سفاری پارک مقابلہ ڈی ایس پی کے اہلخانہ نے ایس ایچ او کو ہلاکتوں کا ذمے دار قرار دیدیا

ایس ایچ او گلستان جوہر ملک سلیم کے لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر سے رابطے تھے، کارروائی سے قبل۔۔۔، نعمان اور فرخ

ملک سلیم مقابلے کے دوران شدید زخمی نہیں ہوا بلکہ صرف پاؤں پر ایک گولی لگی تھی، اسے شامل تفتیش کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، اعلیٰ پولیس افسر فوٹو: ایکسپریس/ فائل

سفاری پارک پولیس مقابلے میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی قاسم غوری کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایس ایچ اوگلستان جوہر ملک سلیم کے لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر سے رابطے تھے۔

ایس ایچ او ملک سلیم نے اعلیٰ افسران سے حقائق چھپائے جس کی وجہ سے ڈی ایس پی قاسم غوری اور اے ایس آئی شہید ہوئے، اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او ملک سلیم کوملازمت سے برطرف کرکے گرفتار اورشامل تفتیش کیا جائے جبکہ ڈی ایس پی قاسم غوری کوایس پی کا درجہ اور مراعات دینے کا اعلان بھی کیا جائے، تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں سفاری پارک میں پولیس مقابلے کے دوران شہید ہونیوالے ڈی ایس پی قاسم غوری کے اہلخانہ نے الزام عا ئد کیا ہے کہ ایس ایچ اوگلستان جوہرملک سلیم کے لینڈ مافیا اورجرائم پیشہ عناصر سے رابطے تھے اورایس ایچ اوملک سلیم نے اعلیٰ افسران کو صورتحال بتانے کے بجائے اصل حقائق چھپائے جس کی وجہ ڈی ایس پی قاسم غوری اور اے ایس آئی شہید ہوئے۔

اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او ملک سلیم کوملازمت سے برطرف کرکے گرفتار کیا جائے اور اسے کیس میں شامل تفتیش کیا جائے،شہید ڈی ایس پی کے بیٹوں نعمان اور فرخ نے بتایا کہ ان کے والد کا نام ڈی پی سی میں شامل تھا اور جلد ہی انہیں ایس پی کے عہدے پر ترقی ملنے والی تھی جس کی وجہ سے ان کے والد گزشتہ دنوں بہت خوش تھے،والد کوایس پی کا درجہ اور مراعات دینے کا اعلان کیا جائے، انھوں نے بتایا کہ واقعے کے روز ان کے والد کو سفاری پارک میں اے ایس آئی اسلم کے فائرنگ میں زخمی ہونے کی اطلاع ملی تو وہ گھر سے سیدھا سفاری پارک چلے گئے جس کے کچھ دیر بعد ہی یہ خبر بھی آگئی کہ ان کے والد شہید ہوگئے ہیں،ان کے والد بہادر انسان تھے اورانھوں نے 35 سال سندھ پولیس میں خدمات انجام دیں اوراس دوران انھوں نے کئی بارجان پرکھیل کرجرائم پیشہ عناصرکو نہ صرف پکڑا بلکہ انھیں سزائیں بھی دلوائیں۔




انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں ان کے والد کی جگہ ان کے بیٹے نعمان کوڈی ایس پی کے عہدے پر ملازمت دی جائے ،انھیںمسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں، والد کی شہادت کے بعد سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے، اہلخانہ کی مستقل طور پر سیکیورٹی کا بندو بست کیا جائے۔ دوسری جانب ایک اعلیٰ پولیس افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ پولیس کے علم میں تھا کہ ایس ایچ او ملک سلیم کے لینڈ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر سے رابطے ہیں تاہم ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ ایس ایچ او ملک سلیم مقابلے کے دوران شدید زخمی نہیں ہوا ہے بلکہ صرف پاؤں پر ایک گولی لگی تھی اس نے مقابلے میں شد ید زخمی ہونے کا ڈرامہ رچایا، انھوں نے بتایا کہ پولیس نے اپنی تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور ایس ایچ او ملک سلیم کو شامل تفتیش کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کی خونی پولیس مقابلے کی وجہ بننے والا ایس ایچ او گلستان جوہر ملک سلیم کا بیٹا وسیم پر اسرار طور پر لاپتہ ہے جسے تلاش کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو سفاری پارک میں پولیس مقابلے کے دوران ایس ایس پی ایسٹ کی ناقص حکمت عملی اور پولیس کی روایتی بھتہ خوری کی وجہ سے ڈی ایس پی گلشن اقبال قاسم غوری اور اے ایس آئی گلشن اقبال آصف محمود کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا جبکہ متعدد افسران و اہلکار زخمی ہوگئے تھے جن میں ایس ایچ او بہادر آباد حیدر زیدی بھی شامل ہیں۔
Load Next Story