پاکستان اور بھارت ویزوں کا اجرا بھی آسان بنائیں کاروباری برادری
بھارت پاکستانی کماڈیٹیز کیلیے اہم منڈی بن سکتا ہے، وحید احمد،انورمیاں نوراور ثنااﷲ خان کا ردعمل
دونوں ملکوں میں بینکاری روابط نہ ہونے اور بھارت کی جانب سے پاکستانی تاجروں کیلیے ویزوں کے اجرا میں مشکلات باہمی تجارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں سمجھی جاتی ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستانی ایکسپورٹرز نے پاکستان اور بھارت میں 2، دو بینکوں کی شاخوں کے قیام کیلیے پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے براہ راست تجارت کیلیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ پاکستانی ماربل، چاول پھل اور سبزیوں کے ایکسپورٹرز نے بینکاری روابط پر اتفاق رائے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بینکاری روابط کے ساتھ ویزوں کے آسان اجرا کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ریزرو بینک آف انڈیاکے درمیان سرحد پار دو دو بینکوں کی شاخوں کے قیام اور مکمل بینکاری لائسنس کے اجرا پر اتفاق رائے کے بعد تجارت کو نارمل بنانے کے عمل کی سست روی سے مایوس پاکستانی ایکسپورٹرز میں امید کی لہر دوڑ گئی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کو نارمل بنانے کیلیے مذاکراتی عمل وزارت تجارت کی ٹیم کی تبدیلی کے بعد سے سست روی کا شکار ہے بالخصوص بھارت کی جانب سے ویزا نرمی کی پیشکش پر دوطرفہ معاہدہ نہ ہونے سے تاجروں میں مایوسی پائی جاتی تھی تاہم اسٹیٹ بینک کے گورنر یاسین انور کے سنگاپور میں ہونے والی عالمی کانفرنس کے دوران بھارت میں سرحد پار بینکاری سہولت کی فراہمی کے حوالے سے اتفاق رائے کے اعلان سے ایکسپورٹرز میں ایک بار پھر دونوں ملکوں میں تجارت نارمل ہونے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
دونوں ملکوں میں بینکاری روابط نہ ہونے اور بھارت کی جانب سے پاکستانی تاجروں کیلیے ویزوں کے اجرا میں مشکلات باہمی تجارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں سمجھی جاتی ہیں جن کی نشاندہی دونوں ملکوں کے تاجر اور بیوروکریٹ ہر پلیٹ فارم پر کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی ایکسپورٹرز کے مطابق بینکاری روابط استوار ہونے سے نہ صرف باہمی تجارت بڑھے گی بلکہ اسمگلنگ اور تیسرے ملک کے ذریعے تجارت کا خاتمہ ہونے سے دونوں ملکوں کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا، دونوں ملکوں کے تاجروں کے خدشات کا خاتمہ ہوگا اور تجارت کو بھی تحفظ حاصل ہو گا، دونوں ملکوں کے تاجر تجارتی لین دین کے حوالے سے ہمیشہ خدشات کا شکار رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں میں تجارت کے بے پناہ مواقع ہونے کے باوجود اعتماد کے ساتھ تجارت نہ ہوسکی۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے شریک چیئرمین وحید احمد کے مطابق بھارت پاکستانی پھلوں کی بڑی منڈی بن سکتا ہے، یورپی منڈیوں کیلیے لاجسٹک کے بھاری اخراجات سے بچتے ہوئے زمینی اور سمندری راستے سے کم لاگت میں پاکستانی پھل اور سبزیوں بھارت ایکسپورٹ کی جاسکتی ہیں، اسی طرح پاکستان میں وقتاً فوقتاً اہم سبزیوں کی قلت بھی بھارت سے سبزیاں درآمد کرکے پوری کی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ بینکاری روابط نہ ہونے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ منظم تجارت استوار نہ ہو سکی تاہم اب دونوں ملکوں کے