وزیر اعظم نے قوم کو خوابوں کی دنیا میں الجھائے رکھااپوزیشن رہنما
پائیدار حکومتی پالیسی نہیں دی ،منور حسن، لو ڈشیڈنگ کے وعدوں پرگمراہ کیاگیا، تنویرکائرہ و دیگر
پائیدار حکومتی پالیسی نہیں دی ،منور حسن، لو ڈشیڈنگ کے وعدوں پرگمراہ کیاگیا، تنویرکائرہ و دیگر فوٹو: فائل
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے وزیراعظم محمد نواز شریف کی تقریر کومایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے پوری تقریر میں مایوسی اور پچھلی حکومتوں کی برائیوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا ، خوشخبری کی بجائے الزام تراشیاں کی گئیں،قوم اس وقت مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے گزر رہی ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے فوری ریلیف کو نوید نہیں سنائی گئی ۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سیدمنورحسن نے وزیراعظم کے قوم سے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ نوازشریف نے اپنے ایک گھنٹے کے خطاب میں پوری قوم کو اپنے خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں الجھائے رکھا اور اور قوم کے سامنے کوئی پائیدار حکومتی پالیسی نہیں رکھی۔ دہشتگردی ، بجلی بحران ، بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے ارادے کا اظہار کیا گیا مگر اس کا کوئی فریم ورک قوم کے سامنے نہیں رکھاگیا۔ نوجوانوں اور خواتین کی ترقی کے لیے خیالی پلاؤ پکایا گیا ۔ ملک کی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے اوراسے از سر نو تشکیل دینے کا اظہار تو کیا گیاہے مگر بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے سدباب کی بات نہیں کی گئی ، قوم نے میاں صاحب کو بھارت کی بالادستی قبول کرنے کا مینڈیٹ نہیں دیا ۔ ڈرون حملے روکنے کی کوئی واضح حکمت عملی نہ دینا حکومتی بے بسی کا منہ بولتاثبوت ہے، طالبان سے مذاکرات کی بات تو کی گئی مگر کوئی پالیسی اور گائیڈ لائن نہیں دی گئی ،کرپشن کے رازوں سے پردہ اٹھا کر کوئی نیا تیر نہیں مارا گیا ۔
ملک میں250 ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری ہورہی ہے ،تو حکمران کہاں سوئے ہوئے ہیں ؟ ۔ ڈھائی ماہ سے حکمران آل پارٹیز کانفرنس نہیں بلا سکے،پیپلزپارٹی کے رہنماؤں تنویر اشرف کائرہ، نوید چوہدری، راجہ عامر خان، اورنگزیب برکی، دیوان محی الدین، زاہد ذوالفقار سمیت دیگر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے پاک ایران گیس پائپ لائن اور گوادر پورٹ کے منصوبوں کا ذکر نہ کرنا بڑی زیادتی ہے ۔وزیراعظم کوچاہیے تھاکہ وہ قوم کو فوری طور پر کوئی خوشخبری دیتے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔لوڈشیڈنگ کے وعدوں پرگمراہ کیاگیا اور کوئی وعدہ پورا نہیں کیاگیا۔ پیپلزپارٹی کے سابق وفاقی وزیر سینیٹر بابر اعوان نے کہا ہے ضمنی انتخابات کے شیڈول کے دوران وزیراعظم کا قوم سے خطاب انتخاب پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد نے کہا کہ موٹر وے سے زیادہ اہم غریب عوام کو روٹی کی فراہمی ہے۔
