پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا فیصلہ
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتہ کو مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں پارٹی اجلاس کے دوران۔۔۔
وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی اجلاس میں پنجاب میں نئے بلدیاتی الیکشن غیرجماعتی بنیادوں پر کرانے کے مسودے کی منظوری دے دی۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتہ کو مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں پارٹی اجلاس کے دوران پنجاب میں نئے نظام کے تحت بلدیاتی الیکشن غیرجماعتی بنیادوں پر کرانے کے مسودے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم نے نئے بلدیاتی نظام کی افادیت کے بارے میں واضح کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی نظام میں صحت اور تعلیم پر توجہ دی جائے گی اور بلدیاتی ادارے مستحکم کر کے ہی جمہوریت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ جمہوری حکومت نے اپنے دور میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریز کیا حتیٰ کہ متعدد سیاسی جماعتوں کی جانب سے بارہا بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا جاتا رہا مگر وہ پورا نہ ہو سکا۔
حیران کن امر ہے کہ آمرانہ دور میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد ہوتا رہا اور گلی محلے کی سطح پر عوام کے مسائل ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے حل کیے جاتے رہے مگر جمہوری حکومتوں کے دور میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے اعراض ہی برتا گیا۔ ممکن ہے کہ منتخب ارکان اسمبلی کا یہ خیال ہو کہ عوام کے مقامی مسائل حل کرنے کے اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل ہونے سے ان کی قدرو قیمت میں کمی آ جائے گی اور آئندہ عام انتخابات جیتنے میں انھیں دشواری کا سامنا ہو گا۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک نئے بلدیاتی نظام کا تجربہ کیا جسے ضلعی اور مقامی حکومتوں کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت منتخب بلدیاتی نمائندوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کیے گئے اور ان کے ذریعے مقامی آبادیوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اب جمہوری حکومت نے بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ جنرل مشرف کے زمانے کے بلدیاتی نظام سے مختلف نظام ہو گا۔
اب پنجاب میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کی منظوری دی گئی ہے۔ اگرچہ صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتیں بھی بلدیاتی انتخابات کرانے کا عندیہ دے چکی ہیں مگر ابھی تک ان کی جانب سے اس کے انعقاد کے واضح ٹائم فریم کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے انتخابات غیرجماعتی بنیادوں پر کرانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح معاشرے کے تمام افراد ان میں حصہ لے سکیں گے اور سیاسی جماعتیں بھی کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکیں گی۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو گی لیکن اگر حکومت بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے تو اس سے ان انتخابات میں عوام بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے کیونکہ ہر سیاسی جماعت زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے عوام کو زیادہ متحرک کرتی ہے جس سے ٹرن آؤٹ بھی بڑھتا ہے اور ہر سیاسی جماعت کی عوامی سطح پر مقبولیت کا اندازہ بھی بخوبی ہو جاتا ہے۔
غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات سے بااثر اور طاقتور افراد سامنے آتے ہیں اور برادری ازم کو فروغ ملتا ہے جب کہ جماعتی بنیادوں پر عام آدمی کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کا موقع میسر آتا ہے جس کا تعلق بااثر افراد کی بہ نسبت عام لوگوں کے ساتھ زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ اگرچہ بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے امیدوار سامنے لانے کی منظوری دی گئی ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اپنے امیدوار سامنے لائیں گی تو انتخابات بظاہر غیرجماعتی ہوں گے مگر عملی طور پر جماعتی ہو جائیں گے۔ اس لیے اگر حکومت اسے جماعتی انتخابات قرار دے دے تو اس سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عوامی سطح پر جوش وخروش بڑھ جائے گا۔ لوکل گورنمنٹ بل 2013ء کے مسودہ کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی عمر کم ازکم 25 سال ہوگی۔
