’’خاموش جنرل‘‘کا متبادل کون نوازشریف کیلیے بڑا چیلنج
مختلف حلقوں میں کئی نام زیر بحث ہیں، ہوسکتا ہے کہ کیانی کوتوسیع مل جائے، تجزیہ نگار
مختلف حلقوں میں کئی نام زیر بحث ہیں، ہوسکتا ہے کہ کیانی کوتوسیع مل جائے، تجزیہ نگار۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نومبر میں اپنی مدت کے خاتمے پرفوج کی قیادت کسی اور کو سونپ دیں گے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس سلسلے میں سیاسی حلقے اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں اور یہ دیکھنا اہم ہے کہ وزیر اعظم یہ ذمے داری کسے سونپتے ہیں؟۔رواں سال نومبر میں جنرل کیانی کو پاک فوج کی کمان سنبھالے6 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اگرچہ نئے چیف آف آرمی اسٹاف کے بارے میں کھلے عام قیاس آرائیاں نہیں کی جا ر ہی ہیں تاہم جیسے جیسے نومبر قریب آتا جا رہا ہے۔
سیاستدانوں، سابق فوجیوں اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ نجی گفتگو میں چند نام سامنے آئے ہیں۔ ان میں موجودہ چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود، پاک امریکا باہمی تعلقات کیلیے اہم مانے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل طارق خان اور کیانی کے بعد سب سے سینئرافسر ہارون اسلم شامل ہیں۔ چند سیاسی حلقوں میں ایسی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو مزید3 برسوں کیلیے فوج کی کمان سونپی جا سکتی ہے۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نومبر میں اپنی مدت کے خاتمے پرفوج کی قیادت کسی اور کو سونپ دیں گے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس سلسلے میں سیاسی حلقے اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں اور یہ دیکھنا اہم ہے کہ وزیر اعظم یہ ذمے داری کسے سونپتے ہیں؟۔رواں سال نومبر میں جنرل کیانی کو پاک فوج کی کمان سنبھالے6 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اگرچہ نئے چیف آف آرمی اسٹاف کے بارے میں کھلے عام قیاس آرائیاں نہیں کی جا ر ہی ہیں تاہم جیسے جیسے نومبر قریب آتا جا رہا ہے۔
سیاستدانوں، سابق فوجیوں اور دیگر اہم شخصیات کے ساتھ نجی گفتگو میں چند نام سامنے آئے ہیں۔ ان میں موجودہ چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود، پاک امریکا باہمی تعلقات کیلیے اہم مانے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل طارق خان اور کیانی کے بعد سب سے سینئرافسر ہارون اسلم شامل ہیں۔ چند سیاسی حلقوں میں ایسی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو مزید3 برسوں کیلیے فوج کی کمان سونپی جا سکتی ہے۔