سندھ میں ڈائریا کی وبا پھیل گئی 24 ہزار افراد متاثر
ڈائریکٹرجنرل ہیلتھ ڈاکٹر اشفاق میمن نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں 4 ہزار بچے زیر علاج ہیں.
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق17اگست تک کراچی سمیت صوبے میں24 ہزار افراد ڈائریا کے مرض میں رپورٹ ہوچکے ہیں. فوٹو: فائل
لاہور:
کراچی سمیت اندرون سندھ میں ڈنگی کے ساتھ ڈائریا کا مرض بھی ہولناک صورت اختیارکررہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق17اگست تک کراچی سمیت صوبے میں24 ہزار افراد ڈائریا کے مرض میں رپورٹ ہوچکے ہیں ان میں بچوں اورخواتین کی تعداد نصف بتائی گئی ہے، ڈائریکٹرجنرل ہیلتھ ڈاکٹر اشفاق میمن نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں 4 ہزار بچے زیر علاج ہیں جبکہ خواتین کی تعداد بھی 8 ہزار سے زائد ہوچکی ہیں انھوں نے کہاکہ ڈائریا کا مرض کراچی کے مقابلے میں اندرون سندھ میں ہولناک صورت اختیارکرتا جارہا ہے، بارشوںکے بعد صٖفائی وستھرائی اورگندگی کی صورتحال اور آلودہ پانی کی وجہ سے ڈائریا کا مرض پھیل رہا ہے۔
ڈاکٹر اشفاق میمن نے بتایاکہ ڈائریا کا مرض بارشوں کے موسم میں تیزی سے جنم لیتا ہے کیونکہ اس موسم میں مکھیوںکی بہتات غیر معمولی ہوجاتی ہے اورکھانے پینے کی اشیا کوگنداکرکے ڈائریا کے جراثیم پھیلانے کا سبب بنتی ہے، انھوں نے کہاکہ بارشوں میں پینے کے آلودہ پانی سے ڈائریا، ہیضہ اورگیسٹرو کی بیماریاں بھی تیزی سے جنم لے رہی ہیں یہی وجہ ہے اندرون سندھ ڈائریا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے انھوں نے کہاکہ صرف17دن میں 24 ہزار ڈائریاکے مریض رپورٹ ہونا ہولناک ترین صورتحال ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سیکریٹری صحت نے اندرون سندھ کے اسپتالوں میں پہلے ہی ایمرجنسی نافذکررکھی ہے اور ان اسپتالوں میں مریضوں کو دوائوں اور جان بچانے والی دوائوں کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے، واضح رہے امسال سندھ بھر میں ڈنگی وائرس اور دیگر وبائی امراض بے قابو ہو رہے ہیں۔
کراچی سمیت اندرون سندھ میں ڈنگی کے ساتھ ڈائریا کا مرض بھی ہولناک صورت اختیارکررہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق17اگست تک کراچی سمیت صوبے میں24 ہزار افراد ڈائریا کے مرض میں رپورٹ ہوچکے ہیں ان میں بچوں اورخواتین کی تعداد نصف بتائی گئی ہے، ڈائریکٹرجنرل ہیلتھ ڈاکٹر اشفاق میمن نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں 4 ہزار بچے زیر علاج ہیں جبکہ خواتین کی تعداد بھی 8 ہزار سے زائد ہوچکی ہیں انھوں نے کہاکہ ڈائریا کا مرض کراچی کے مقابلے میں اندرون سندھ میں ہولناک صورت اختیارکرتا جارہا ہے، بارشوںکے بعد صٖفائی وستھرائی اورگندگی کی صورتحال اور آلودہ پانی کی وجہ سے ڈائریا کا مرض پھیل رہا ہے۔
ڈاکٹر اشفاق میمن نے بتایاکہ ڈائریا کا مرض بارشوں کے موسم میں تیزی سے جنم لیتا ہے کیونکہ اس موسم میں مکھیوںکی بہتات غیر معمولی ہوجاتی ہے اورکھانے پینے کی اشیا کوگنداکرکے ڈائریا کے جراثیم پھیلانے کا سبب بنتی ہے، انھوں نے کہاکہ بارشوں میں پینے کے آلودہ پانی سے ڈائریا، ہیضہ اورگیسٹرو کی بیماریاں بھی تیزی سے جنم لے رہی ہیں یہی وجہ ہے اندرون سندھ ڈائریا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے انھوں نے کہاکہ صرف17دن میں 24 ہزار ڈائریاکے مریض رپورٹ ہونا ہولناک ترین صورتحال ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے سیکریٹری صحت نے اندرون سندھ کے اسپتالوں میں پہلے ہی ایمرجنسی نافذکررکھی ہے اور ان اسپتالوں میں مریضوں کو دوائوں اور جان بچانے والی دوائوں کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے، واضح رہے امسال سندھ بھر میں ڈنگی وائرس اور دیگر وبائی امراض بے قابو ہو رہے ہیں۔