شہری اور دیہی سطح پر علیحدہ علیحدہ کونسلیں ہوں گی جن میں یوتھ' ٹیکنوکریٹس کی نشستیں بھی گراس روٹ لیول سے ہوں گی۔ وارڈز میں گیارہ کونسلرز جن میں ایک چیئرمین اور ایک وائس چیئرمین' اس کے علاوہ دو خواتین' ایک کسان اور اقلیتی ممبر ہو گا۔ چائلڈ پروٹیکشن اور پاپولیشن کے محکموں کو لوکل گورنمنٹ سسٹم کی سطح پر لایا جائے گا جب کہ ایجوکیشن' ہیلتھ کی اتھارٹیز بھی اضلاع کی سطح پر بنائی جائیں گی۔ پنجاب کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں ایک ہی وقت پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے تو اس سے جمہوری نظام کے تحت ہونے والے انتخابات کے ذریعے اختیارات کی تقسیم کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا اور اس کے ثمرات گراس روٹ لیول تک پہنچیں گے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہفتہ کو مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاؤن لاہور میں پارٹی اجلاس کے دوران پنجاب میں نئے نظام کے تحت بلدیاتی الیکشن غیرجماعتی بنیادوں پر کرانے کے مسودے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم نے نئے بلدیاتی نظام کی افادیت کے بارے میں واضح کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی نظام میں صحت اور تعلیم پر توجہ دی جائے گی اور بلدیاتی ادارے مستحکم کر کے ہی جمہوریت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ جمہوری حکومت نے اپنے دور میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریز کیا حتیٰ کہ متعدد سیاسی جماعتوں کی جانب سے بارہا بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا جاتا رہا مگر وہ پورا نہ ہو سکا۔
حیران کن امر ہے کہ آمرانہ دور میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد ہوتا رہا اور گلی محلے کی سطح پر عوام کے مسائل ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے حل کیے جاتے رہے مگر جمہوری حکومتوں کے دور میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد سے اعراض ہی برتا گیا۔ ممکن ہے کہ منتخب ارکان اسمبلی کا یہ خیال ہو کہ عوام کے مقامی مسائل حل کرنے کے اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل ہونے سے ان کی قدرو قیمت میں کمی آ جائے گی اور آئندہ عام انتخابات جیتنے میں انھیں دشواری کا سامنا ہو گا۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک نئے بلدیاتی نظام کا تجربہ کیا جسے ضلعی اور مقامی حکومتوں کا نام دیا گیا۔ اس کے تحت منتخب بلدیاتی نمائندوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کیے گئے اور ان کے ذریعے مقامی آبادیوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ اب جمہوری حکومت نے بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ جنرل مشرف کے زمانے کے بلدیاتی نظام سے مختلف نظام ہو گا۔
اب پنجاب میں غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کی منظوری دی گئی ہے۔ اگرچہ صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتیں بھی بلدیاتی انتخابات کرانے کا عندیہ دے چکی ہیں مگر ابھی تک ان کی جانب سے اس کے انعقاد کے واضح ٹائم فریم کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے انتخابات غیرجماعتی بنیادوں پر کرانے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح معاشرے کے تمام افراد ان میں حصہ لے سکیں گے اور سیاسی جماعتیں بھی کسی قسم کی مداخلت نہیں کر سکیں گی۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو گی لیکن اگر حکومت بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے تو اس سے ان انتخابات میں عوام بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے کیونکہ ہر سیاسی جماعت زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے عوام کو زیادہ متحرک کرتی ہے جس سے ٹرن آؤٹ بھی بڑھتا ہے اور ہر سیاسی جماعت کی عوامی سطح پر مقبولیت کا اندازہ بھی بخوبی ہو جاتا ہے۔
غیرجماعتی بنیادوں پر انتخابات سے بااثر اور طاقتور افراد سامنے آتے ہیں اور برادری ازم کو فروغ ملتا ہے جب کہ جماعتی بنیادوں پر عام آدمی کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کا موقع میسر آتا ہے جس کا تعلق بااثر افراد کی بہ نسبت عام لوگوں کے ساتھ زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ اگرچہ بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے امیدوار سامنے لانے کی منظوری دی گئی ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اپنے امیدوار سامنے لائیں گی تو انتخابات بظاہر غیرجماعتی ہوں گے مگر عملی طور پر جماعتی ہو جائیں گے۔ اس لیے اگر حکومت اسے جماعتی انتخابات قرار دے دے تو اس سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے عوامی سطح پر جوش وخروش بڑھ جائے گا۔ لوکل گورنمنٹ بل 2013ء کے مسودہ کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی عمر کم ازکم 25 سال ہوگی۔
شہری اور دیہی سطح پر علیحدہ علیحدہ کونسلیں ہوں گی جن میں یوتھ' ٹیکنوکریٹس کی نشستیں بھی گراس روٹ لیول سے ہوں گی۔ وارڈز میں گیارہ کونسلرز جن میں ایک چیئرمین اور ایک وائس چیئرمین' اس کے علاوہ دو خواتین' ایک کسان اور اقلیتی ممبر ہو گا۔ چائلڈ پروٹیکشن اور پاپولیشن کے محکموں کو لوکل گورنمنٹ سسٹم کی سطح پر لایا جائے گا جب کہ ایجوکیشن' ہیلتھ کی اتھارٹیز بھی اضلاع کی سطح پر بنائی جائیں گی۔ پنجاب کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں ایک ہی وقت پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے تو اس سے جمہوری نظام کے تحت ہونے والے انتخابات کے ذریعے اختیارات کی تقسیم کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا اور اس کے ثمرات گراس روٹ لیول تک پہنچیں گے۔