اسکول وین ڈرائیور کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت نہ ہوسکی
ملزمان کو گرفتار اور مقتول کے بیوی بچوں کیلیے معاوضے کا اعلان کیا جائے، اہلخانہ
ملزمان کو گرفتار اور مقتول کے بیوی بچوں کیلیے معاوضے کا اعلان کیا جائے، اہلخانہ۔ فوٹو: فائل
عید الفطر کے دوسرے روز فائرنگ کر کے قتل کیے جانے والے اسکول وین ڈرائیور کے قتل کی تحقیقات میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
مقتول5 بچوں کا باپ اور9 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر تھا ، مقتول کے اہلخانہ نے قتل میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے اور مقتول کے بیوی بچوں کے لیے مالی معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے دوسرے روز 10اگست کو سولجر بازار تھانے کی حدود میں لسبیلہ چوک کے قریب معمولی تنازع پر جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہو نے والے مکان نمبر426 باران گوٹھ گارڈن ایسٹ کے رہائشی امیر علی باران ولد دوست محمد باران کے قتل کے واقعے کو 9 روز گزر جانے کے باوجود تحقیقات میں تاحال کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
مقتول اہلخانہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ امیر علی باران اسکول وین چلا کر گھر والوں کی کفالت کیا کرتا تھا،مقتول4 بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ تھا جبکہ 9 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا ، انھوں نے بتایا کہ مقتول امیر علی باران کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 219/2013 سولجر بازار تھانے میں درج ہے اور ابتدائی طور پر مقدمے میں ملزمان کو نامزد بھی کیا گیا ہے تاہم انھیں مقدمہ درج کرانے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ مقدمے میں کچھ نام غلط فہمی کی بنیاد پر شامل ہو گئے ہیں اور وہ چاہتے ہیں ان کے نام مقدمے سے نکال کر اصل ملزمان کے نام مقدمے میں شامل کیے جائیں، انھوں نے بتایا کہ وہ کسی بے گناہ کو مقدمے میں نامزد کر کے اس کی زندگی خراب نہیں کرتا چاہتے، انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ مقتول امیر علی باران کے قتل میں ملوث اصل ملزمان کو فل الفور گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے جبکہ وہ حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مقتول کے بیوی بچوں کے لیے مالی معاوضہ کا اعلان کیا جائے، دوسری جانب سولجر بازار تھانے کے انویسٹی گیشن افسر سب انسپکٹر زاہد نے بتایا کہ پولیس کو جائے وقوع سے 30 بور پستول کا ایک خالی خول ملا ہے جسے تجزیے کے لیے بجھوا دیا گیا ہے جس کی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی، انھوں نے بتایا کہ تحقیقات میں اب تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی تاہم پولیس تحقیقات کر رہی جلد کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔
مقتول5 بچوں کا باپ اور9 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر تھا ، مقتول کے اہلخانہ نے قتل میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے اور مقتول کے بیوی بچوں کے لیے مالی معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے دوسرے روز 10اگست کو سولجر بازار تھانے کی حدود میں لسبیلہ چوک کے قریب معمولی تنازع پر جھگڑے کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہو نے والے مکان نمبر426 باران گوٹھ گارڈن ایسٹ کے رہائشی امیر علی باران ولد دوست محمد باران کے قتل کے واقعے کو 9 روز گزر جانے کے باوجود تحقیقات میں تاحال کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
مقتول اہلخانہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ امیر علی باران اسکول وین چلا کر گھر والوں کی کفالت کیا کرتا تھا،مقتول4 بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ تھا جبکہ 9 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا ، انھوں نے بتایا کہ مقتول امیر علی باران کے قتل کا مقدمہ الزام نمبر 219/2013 سولجر بازار تھانے میں درج ہے اور ابتدائی طور پر مقدمے میں ملزمان کو نامزد بھی کیا گیا ہے تاہم انھیں مقدمہ درج کرانے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ مقدمے میں کچھ نام غلط فہمی کی بنیاد پر شامل ہو گئے ہیں اور وہ چاہتے ہیں ان کے نام مقدمے سے نکال کر اصل ملزمان کے نام مقدمے میں شامل کیے جائیں، انھوں نے بتایا کہ وہ کسی بے گناہ کو مقدمے میں نامزد کر کے اس کی زندگی خراب نہیں کرتا چاہتے، انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ مقتول امیر علی باران کے قتل میں ملوث اصل ملزمان کو فل الفور گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے جبکہ وہ حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مقتول کے بیوی بچوں کے لیے مالی معاوضہ کا اعلان کیا جائے، دوسری جانب سولجر بازار تھانے کے انویسٹی گیشن افسر سب انسپکٹر زاہد نے بتایا کہ پولیس کو جائے وقوع سے 30 بور پستول کا ایک خالی خول ملا ہے جسے تجزیے کے لیے بجھوا دیا گیا ہے جس کی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی، انھوں نے بتایا کہ تحقیقات میں اب تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی تاہم پولیس تحقیقات کر رہی جلد کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ جائے گی۔