خیبرپختونخوا میں اطلاعات تک رسائی کا آرڈیننس نافذ ادارے 10 روز میں معلومات دینے کے پابند ہونگے

احتساب کے بغیراختیار سے کرپشن کی راہیں نکلتی ہیں، شہریوں کو آئینی حق حاصل ہونے سمیت خود۔۔۔، وزیراعلیٰ پرویز خٹک

گدون میں بند صنعتوں کو دوبارہ چلانے کیلیے سستی بجلی دینگے، سی سی آئی میں تمام مطالبات سے اتفاق رائے کیا گیا تھا، جمہوریت معاشرے کی اجتماعی آواز ہوتی ہے جو عوام کو اپنے لیے فیصلے کرنے کا اختیار دیتی ہے، خطاب فوٹو : فائل

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے کہا ہے کہ رائٹ ٹوانفارمیشن(معلومات تک حق رسائی) آرڈنینس2013 کا نفاذ خیبرپختونخوامیں نہ صرف گڈ گورننس کی بنیاد ثابت ہوگا بلکہ یہ سرکاری محکموں اور اداروں میں کرپشن کے خاتمے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

وہ رائٹ ٹوانفارمیشن آرڈنینس کے نفاذکے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مہمان خصوصی تھے۔ وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے کہا کہ ہم سب سے پہلے خودکو احتساب کے لیے پیش کریں گے۔ اختیار کے ساتھ احتساب کا عمل ناگزیر ہے کیونکہ احتساب کے بغیر اختیار کے نتیجے میں کرپشن کی راہیں نکلتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس نئے قانون سے تمام سرکاری محکموں، اداروں میں کرپشن کا خاتمہ اور ہر سطح پر شفافیت وخوداحتسابی یقینی ہوگی اورایک صاف ستھری حکمرانی کے عزم کاواضح اظہارہوگا۔ ہمیں اطلاعات اس خوف سے پوشیدہ نہیں رکھنی چاہئیں کہ ان سے سرکاری اہلکاروں کو عوام کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔




اطلاعات تک رسائی کے قانون کی بدولت شہریوں کو عوامی اہمیت کے امورتک سہل رسائی ہوگی اور حکومتی اداروں میں احتساب اور شفافیت بھی یقینی ہوجائے گی۔ ایک روشن خیال معاشرے کے رکن کی حیثیت سے لوگوں کو معلومات تک رسائی کے حق سے مزید محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج صوبے کے عوام کے لیے تاریخی دن ہے کہ خیبر پختونخوا میں اطلاعات تک رسائی آرڈیننس 2013 باقاعدہ طورپر نافذ کیا جا رہا ہے جس کااعزاز ہماری حکومت کو حاصل ہورہا ہے۔

اب شہریوں کا یہ آئینی حق یقینی ہوجائے گا جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-A میں واضح بیان ہواہے، اور شہری میں تہذیب یافتہ ملک کا شہری ہونے کا احساس پیدا ہوگا۔ دریں اثنا اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گدون کی بندصنعتوں کو بحال کرنے کے لیے سستی بجلی فراہم کی جائے گی۔
Load Next Story