گیس کمپنی کے کنٹریکٹ ملازم کے بچوں کا دوبارہ احتجاج
والد 20 برس سے کمپنی میں کام کررہے ہیں ، مستقل نہیں کیا جارہا ، نثار بگھیو
ملازم کے بڑے بیٹے نثار بگھیو نے بتایا کہ اس کے والدسوئی سدرن گیس کمپنی میں 20 برس سے عارضی ملازم کی حیثیت سے کام کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود انھیںتاحال مستقل نہیں کیا گیا. فوٹو: فائل
سوئی سدرن گیس کمپنی کے کانٹریکٹ ملازم پیر بخش بگھیو کو مستقل نہ کیے جانے کے خلاف اس کے بچوں نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے دوبارہ احتجاج شروع کردیا۔
اس موقع پر ملازم کے بڑے بیٹے نثار بگھیو نے بتایا کہ اس کے والدسوئی سدرن گیس کمپنی میں 20 برس سے عارضی ملازم کی حیثیت سے کام کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود انھیںتاحال مستقل نہیں کیا گیا جبکہ انتظامیہ نے اس کے والد کے ساتھ کام کرنے والے تمام عارضی ملازمین کو مستقل کردیا ہے۔
اس نے بتایا کہ اس نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ہمراہ والدکو مستقل نہ کیے جانے پرگیس انتظامیہ کے خلاف مسلسل 2 ماہ تک پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور اس کے والد نے دلبرداشتہ ہوکر جشن آزادی کے دن احتجاجاً پریس کلب کے سامنے خود پر پٹرول ڈال کرخود سوزی کی کوشش کی۔ اُس نے بتایا کہ ایک بار پھر وہ یہ امید لیے پریس کلب کے سامنے احتجاج کررہے ہیں کہ سوئی گیس انتظامیہ اس بارکیے جانے والے احتجاج کا نوٹس لیں اور اس کے والد کو مستقل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
اس موقع پر ملازم کے بڑے بیٹے نثار بگھیو نے بتایا کہ اس کے والدسوئی سدرن گیس کمپنی میں 20 برس سے عارضی ملازم کی حیثیت سے کام کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود انھیںتاحال مستقل نہیں کیا گیا جبکہ انتظامیہ نے اس کے والد کے ساتھ کام کرنے والے تمام عارضی ملازمین کو مستقل کردیا ہے۔
اس نے بتایا کہ اس نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ہمراہ والدکو مستقل نہ کیے جانے پرگیس انتظامیہ کے خلاف مسلسل 2 ماہ تک پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور اس کے والد نے دلبرداشتہ ہوکر جشن آزادی کے دن احتجاجاً پریس کلب کے سامنے خود پر پٹرول ڈال کرخود سوزی کی کوشش کی۔ اُس نے بتایا کہ ایک بار پھر وہ یہ امید لیے پریس کلب کے سامنے احتجاج کررہے ہیں کہ سوئی گیس انتظامیہ اس بارکیے جانے والے احتجاج کا نوٹس لیں اور اس کے والد کو مستقل کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