مرکزی بینک درست سمت میں پیش رفت کررہے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے عوام کا فائدہ ہوگا، دونوں ملکوں کی بڑی آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرتے ہوئے تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین انورمیاں نور نے کہا کہ بھارت نے پاکستان سے باسمتی اور نان باسمتی چاول کی برآمد میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور بینکاری روابط استوار ہوتے ہی پاکستان سے بھارت کو چاول کی برآمد اسی سال شروع ہو سکتی ہے، بھارت کی وسیع آبادی پاکستانی کماڈیٹیز کیلیے اہم منڈی بن سکتی ہے تاہم بینکاری روابط کے ساتھ ویزوں کے آسان اجرا کو بھی یقینی بنانا ہو گا، پاکستان کی جانب سے بھارتی تاجروں کو بلاروک ٹوک ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔
تاہم پاکستانی ایکسپورٹرز کو بھارت جانے کیلیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور ویزا مل بھی جائے تو بھارتی ایئرپورٹ پر اکتادینی والی انکوائریوں کا سامنا ہوتا ہے، تجارت کو نارمل بنانے کیلیے فیڈریشن کی سفارش پر تاجر برادری کے لیے کم از کم 6ماہ کا ملٹی پل ویزا جاری کیا جائے، کراچی سے بھارت کے ویزوں کا اجراشروع کیا جائے۔
آل پاکستان ماربل مائننگ پراسیسنگ اینڈ ایکسپورٹ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثنااﷲ خان نے بھی بینکاری روابط کیلیے اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بھارت کو پاکستانی ماربل اور اونیکس کی اہم منڈی قرار دیا اورکہا کہ بھارت میں پاکستانی اونیکس بالخصوص بیچ کلر کی بڑی مانگ ہے، اب تک بینکاری روابط نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بھارت کو قابل ذکر مقدار میں ماربل یا اونیکس برآمد نہ کرسکا، پاکستان بھارت سے گرینائٹ درآمد کرتا ہے، بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف الزام آرائی سے دونوں ملکوں کی تجارت بھی متاثر ہوتی ہے تاہم بینکاری روابط کے ذریعے تجارتی لین دین محفوظ ہوسکے گا، تاجروں کے خدشات کا خاتمہ ہوگا اور دبئی کے راستے کی جانے والی تجارت ختم ہوگی جس سے تجارتی لاگت میں کمی اور منافع میں اضافہ ہوگا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ریزرو بینک آف انڈیاکے درمیان سرحد پار دو دو بینکوں کی شاخوں کے قیام اور مکمل بینکاری لائسنس کے اجرا پر اتفاق رائے کے بعد تجارت کو نارمل بنانے کے عمل کی سست روی سے مایوس پاکستانی ایکسپورٹرز میں امید کی لہر دوڑ گئی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کو نارمل بنانے کیلیے مذاکراتی عمل وزارت تجارت کی ٹیم کی تبدیلی کے بعد سے سست روی کا شکار ہے بالخصوص بھارت کی جانب سے ویزا نرمی کی پیشکش پر دوطرفہ معاہدہ نہ ہونے سے تاجروں میں مایوسی پائی جاتی تھی تاہم اسٹیٹ بینک کے گورنر یاسین انور کے سنگاپور میں ہونے والی عالمی کانفرنس کے دوران بھارت میں سرحد پار بینکاری سہولت کی فراہمی کے حوالے سے اتفاق رائے کے اعلان سے ایکسپورٹرز میں ایک بار پھر دونوں ملکوں میں تجارت نارمل ہونے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
