بھارت نے ستلج میں ایک لاکھ کیوسک پانی چھوڑ دیا سیکڑوں دیہات زیر آب
بارش اور سیلاب کے متاثرہ افراد کی بحالی کیلیے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، وزیر اعظم نوازشریف کی پنجاب حکومت کو ہدایت
ملتان: شدید بارشوں کے بعد سیلاب کے باعث متاثرہ افراد اپنا سامان اٹھا کر سیلابی پانی سے محفوظ مقام کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب میں چھتیں گرنے، سیلابی پانی میں ڈوبنے اور دیگر حادثات میں مزید 17افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہو گئے۔
دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی سے مزید سیکڑوں ایکڑ اراضی زیرآب آ گئی۔ مختلف دریائوں میں طغیانی کے باعث قریبی آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد نواز شریف نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونیوالوں کی بحالی کیلیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ اتوار کو رائے ونڈ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ملاقات کرکے وزیراعظم کو پنجاب میں شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری امداد اور بحالی کیلیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ لاہور میں بارش کے دوران چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں 7افراد ہلاک جبکہ 29 افراد زخمی ہوگئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں شہرمیں مزید بارش کے امکانات ہیں۔ اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں گاڑی نالے میں گرنے سے2 بچے جاں بحق ہو گئے، دونوں بچوں کی عمریں 6 اور 9 سال تھیں۔
2خواتین اور ایک مرد کو پولیس اور مقامی افراد نے زندہ بچالیا۔ قصور، بچیکی، الہ آباد، شکر گڑھ اور دیگر علاقوں میں بھی بارشوں سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب میں موسلا دھار بارشوں اور بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے پانی کے باعث سیلابی ریلوں سے کامونکی، جھنگ اور ملتان کے 500 سے زائد دیہات زیرآب آگئے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے جبکہ بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کے بعد قصور کے قریب دریائے ستلج میں اْونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا، قصور کی ضلعی انتظامیہ نے دریاکے ارد گرد دیہات خالی کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ دریائے راوی، چناب اور دیگر دریائوں میں بھی طغیانی ہے۔ نالہ ڈیک کا شگاف بھرنے کے دوران فائبر آپٹک ٹوٹنے سے نارنگ منڈی کا مواصلاتی رابطہ جو ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہوگیا تھا اب بحال ہو گیا ہے۔
مریدکے میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی مریدکے ناروال روڈ بھی عارضی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ پاک فوج کے دستے، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے رضاکار متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ سیلابی ریلے کا ایک حصہ جھنگ کے نواحی دیہات کو ڈبوتا ہوا ملتان میں تباہی مچارہا ہے جہاں 116 دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ دریائے سندھ میں طغیانی سے ڈیرہ غازی خان میں گجانی بند ٹوٹ گیا جس سے کئی بستیاں پانی کی زد میں آگئیں۔ دریائے سندھ میں تونسہ اور گڈو کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سیکچے کے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں، کندھ کوٹ کے قریب ہیبت بچاو بند کے مقام پر طغیانی ہے۔ لاڑکانہ میں نصرت اور عاقل آگانی لوپ بندوں پرپانی کی سطح بلند ہوگئی ہے ، دیہات میں پانی داخل ہونے کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ خیرپور اور شکارپور میں کچے کے علاقے زیر آب آگئے ۔
لوگوں نے حفاظتی بندوں پر پناہ لے لی ہے۔ کہوٹہ اور گردونواح میں شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے جس سے درجنوں کچے گھر گِر گئے ۔ بارشوں کے باعث راول ڈیم پانی سے بھر گیاہے، اضافی پانی کے اخراج کے لیے ڈیم کے اسپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بتایا کہ ملک میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک ملک بھر میں 3 لاکھ افراد متاثر اور 108 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پنجاب میں 30، خیبر پختونخوا میں 24، سندھ میں 22، بلوچستان میں 16 ، قبائلی علاقہ جات میں 12 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں، سیلاب اور بارشوں سے اب تک 770 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں 2427 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 2774 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے پنجاب میں 158580 ایکڑ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 4279 ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئیں ہیں۔
دریائوں اور ندی نالوں میں طغیانی سے مزید سیکڑوں ایکڑ اراضی زیرآب آ گئی۔ مختلف دریائوں میں طغیانی کے باعث قریبی آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد نواز شریف نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونیوالوں کی بحالی کیلیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ اتوار کو رائے ونڈ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ملاقات کرکے وزیراعظم کو پنجاب میں شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی فوری امداد اور بحالی کیلیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ لاہور میں بارش کے دوران چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں 7افراد ہلاک جبکہ 29 افراد زخمی ہوگئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں شہرمیں مزید بارش کے امکانات ہیں۔ اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں گاڑی نالے میں گرنے سے2 بچے جاں بحق ہو گئے، دونوں بچوں کی عمریں 6 اور 9 سال تھیں۔
2خواتین اور ایک مرد کو پولیس اور مقامی افراد نے زندہ بچالیا۔ قصور، بچیکی، الہ آباد، شکر گڑھ اور دیگر علاقوں میں بھی بارشوں سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب میں موسلا دھار بارشوں اور بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے پانی کے باعث سیلابی ریلوں سے کامونکی، جھنگ اور ملتان کے 500 سے زائد دیہات زیرآب آگئے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے جبکہ بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کے بعد قصور کے قریب دریائے ستلج میں اْونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا، قصور کی ضلعی انتظامیہ نے دریاکے ارد گرد دیہات خالی کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ دریائے راوی، چناب اور دیگر دریائوں میں بھی طغیانی ہے۔ نالہ ڈیک کا شگاف بھرنے کے دوران فائبر آپٹک ٹوٹنے سے نارنگ منڈی کا مواصلاتی رابطہ جو ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہوگیا تھا اب بحال ہو گیا ہے۔
مریدکے میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی مریدکے ناروال روڈ بھی عارضی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ پاک فوج کے دستے، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے رضاکار متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ سیلابی ریلے کا ایک حصہ جھنگ کے نواحی دیہات کو ڈبوتا ہوا ملتان میں تباہی مچارہا ہے جہاں 116 دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ دریائے سندھ میں طغیانی سے ڈیرہ غازی خان میں گجانی بند ٹوٹ گیا جس سے کئی بستیاں پانی کی زد میں آگئیں۔ دریائے سندھ میں تونسہ اور گڈو کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سیکچے کے کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں، کندھ کوٹ کے قریب ہیبت بچاو بند کے مقام پر طغیانی ہے۔ لاڑکانہ میں نصرت اور عاقل آگانی لوپ بندوں پرپانی کی سطح بلند ہوگئی ہے ، دیہات میں پانی داخل ہونے کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ خیرپور اور شکارپور میں کچے کے علاقے زیر آب آگئے ۔
لوگوں نے حفاظتی بندوں پر پناہ لے لی ہے۔ کہوٹہ اور گردونواح میں شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے جس سے درجنوں کچے گھر گِر گئے ۔ بارشوں کے باعث راول ڈیم پانی سے بھر گیاہے، اضافی پانی کے اخراج کے لیے ڈیم کے اسپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بتایا کہ ملک میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک ملک بھر میں 3 لاکھ افراد متاثر اور 108 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پنجاب میں 30، خیبر پختونخوا میں 24، سندھ میں 22، بلوچستان میں 16 ، قبائلی علاقہ جات میں 12 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں، سیلاب اور بارشوں سے اب تک 770 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں 2427 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 2774 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے پنجاب میں 158580 ایکڑ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 4279 ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئیں ہیں۔