شارع فیصل پر بھی اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع ہوگئیں
ملزمان کالا بورڈ سے کارساز سگنل تک آنے جانیوالوں پر نظر رکھتے ہیں،واردات میں موٹرسائیکلیں اور ہائی روف استعمال ہوتی ہے
گزشتہ ہفتے گلشن اقبال کے طالبعلم کو تاوان وصول کرکے چھوڑا گیا، شارع فیصل پر رات کے وقت وارداتوں میں اضافہ ہو گیا۔ فوٹو: فائل
شارع فیصل پر بھی اغوا برائے تاوان کی وارداتوں شروع ہو گئیں، ملزمان واردات کے لیے موٹر سائیکلیں اور ہائی روف استعمال کرتے ہیں، ملزمان کے ساتھ ہائی روف میں خاتون بھی سوار ہوتی ہے۔
گزشتہ ہفتے گلشن اقبال کے رہائشی ایک طالب علم کو اغوا کر کے تاوان وصول کر کے چھوڑ اگیا، ذرائع کے مطابق شہر کے دیگر علاقوں کی طرح شارع فیصل پر اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع ہو گئی ہے، ملزمان ملیر کالا بورڈ سے کارساز سگنل تک آنے جانیوالے لوگوں پر نظر رکھتے ہیں اور موقع ملتے ہی موٹر سائیکل سوار یا کار سوار کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے جاتے ہیں اور مغوی کے گھر والوں سے اسی کے فون کے ذریعے رابطہ کر کے تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں، مغوی کو کچھ دن اپنے پاس رکھنے کے بعد اس کے گھر والوں سے رقم طے ہونے پر رقم وصول کرنے کے بعد رہا کر دیتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ملزمان واردات کیلیے موٹر سائیکلیں اور ہائی روف استعمال کرتے ہیں، اغوا کاروں میں خاتون بھی شامل ہے جو ہائی روف میں سوار ہوتی ہے، ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اغوا کاروں نے گلشن اقبال بلاک 3 ،13/D کے رہائشی متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے طالبعلم کو کارساز کے قریب سے اس وقت اغوا کیا جب وہ ائیر پورٹ کی طرف سے موٹر سائیکل پر گھر آتے ہوئے چلتی موٹر سائیکل پر اپنے قیمتی موبائل فون سے کسی کا فون سن رہا تھا، ملزمان اسے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے، مغوی کے گھر والوں سے رابطہ کر کے50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا، 3 دن تک ملزمان مغوی کے گھر والوں سے بات چیت کرتے رہے جسکے بعد ساڑھے 7 لاکھ روپے میں مغوی کو رہا کرنیکا معاملہ طے پایا۔
ذرائع نے بتایا کہ مغوی کے والد نے اپنے جاننے والے مختلف لوگوں سے ادھار رقم لینے کے بعد چوتھے روز مغوی کو چھڑا لیا، ملزمان نے مغوی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جبکہ پورے دن میں اسے ایک وقت کا کھانا دیتے تھے، واضح رہے شارع فیصل پر رات کے وقت جناح اسپتال کی طرف جانیوالے سگنل سے کار ساز تک اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان موٹر سائیکل سواروں کو روک کر نقدی اور موبائل فون لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ ملزمان وارداتیں بلا خوف کرتے ہیں، شارع فیصل کارساز سگنل کے ایک طرف پولیس موبائل کھڑی ہوتی ہے تو ائیر پورٹ کی طرف جانے والے راستے پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
گزشتہ ہفتے گلشن اقبال کے رہائشی ایک طالب علم کو اغوا کر کے تاوان وصول کر کے چھوڑ اگیا، ذرائع کے مطابق شہر کے دیگر علاقوں کی طرح شارع فیصل پر اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع ہو گئی ہے، ملزمان ملیر کالا بورڈ سے کارساز سگنل تک آنے جانیوالے لوگوں پر نظر رکھتے ہیں اور موقع ملتے ہی موٹر سائیکل سوار یا کار سوار کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے جاتے ہیں اور مغوی کے گھر والوں سے اسی کے فون کے ذریعے رابطہ کر کے تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں، مغوی کو کچھ دن اپنے پاس رکھنے کے بعد اس کے گھر والوں سے رقم طے ہونے پر رقم وصول کرنے کے بعد رہا کر دیتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ملزمان واردات کیلیے موٹر سائیکلیں اور ہائی روف استعمال کرتے ہیں، اغوا کاروں میں خاتون بھی شامل ہے جو ہائی روف میں سوار ہوتی ہے، ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اغوا کاروں نے گلشن اقبال بلاک 3 ،13/D کے رہائشی متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے طالبعلم کو کارساز کے قریب سے اس وقت اغوا کیا جب وہ ائیر پورٹ کی طرف سے موٹر سائیکل پر گھر آتے ہوئے چلتی موٹر سائیکل پر اپنے قیمتی موبائل فون سے کسی کا فون سن رہا تھا، ملزمان اسے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے، مغوی کے گھر والوں سے رابطہ کر کے50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا، 3 دن تک ملزمان مغوی کے گھر والوں سے بات چیت کرتے رہے جسکے بعد ساڑھے 7 لاکھ روپے میں مغوی کو رہا کرنیکا معاملہ طے پایا۔
ذرائع نے بتایا کہ مغوی کے والد نے اپنے جاننے والے مختلف لوگوں سے ادھار رقم لینے کے بعد چوتھے روز مغوی کو چھڑا لیا، ملزمان نے مغوی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جبکہ پورے دن میں اسے ایک وقت کا کھانا دیتے تھے، واضح رہے شارع فیصل پر رات کے وقت جناح اسپتال کی طرف جانیوالے سگنل سے کار ساز تک اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان موٹر سائیکل سواروں کو روک کر نقدی اور موبائل فون لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ ملزمان وارداتیں بلا خوف کرتے ہیں، شارع فیصل کارساز سگنل کے ایک طرف پولیس موبائل کھڑی ہوتی ہے تو ائیر پورٹ کی طرف جانے والے راستے پر لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