتیجہ خیز اور بامقصد انداز میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لیے اپنی خواہشات کا اعادہ کیا' جوہری اور روایتی اعتماد سازی کے پہلے سے اپنائے گئے اقدامات پر جاری عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اس بارے میں ماہرین کی سطح پر گروپوں کے الگ الگ اجلاس ہوں گے جن میں موجودہ اعتماد سازی کے اقدامات پر عملدرآمد اور انھیں مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال ہوگا۔ فریقین نے کنٹرول لائن کے آر پار اعتماد سازی کے موجودہ اقدامات کو مضبوط بنانے کی ضرورت تسلیم کی تاکہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب سفر اور تجارت میں مدد مل سکے۔
اگرچہ بی بی سی نے قرار دیا ہے کہ مشترکہ بیان سے تاثر ملتا ہے کہ کسی بھی محاذ پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی لیکن حقیقت یہی ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والے ان خارجہ سیکریٹری کی سطح کے مذاکرات میں بہت سے معاملات ابھر کر سامنے آئے اور ان میں سے کئی ایک پر غور و خوض کے بعد اتفاق رائے بھی کیا گیا۔ مثلاً باہمی اتفاق رائے بڑھانے اور اختلافات میں کمی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے نتیجہ خیز بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق رائے ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ ماضی میں یہی بھارتی قیادت نہ صرف مذاکرات سے گریزاں رہی بلکہ مسئلہ کشمیر کا نام لینے سے بھی گھبراتی تھی۔
یہ ابھی ماضی قریب کی بات ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے بار بار دعوت دینے پر بھی بھارتی قیادت بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہوتی تھی۔ بعد ازاں اس خطے' دونوں ملکوں میں پیش آنے والے بعض واقعات' دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں و قربانیوں اور خود بھارت میں شدت پسندی و انتہا پسندی میں ہونے والے بے انتہا اضافے نے بھارتی قیادت کو یہ احساس دلا دیا کہ اگر سرحد کے دونوں جانب بڑھنے والی اس انتہا پسندی کے قلع قمع کے لیے پاکستان کے ساتھ ہاتھ نہ ملایا گیا تو ایک روز یہ عفریت دونوں ملکوں کو اپنا یرغمال بنا لے گا' تب اس کمبل سے جان چھڑانا شاید ممکن نہ رہے۔ یہ واضح طور پر ایک بڑی تبدیلی ہے جس کا احساس اور ادراک کیا جانا چاہیے کہ آگے بڑھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔
بھارت کا مسئلہ کشمیر حل کرنے پر راضی ہونا ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ اس نے کشمیر کو ایک متنازع معاملہ تسلیم کر لیا ہے۔ امید ہے کہ بات چیت کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ان اہم مسائل کے حل کی کوئی راہ نکال لی جائے گی۔ دونوں ممالک کی جانب سے دہشت گردی کو امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ قرار دیتے ہوئے اس لعنت کے خاتمے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرنا اس امر کے ثبوت کے طور پر لیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی طرح بالآخر بھارتی قیادت کو بھی دہشت گردی کی تباہ کاریوں کا ادراک ہو گیا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کو ان ممالک کا داخلی معاملہ گردانتے ہوئے اس سے صرف نظر اختیار کرنے کی کوشش کی تو ایک روز اسے بھی ویسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے' بھارت کی سوچ میں یہ تبدیلی یقیناً خوش آیند ہے اور اس کے اس خطے میں امن قائم کرنے کے ایشوز پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر اعتماد کیا جائے لیکن صورتحال یہ ہے کہ سانحہ ممبئی کو چار سال پورے ہونے کو ہیں اور اس دوران پاکستان نے ان حملوں کے حوالے سے کافی تحقیقات اور تفتیش کی اور ان کے نتائج سے بھارت کو آگاہ بھی کیا' اس کے باوجود پاکستان کو شک کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے سیکریٹری خارجہ کو پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کرنا پڑا کہ 2008 کے ممبئی حملوں میں پاکستان کا کوئی سرکاری ادارہ ملوث نہیں تھا۔ اگر ایسے معاملات بار بار آڑے آتے رہے تو آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا اس لیے بھارتی قیادت کو پاکستان کی طرح کھلے دل اور ذہن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑے گا۔ یاد رہے دوطرفہ ویزے کے نظرثانی شدہ معاہدے کے مسودے کو پہلے ہی حتمی شکل دی جا چکی ہے اور اس پر جلد دستخطوں کی راہ ہموار کی جائے گی' یہ معاملہ بھی مذاکرات میں زیر غور لایا گیا۔
مذاکرات میں ایک دوسرے کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کی اہمیت کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ بھی طے پایا کہ خارجہ سیکریٹری ستمبر میں وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تیاری کے لیے دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔ مذاکرات کے اختتام پر جلیل عباس جیلانی نے مشترکہ پریس بریفنگ میں کہا کہ حملوں کے سلسلے میں بھارت کو جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ پاکستان کو بھی فراہم کی جانی چاہیے، ہم اس کی تفتیش کریں گے۔ امید کی جاتی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کا اگلا دور اس سے زیادہ خوشگوار ماحول میں ہو گا اور اس کے نتائج بھی زیادہ بہتر نکلیں گے۔
مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں فریقین نے نتیجہ خیز اور بامقصد انداز میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لیے اپنی خواہشات کا اعادہ کیا' جوہری اور روایتی اعتماد سازی کے پہلے سے اپنائے گئے اقدامات پر جاری عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اس بارے میں ماہرین کی سطح پر گروپوں کے الگ الگ اجلاس ہوں گے جن میں موجودہ اعتماد سازی کے اقدامات پر عملدرآمد اور انھیں مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال ہوگا۔ فریقین نے کنٹرول لائن کے آر پار اعتماد سازی کے موجودہ اقدامات کو مضبوط بنانے کی ضرورت تسلیم کی تاکہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب سفر اور تجارت میں مدد مل سکے۔
اگرچہ بی بی سی نے قرار دیا ہے کہ مشترکہ بیان سے تاثر ملتا ہے کہ کسی بھی محاذ پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی لیکن حقیقت یہی ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والے ان خارجہ سیکریٹری کی سطح کے مذاکرات میں بہت سے معاملات ابھر کر سامنے آئے اور ان میں سے کئی ایک پر غور و خوض کے بعد اتفاق رائے بھی کیا گیا۔ مثلاً باہمی اتفاق رائے بڑھانے اور اختلافات میں کمی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل تلاش کرنے کے لیے نتیجہ خیز بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق رائے ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ ماضی میں یہی بھارتی قیادت نہ صرف مذاکرات سے گریزاں رہی بلکہ مسئلہ کشمیر کا نام لینے سے بھی گھبراتی تھی۔
یہ ابھی ماضی قریب کی بات ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے بار بار دعوت دینے پر بھی بھارتی قیادت بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہوتی تھی۔ بعد ازاں اس خطے' دونوں ملکوں میں پیش آنے والے بعض واقعات' دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں و قربانیوں اور خود بھارت میں شدت پسندی و انتہا پسندی میں ہونے والے بے انتہا اضافے نے بھارتی قیادت کو یہ احساس دلا دیا کہ اگر سرحد کے دونوں جانب بڑھنے والی اس انتہا پسندی کے قلع قمع کے لیے پاکستان کے ساتھ ہاتھ نہ ملایا گیا تو ایک روز یہ عفریت دونوں ملکوں کو اپنا یرغمال بنا لے گا' تب اس کمبل سے جان چھڑانا شاید ممکن نہ رہے۔ یہ واضح طور پر ایک بڑی تبدیلی ہے جس کا احساس اور ادراک کیا جانا چاہیے کہ آگے بڑھنے کے لیے یہ ضروری ہے۔
بھارت کا مسئلہ کشمیر حل کرنے پر راضی ہونا ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ اس نے کشمیر کو ایک متنازع معاملہ تسلیم کر لیا ہے۔ امید ہے کہ بات چیت کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ان اہم مسائل کے حل کی کوئی راہ نکال لی جائے گی۔ دونوں ممالک کی جانب سے دہشت گردی کو امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ قرار دیتے ہوئے اس لعنت کے خاتمے کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرنا اس امر کے ثبوت کے طور پر لیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی طرح بالآخر بھارتی قیادت کو بھی دہشت گردی کی تباہ کاریوں کا ادراک ہو گیا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کو ان ممالک کا داخلی معاملہ گردانتے ہوئے اس سے صرف نظر اختیار کرنے کی کوشش کی تو ایک روز اسے بھی ویسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے' بھارت کی سوچ میں یہ تبدیلی یقیناً خوش آیند ہے اور اس کے اس خطے میں امن قائم کرنے کے ایشوز پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
تاہم اس منزل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر اعتماد کیا جائے لیکن صورتحال یہ ہے کہ سانحہ ممبئی کو چار سال پورے ہونے کو ہیں اور اس دوران پاکستان نے ان حملوں کے حوالے سے کافی تحقیقات اور تفتیش کی اور ان کے نتائج سے بھارت کو آگاہ بھی کیا' اس کے باوجود پاکستان کو شک کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے سیکریٹری خارجہ کو پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کرنا پڑا کہ 2008 کے ممبئی حملوں میں پاکستان کا کوئی سرکاری ادارہ ملوث نہیں تھا۔ اگر ایسے معاملات بار بار آڑے آتے رہے تو آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا اس لیے بھارتی قیادت کو پاکستان کی طرح کھلے دل اور ذہن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑے گا۔ یاد رہے دوطرفہ ویزے کے نظرثانی شدہ معاہدے کے مسودے کو پہلے ہی حتمی شکل دی جا چکی ہے اور اس پر جلد دستخطوں کی راہ ہموار کی جائے گی' یہ معاملہ بھی مذاکرات میں زیر غور لایا گیا۔
مذاکرات میں ایک دوسرے کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کی اہمیت کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ بھی طے پایا کہ خارجہ سیکریٹری ستمبر میں وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تیاری کے لیے دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔ مذاکرات کے اختتام پر جلیل عباس جیلانی نے مشترکہ پریس بریفنگ میں کہا کہ حملوں کے سلسلے میں بھارت کو جو معلومات حاصل ہوئی ہیں وہ پاکستان کو بھی فراہم کی جانی چاہیے، ہم اس کی تفتیش کریں گے۔ امید کی جاتی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کا اگلا دور اس سے زیادہ خوشگوار ماحول میں ہو گا اور اس کے نتائج بھی زیادہ بہتر نکلیں گے۔