جے یو آئی ( ف) کے عبدالغفور حیدری اور مولانامحمدامجدخان نے کہاکہ ملکی مسائل کے فوری حل کے لیے حکومت کے لیے بہترین راستہ مذاکرات ہے،حکومت کوچاہیے کہ فوری طورپرخارجہ پالسی تشکیل دی جائے اورآمریت کی پالیسیوںسے جان چھڑاناچاہیے یہی قوم کی آروزوہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ میاںنوازشریف کاخطاب افسوسناک تھاجس میں چار الفاظ میاں نوازشریف بار بار دھراتے رہے۔جن میں افسوس کی بات ہے،ملک متحمل نہیں ہوسکتا،ہم کہاں جارہے ہیں اور کیایہ ہے سب کچھ اس کے علاوہ کوئی نئی بات نہیںکی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سیدمنورحسن نے وزیراعظم کے قوم سے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ نوازشریف نے اپنے ایک گھنٹے کے خطاب میں پوری قوم کو اپنے خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں الجھائے رکھا اور اور قوم کے سامنے کوئی پائیدار حکومتی پالیسی نہیں رکھی۔ دہشتگردی ، بجلی بحران ، بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے ارادے کا اظہار کیا گیا مگر اس کا کوئی فریم ورک قوم کے سامنے نہیں رکھاگیا۔ نوجوانوں اور خواتین کی ترقی کے لیے خیالی پلاؤ پکایا گیا ۔ ملک کی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے اوراسے از سر نو تشکیل دینے کا اظہار تو کیا گیاہے مگر بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے سدباب کی بات نہیں کی گئی ، قوم نے میاں صاحب کو بھارت کی بالادستی قبول کرنے کا مینڈیٹ نہیں دیا ۔ ڈرون حملے روکنے کی کوئی واضح حکمت عملی نہ دینا حکومتی بے بسی کا منہ بولتاثبوت ہے، طالبان سے مذاکرات کی بات تو کی گئی مگر کوئی پالیسی اور گائیڈ لائن نہیں دی گئی ،کرپشن کے رازوں سے پردہ اٹھا کر کوئی نیا تیر نہیں مارا گیا ۔
ملک میں250 ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری ہورہی ہے ،تو حکمران کہاں سوئے ہوئے ہیں ؟ ۔ ڈھائی ماہ سے حکمران آل پارٹیز کانفرنس نہیں بلا سکے،پیپلزپارٹی کے رہنماؤں تنویر اشرف کائرہ، نوید چوہدری، راجہ عامر خان، اورنگزیب برکی، دیوان محی الدین، زاہد ذوالفقار سمیت دیگر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے پاک ایران گیس پائپ لائن اور گوادر پورٹ کے منصوبوں کا ذکر نہ کرنا بڑی زیادتی ہے ۔وزیراعظم کوچاہیے تھاکہ وہ قوم کو فوری طور پر کوئی خوشخبری دیتے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔لوڈشیڈنگ کے وعدوں پرگمراہ کیاگیا اور کوئی وعدہ پورا نہیں کیاگیا۔ پیپلزپارٹی کے سابق وفاقی وزیر سینیٹر بابر اعوان نے کہا ہے ضمنی انتخابات کے شیڈول کے دوران وزیراعظم کا قوم سے خطاب انتخاب پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد نے کہا کہ موٹر وے سے زیادہ اہم غریب عوام کو روٹی کی فراہمی ہے۔
جے یو آئی ( ف) کے عبدالغفور حیدری اور مولانامحمدامجدخان نے کہاکہ ملکی مسائل کے فوری حل کے لیے حکومت کے لیے بہترین راستہ مذاکرات ہے،حکومت کوچاہیے کہ فوری طورپرخارجہ پالسی تشکیل دی جائے اورآمریت کی پالیسیوںسے جان چھڑاناچاہیے یہی قوم کی آروزوہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہاہے کہ میاںنوازشریف کاخطاب افسوسناک تھاجس میں چار الفاظ میاں نوازشریف بار بار دھراتے رہے۔جن میں افسوس کی بات ہے،ملک متحمل نہیں ہوسکتا،ہم کہاں جارہے ہیں اور کیایہ ہے سب کچھ اس کے علاوہ کوئی نئی بات نہیںکی۔