فرانس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج جاری
احتجاج کرنے والوں نے اس مرتبہ ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی مشعلیں بھی اٹھا رکھی ہیں
احتجاج کرنے والوں نے اس مرتبہ ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی مشعلیں بھی اٹھا رکھی ہیں۔ فوٹو: فائل
فرانس میں بہت دنوں سے مہنگائی کے خلاف پیلی واسکٹ والوں کی جو احتجاجی تحریک جاری ہے اس میں نئی شدت پیدا ہو گئی ہے کیونکہ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو غریب عوام کا کوئی احساس ہی نہیں بلکہ ان کی ساری کی ساری توجہ پیرس کے اس ساڑھے آٹھ سو سال پرانے گھرجا گھر نوتر ڈیمس کی بحالی پر ہے جو پراسرار طور پر آگ لگنے سے بری طرح تباہ ہو گیا ہے۔ فرانس میں احتجاج کرنے والوں نے وہ پیلی واسکٹیں پہنی ہوئی ہیں جو اندھیرے میں چمکتی ہیں اور جنھیں قانونی طور پر تمام گاڑیوں میں لازمی طور پر رکھنے کی پابندی ہے تاکہ گاڑی کی کسی خرابی یا کسی حادثے وغیرہ کی صورت میں اس واسکٹ کو پہن کر گاڑی سے باہر نکلا جائے اور دوسری گاڑیوں والوں کو وہ دور سے نظر آ جائیں۔
احتجاج کرنے والوں نے اس مرتبہ ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی مشعلیں بھی اٹھا رکھی ہیں جیسے اپنے صدر ایمانویل میکرون سے کہہ رہے ہوں کہ صرف آگ لگنے والے گرجاگھر نوٹرڈیمس کا خیال چھوڑ کر ہم غریبوں کا بھی خیال کرو جن کے لیے مہنگائی میں اضافے کے باعث گزر اوقات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ لہٰذا حکومت ہماری مدد کرے۔ فرانسیسی پولیس نے گزشتہ روز احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کی خاطر آنسو گیس کا استعمال بھی کیا جب کہ احتجاج کرنے والے دارالحکومت پیرس کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں بھی سڑکوں پر آ چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والے مسلسل 23 ویں اختتام ہفتہ پر احتجاج میں مصروف ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت امیر لوگوں اور بڑے کاروباری لوگوں کا ساتھ دے رہی ہے لیکن حکومت کو نچلے درجے کے محنت کشوں، طالب علموں اور ریٹائرڈ ملازمین کی مشکلات کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ ایک طرف بیروز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری طرف ٹیکسوں کو بڑھایا جا رہا ہے۔ خبررساں ایجنسیوں کے مطابق اب سڑکوں پر بعض کاروں اور موٹر سائیکلوں وغیرہ کو آگ بھی لگائی جا رہی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کی طرف سے چلائی جانے والی آنسو گیس کے ساتھ ان جلائی جانے والی گاڑیوں کا دھواں بھی فضا میں شامل ہو رہا ہے جس سے شہر کی آلودگی میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں میں سے بعض نے چہروں پر نقاب بھی اوڑھ رکھے ہیں اور وہ پولیس پر پتھراؤ بھی کر رہے ہیں۔ پیرس پولیس کے مطابق حکام نے2 سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ 20 ہزار افراد احتجاج کے لیے دارالحکومت پیرس میں داخل ہونا چاہتے تھے انھیں زبردستی روک دیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین اب صدر میکرون کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہرین کو اس بات کا بھی گلہ ہے کہ نوترڈیم گرجاگھر کی بحالی کے لیے فوری طور پر ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا گیا ہے مگر ملک کے غریبوں کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔
احتجاج کرنے والوں نے اس مرتبہ ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی مشعلیں بھی اٹھا رکھی ہیں جیسے اپنے صدر ایمانویل میکرون سے کہہ رہے ہوں کہ صرف آگ لگنے والے گرجاگھر نوٹرڈیمس کا خیال چھوڑ کر ہم غریبوں کا بھی خیال کرو جن کے لیے مہنگائی میں اضافے کے باعث گزر اوقات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ لہٰذا حکومت ہماری مدد کرے۔ فرانسیسی پولیس نے گزشتہ روز احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کی خاطر آنسو گیس کا استعمال بھی کیا جب کہ احتجاج کرنے والے دارالحکومت پیرس کے علاوہ دیگر کئی شہروں میں بھی سڑکوں پر آ چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والے مسلسل 23 ویں اختتام ہفتہ پر احتجاج میں مصروف ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت امیر لوگوں اور بڑے کاروباری لوگوں کا ساتھ دے رہی ہے لیکن حکومت کو نچلے درجے کے محنت کشوں، طالب علموں اور ریٹائرڈ ملازمین کی مشکلات کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ ایک طرف بیروز گاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری طرف ٹیکسوں کو بڑھایا جا رہا ہے۔ خبررساں ایجنسیوں کے مطابق اب سڑکوں پر بعض کاروں اور موٹر سائیکلوں وغیرہ کو آگ بھی لگائی جا رہی ہے۔ سرکاری اہلکاروں کی طرف سے چلائی جانے والی آنسو گیس کے ساتھ ان جلائی جانے والی گاڑیوں کا دھواں بھی فضا میں شامل ہو رہا ہے جس سے شہر کی آلودگی میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں میں سے بعض نے چہروں پر نقاب بھی اوڑھ رکھے ہیں اور وہ پولیس پر پتھراؤ بھی کر رہے ہیں۔ پیرس پولیس کے مطابق حکام نے2 سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ 20 ہزار افراد احتجاج کے لیے دارالحکومت پیرس میں داخل ہونا چاہتے تھے انھیں زبردستی روک دیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین اب صدر میکرون کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہرین کو اس بات کا بھی گلہ ہے کہ نوترڈیم گرجاگھر کی بحالی کے لیے فوری طور پر ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا گیا ہے مگر ملک کے غریبوں کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