دونوں ملکوں میں بینکاری روابط نہ ہونے اور بھارت کی جانب سے پاکستانی تاجروں کیلیے ویزوں کے اجرا میں مشکلات باہمی تجارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں سمجھی جاتی ہیں جن کی نشاندہی دونوں ملکوں کے تاجر اور بیوروکریٹ ہر پلیٹ فارم پر کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی ایکسپورٹرز کے مطابق بینکاری روابط استوار ہونے سے نہ صرف باہمی تجارت بڑھے گی بلکہ اسمگلنگ اور تیسرے ملک کے ذریعے تجارت کا خاتمہ ہونے سے دونوں ملکوں کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا، دونوں ملکوں کے تاجروں کے خدشات کا خاتمہ ہوگا اور تجارت کو بھی تحفظ حاصل ہو گا، دونوں ملکوں کے تاجر تجارتی لین دین کے حوالے سے ہمیشہ خدشات کا شکار رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں میں تجارت کے بے پناہ مواقع ہونے کے باوجود اعتماد کے ساتھ تجارت نہ ہوسکی۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے شریک چیئرمین وحید احمد کے مطابق بھارت پاکستانی پھلوں کی بڑی منڈی بن سکتا ہے، یورپی منڈیوں کیلیے لاجسٹک کے بھاری اخراجات سے بچتے ہوئے زمینی اور سمندری راستے سے کم لاگت میں پاکستانی پھل اور سبزیوں بھارت ایکسپورٹ کی جاسکتی ہیں، اسی طرح پاکستان میں وقتاً فوقتاً اہم سبزیوں کی قلت بھی بھارت سے سبزیاں درآمد کرکے پوری کی جاسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ بینکاری روابط نہ ہونے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ منظم تجارت استوار نہ ہو سکی تاہم اب دونوں ملکوں کے مرکزی بینک درست سمت میں پیش رفت کررہے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے عوام کا فائدہ ہوگا، دونوں ملکوں کی بڑی آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرتے ہوئے تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین انورمیاں نور نے کہا کہ بھارت نے پاکستان سے باسمتی اور نان باسمتی چاول کی برآمد میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور بینکاری روابط استوار ہوتے ہی پاکستان سے بھارت کو چاول کی برآمد اسی سال شروع ہو سکتی ہے، بھارت کی وسیع آبادی پاکستانی کماڈیٹیز کیلیے اہم منڈی بن سکتی ہے تاہم بینکاری روابط کے ساتھ ویزوں کے آسان اجرا کو بھی یقینی بنانا ہو گا، پاکستان کی جانب سے بھارتی تاجروں کو بلاروک ٹوک ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔
تاہم پاکستانی ایکسپورٹرز کو بھارت جانے کیلیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور ویزا مل بھی جائے تو بھارتی ایئرپورٹ پر اکتادینی والی انکوائریوں کا سامنا ہوتا ہے، تجارت کو نارمل بنانے کیلیے فیڈریشن کی سفارش پر تاجر برادری کے لیے کم از کم 6ماہ کا ملٹی پل ویزا جاری کیا جائے، کراچی سے بھارت کے ویزوں کا اجراشروع کیا جائے۔
آل پاکستان ماربل مائننگ پراسیسنگ اینڈ ایکسپورٹ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثنااﷲ خان نے بھی بینکاری روابط کیلیے اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بھارت کو پاکستانی ماربل اور اونیکس کی اہم منڈی قرار دیا اورکہا کہ بھارت میں پاکستانی اونیکس بالخصوص بیچ کلر کی بڑی مانگ ہے، اب تک بینکاری روابط نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان بھارت کو قابل ذکر مقدار میں ماربل یا اونیکس برآمد نہ کرسکا، پاکستان بھارت سے گرینائٹ درآمد کرتا ہے، بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف الزام آرائی سے دونوں ملکوں کی تجارت بھی متاثر ہوتی ہے تاہم بینکاری روابط کے ذریعے تجارتی لین دین محفوظ ہوسکے گا، تاجروں کے خدشات کا خاتمہ ہوگا اور دبئی کے راستے کی جانے والی تجارت ختم ہوگی جس سے تجارتی لاگت میں کمی اور منافع میں اضافہ ہوگا۔