’’آپ کدھر۔۔۔۔۔۔ امپائر تو پہلے سے میدان میں موجود ہیں‘‘ جب پاکستان کے مایہ ناز امپائر علیم ڈار کو سیکیو?
علیم ڈار کو عصر حاضر کا بہترین امپائر قرار دیتے ہیں۔
علیم ڈار کو عصر حاضر کا بہترین امپائر قرار دیتے ہیں۔ فوٹو ایکسپریس
اسپورٹس سے وابستہ جن افراد نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا، ان میں علیم ڈار سرفہرست ہیں۔ باوقار اور حلیم الطبع، علیم ڈار کا شمار کرکٹ کے ممتاز امپائروں میں ہوتا ہے۔ وہ گذشتہ تین برسوں سے بہترین امپائر کے ''آئی سی سی ایوارڈ'' سے سرفراز ہورہے ہیں۔ ماضی کے مایہ ناز امپائر ڈکی برڈ بھی علیم ڈار کو عصر حاضر کا بہترین امپائر قرار دیتے ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ امپائرنگ میں ان کے کارناموں کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے۔ ان کا سفر ابھی جاری ہے اور امید ہے کہ وہ مستقبل میں امپائرنگ کے شعبے میں اور بھی زیادہ رفعتوں سے ہم کنار ہوں گے۔ ایکسپریس سنڈے میگزین کے سلسلے ''بھلا نہ سکے'' کے لیے جو تین واقعات علیم ڈار نے ہمارے ساتھ شیئر کیے ، وہ بیان کیے جاتے ہیں:
٭بچپن میں مجھے پتنگیں اڑانے کا تو نہیں البتہ لوٹنے کا بہت شوق رہا۔ میرے بھائی پتنگیں اڑاتے اور میں انہیں لوٹ لوٹ کر دیتا۔ عام طور پر پتنگ لوٹنے والوں کی نگاہ پتنگ پر ہی رہتی ہے، لیکن میں ہوا کے رخ کا اندازہ لگاتا اور ڈور پر بھی نظر رکھتا۔ اس سے میرے لیے پتنگ کی آخری منزل کا پتا چلانا آسان ہوجاتا۔ میں موسم کی شدت سے بے نیاز سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں پتنگیں لوٹنے میں لگا رہتا۔ دو بار ایسا بھی ہوا کہ اس شوق کے باعث میں کسی بڑے حادثے سے دوچار ہوسکتا تھا، لیکن قدرت نے مجھے بال بال بچالیا۔ مجھے یاد ہے، گوجرانوالہ میں ایک روز میں پتنگ لوٹنے کی تگ ودو میں اس درجہ کھویا ہوا تھا کہ اردگرد کا ہوش جاتا رہا اور اپنی طرف تیزی سے آتی گاڑی بھی نہ دیکھ سکا، جو مجھے بچاتے بچاتے خود دیوار سے جاٹکرائی۔ میں اس ساری صورت حال سے گھبرا گیا اور اس خوف سے کہ اب گاڑی والے میری مرمت کریں گے، بھاگ نکلا اور گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا۔ یہ واقعہ مجھے ہمیشہ یاد رہا۔ ایک مرتبہ پتنگ لوٹنے کی کوشش میں پُل کے کنارے کے قریب پہنچ گیا اور یقیناً گر جاتا، اگر عین اس موقع پر میرے ہاتھ میں پل کا جنگلہ نہ آجاتا۔ میری قسمت نے یاوری کی وگرنہ نہ جانے میرا کیا حال ہوتا۔ اس شوق کے باعث اور بھی کئی دفعہ مشکلات نے گھیرا، لیکن یہ دونوں واقعات ایسے تھے، جن سے میری جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔
٭ بچپن میں، جب ہم چشتیاں میں رہتے تھے، تو فورٹ عباس سے گزرنے والی نہر میں بڑے شوق سے نہانے جایا کرتا تھا۔ یہیں سے میں نے سوئمنگ سیکھی۔ ایک مرتبہ میں ادھر نہارہا تھا، تو ایک بھینس میرے پیچھے پڑگئی اور میرے لیے اس سے بچنا مشکل ہوگیا۔ وہ میرے اس قدر قریب آگئی کہ دو تین بار اس کے سینگ بھی مجھے لگے۔ بہرحال میں نے ہمت نہیں ہاری اور کسی نہ کسی طرح اس سے پیچھا چھڑایا اور نہر سے باہر نکلنے میں کام یاب ہوگیا۔ گھر والوں کو ڈر کے مارے میں نے بتایا نہیں، لیکن ایک دن والدہ نے کپڑے تبدیل کرائے تو زخموں پر ان کی نظر پڑ گئی اور فکرمند ہوکر انہوں نے مجھ سے زخموں کے بارے میں پوچھا، تو انہیں یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ بس ایسے ہی بھاگتے ہوئے گر گیا تھا۔
٭ ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان میچ تھا۔ میں اپنے ساتھی امپائر کے ساتھ وقت مقررہ پر امپائرنگ کے لیے گرائونڈ میں جانے لگا، تو سیکیوریٹی والوں نے روک لیا اور کہنے لگے،''آپ کدھر جارہے ہیں؟'' ہم نے کہا کہ ظاہر سی بات ہے، میچ شروع ہونے کو ہے اور ہم امپائرنگ کے لیے جارہے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہ کہ امپائر تو پہلے سے میدان میں موجود ہیں۔ ہم ہَکّا بَکّا رہ گئے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے۔ ہم نے سیکیوریٹی والوں کو یقین دلایا کہ اصل میں تو ہمیں امپائرنگ کرنا ہے، تو وہ ہمیں ساتھ لے کر چل دیے۔ گرائونڈ کے درمیان میں پہنچے تو دیکھا کہ دو نوجوان لڑکے ، بالکل ہمارے جیسے لباس میں کھڑے مسکرا رہے ہیں، اور ہوبہو اصل امپائروں جیسے لگ رہے ہیں۔ اب ہم پر عُقدہ کھلا کہ وہ دونوں نوجوان دراصل شرارت کررہے تھے اور کمال ہوشیاری سے وہ سیکیوریٹی والوں کو غُچہ دے کر میدان میں پہنچ گئے تھے۔ ہمیں ان کا آئیڈیا دل چسپ لگا اور ہم نے ان کی اس حرکت کا برا نہ منایا، بلکہ الٹا اس سے محظوظ ہوئے۔ ہم نے سیکیوریٹی والوں سے کہا کہ وہ ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کریں اور انہیں مفت میں میچ دیکھنے دیا جائے۔
٭بچپن میں مجھے پتنگیں اڑانے کا تو نہیں البتہ لوٹنے کا بہت شوق رہا۔ میرے بھائی پتنگیں اڑاتے اور میں انہیں لوٹ لوٹ کر دیتا۔ عام طور پر پتنگ لوٹنے والوں کی نگاہ پتنگ پر ہی رہتی ہے، لیکن میں ہوا کے رخ کا اندازہ لگاتا اور ڈور پر بھی نظر رکھتا۔ اس سے میرے لیے پتنگ کی آخری منزل کا پتا چلانا آسان ہوجاتا۔ میں موسم کی شدت سے بے نیاز سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں پتنگیں لوٹنے میں لگا رہتا۔ دو بار ایسا بھی ہوا کہ اس شوق کے باعث میں کسی بڑے حادثے سے دوچار ہوسکتا تھا، لیکن قدرت نے مجھے بال بال بچالیا۔ مجھے یاد ہے، گوجرانوالہ میں ایک روز میں پتنگ لوٹنے کی تگ ودو میں اس درجہ کھویا ہوا تھا کہ اردگرد کا ہوش جاتا رہا اور اپنی طرف تیزی سے آتی گاڑی بھی نہ دیکھ سکا، جو مجھے بچاتے بچاتے خود دیوار سے جاٹکرائی۔ میں اس ساری صورت حال سے گھبرا گیا اور اس خوف سے کہ اب گاڑی والے میری مرمت کریں گے، بھاگ نکلا اور گھر پہنچ کر سکون کا سانس لیا۔ یہ واقعہ مجھے ہمیشہ یاد رہا۔ ایک مرتبہ پتنگ لوٹنے کی کوشش میں پُل کے کنارے کے قریب پہنچ گیا اور یقیناً گر جاتا، اگر عین اس موقع پر میرے ہاتھ میں پل کا جنگلہ نہ آجاتا۔ میری قسمت نے یاوری کی وگرنہ نہ جانے میرا کیا حال ہوتا۔ اس شوق کے باعث اور بھی کئی دفعہ مشکلات نے گھیرا، لیکن یہ دونوں واقعات ایسے تھے، جن سے میری جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔
٭ بچپن میں، جب ہم چشتیاں میں رہتے تھے، تو فورٹ عباس سے گزرنے والی نہر میں بڑے شوق سے نہانے جایا کرتا تھا۔ یہیں سے میں نے سوئمنگ سیکھی۔ ایک مرتبہ میں ادھر نہارہا تھا، تو ایک بھینس میرے پیچھے پڑگئی اور میرے لیے اس سے بچنا مشکل ہوگیا۔ وہ میرے اس قدر قریب آگئی کہ دو تین بار اس کے سینگ بھی مجھے لگے۔ بہرحال میں نے ہمت نہیں ہاری اور کسی نہ کسی طرح اس سے پیچھا چھڑایا اور نہر سے باہر نکلنے میں کام یاب ہوگیا۔ گھر والوں کو ڈر کے مارے میں نے بتایا نہیں، لیکن ایک دن والدہ نے کپڑے تبدیل کرائے تو زخموں پر ان کی نظر پڑ گئی اور فکرمند ہوکر انہوں نے مجھ سے زخموں کے بارے میں پوچھا، تو انہیں یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ بس ایسے ہی بھاگتے ہوئے گر گیا تھا۔
٭ ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان میچ تھا۔ میں اپنے ساتھی امپائر کے ساتھ وقت مقررہ پر امپائرنگ کے لیے گرائونڈ میں جانے لگا، تو سیکیوریٹی والوں نے روک لیا اور کہنے لگے،''آپ کدھر جارہے ہیں؟'' ہم نے کہا کہ ظاہر سی بات ہے، میچ شروع ہونے کو ہے اور ہم امپائرنگ کے لیے جارہے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہ کہ امپائر تو پہلے سے میدان میں موجود ہیں۔ ہم ہَکّا بَکّا رہ گئے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے۔ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے۔ ہم نے سیکیوریٹی والوں کو یقین دلایا کہ اصل میں تو ہمیں امپائرنگ کرنا ہے، تو وہ ہمیں ساتھ لے کر چل دیے۔ گرائونڈ کے درمیان میں پہنچے تو دیکھا کہ دو نوجوان لڑکے ، بالکل ہمارے جیسے لباس میں کھڑے مسکرا رہے ہیں، اور ہوبہو اصل امپائروں جیسے لگ رہے ہیں۔ اب ہم پر عُقدہ کھلا کہ وہ دونوں نوجوان دراصل شرارت کررہے تھے اور کمال ہوشیاری سے وہ سیکیوریٹی والوں کو غُچہ دے کر میدان میں پہنچ گئے تھے۔ ہمیں ان کا آئیڈیا دل چسپ لگا اور ہم نے ان کی اس حرکت کا برا نہ منایا، بلکہ الٹا اس سے محظوظ ہوئے۔ ہم نے سیکیوریٹی والوں سے کہا کہ وہ ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کریں اور انہیں مفت میں میچ دیکھنے دیا جائے۔