سری لنکا میں دہشت گردی
کامیاب آپریشن کے بعد اگرچہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں رہتے۔
کامیاب آپریشن کے بعد اگرچہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں رہتے۔فوٹو : فائل
سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سمیت مختلف علاقوں میں اتوار کو ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے 8بم دھماکوں میں 300افراد ہلاک اور500سے زائد زخمی ہو گئے۔
سری لنکن حکام کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے' ہلاک ہونے والوں میں امریکی اور برطانوی شہریوں سمیت 36 غیرملکی بھی شامل ہیں۔ دھماکوں کے بعد پورے ملک میں کرفیو لگا دیا گیا۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی اور نہ حملہ آوروں کے عزائم ہی معلوم ہو سکے ہیں۔
سری لنکا کے وزیر دفاع روان وجے وردنے نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی ہے' سات مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان کی ہمدردی سری لنکن بھائیوں کے ساتھ ہے، پاکستان اس دکھ کی گھڑی میں مکمل اظہار یکجہتی کے ساتھ سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سری لنکن وزیراعظم سے رابطہ کیا اور دہشت گرد واقعے کی مذمت کی، ساتھ ہی انھیں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی اپنے پیغام میں ان دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو سفاکانہ اور پرتشدد کارروائی قرار دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ' روسی صدر پیوٹن ، ترک صدر اردگان اور دیگر عالمی رہنماؤں نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں انسانیت پر حملے قرار دیا۔
سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکے افسوسناک ہیں' وہاں کی حکومت دھماکا کرنے والوں کا سراغ لگانے اور دہشت گردوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے' دھماکوں کے محرکات اور ان کے پس پردہ عناصر سے متعلق تفصیلات اس وقت ہی سامنے آئیں گی جب دہشت گرد پکڑے جائیں گے البتہ دھماکوں سے دس روز قبل سری لنکا کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے دھماکوں کا خطرہ ظاہر کیا تھا' ماہرین کے مطابق اطلاعات کے باوجود ان حملوں کا ہونا سیکیورٹی ناکامی ہے۔
اتوار کی شب بھی کولمبو ایئرپورٹ کے قریب بم برآمد ہوا جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔ مذہبی تہوار کے موقع پر مختلف علاقوں میں بم دھماکوں کا ہونا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ سری لنکا میں دہشت گردوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے جو اس خطے کے تمام ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ سری لنکا ایک طویل عرصے تک خانہ جنگی کا شکار رہا، وہاں کی فوج نے طویل لڑائی اور بڑی قربانیوں کے بعد دہشت گردوں کا مضبوط نیٹ ورک توڑا اور ملک میں امن و امان قائم کیا۔
دیکھا گیا ہے کہ کامیاب آپریشن کے بعد اگرچہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں رہتے لیکن آپریشن کے نتیجے میں تتر بتر ہو جانے والی دہشت گردوں کی باقیات کچھ عرصے بعد پھر متحرک ہو جاتی ہیں۔
دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکی ہے اس لیے اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کسی ایک ملک پر الزام لگانے کے بجائے تمام ممالک کو متحد ہو کر اس کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔ وہ قوتیں جو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی، انھیں تربیت اور مالی امداد فراہم کرتی ہیں ان قوتوں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف سب کو متحد ہوکر کارروائی کی جانی چاہیے۔ بعض اوقات کچھ حکومتیں بھی اپنے مخالف ملک کو نیچا دکھانے کے لیے دہشت گرد قوتوں کی پشت پناہی کرتی ہیں مگر دہشت گرد کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے دوسرے علاقوں میں موجود جرائم پیشہ افراد سے بھی رابطے قائم ہو جاتے ہیں،اس طرح دہشت گردوں کا نیٹ ورک پھیلتا چلا جاتا ہے۔
اگرچہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ مشکل ہے مگر عوام کے تعاون سے اس پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بے چہرہ اور بے شناخت دہشت گرد عوام کے اندر گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ بعض سیاسی اور مذہبی بیانیے بھی دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں' اس لیے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے حکومت کو نظریاتی جنگ بھی لڑنا پڑتی ہے جب تک دہشت گردی کا سبب بننے اور اس کو فروغ دینے والے نظریات موجود رہتے ہیں دہشت گردی کا ناسور معاشرے کے لیے خطرہ بنا رہتا ہے۔
سری لنکا میں مختلف قوموں کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافات موجود ہیں' ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد بھی متعدد پرتشدد واقعات پیش آئے۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے فوری طور پر آپریشن کر کے امن و امان تو قائم کر دیتے ہیں مگر دہشت گردی کو فروغ دینا والا نظریہ اندر ہی اندر پنپتا رہتا جو کسی وقت بھی چنگاری بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ اس لیے حکومت کو آپریشن کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی کامیابی کے لیے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔
سری لنکن حکام کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے' ہلاک ہونے والوں میں امریکی اور برطانوی شہریوں سمیت 36 غیرملکی بھی شامل ہیں۔ دھماکوں کے بعد پورے ملک میں کرفیو لگا دیا گیا۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی اور نہ حملہ آوروں کے عزائم ہی معلوم ہو سکے ہیں۔
سری لنکا کے وزیر دفاع روان وجے وردنے نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی ہے' سات مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ان کی ہمدردی سری لنکن بھائیوں کے ساتھ ہے، پاکستان اس دکھ کی گھڑی میں مکمل اظہار یکجہتی کے ساتھ سری لنکا کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سری لنکن وزیراعظم سے رابطہ کیا اور دہشت گرد واقعے کی مذمت کی، ساتھ ہی انھیں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی اپنے پیغام میں ان دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو سفاکانہ اور پرتشدد کارروائی قرار دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ' روسی صدر پیوٹن ، ترک صدر اردگان اور دیگر عالمی رہنماؤں نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں انسانیت پر حملے قرار دیا۔
سری لنکا میں ہونے والے بم دھماکے افسوسناک ہیں' وہاں کی حکومت دھماکا کرنے والوں کا سراغ لگانے اور دہشت گردوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے' دھماکوں کے محرکات اور ان کے پس پردہ عناصر سے متعلق تفصیلات اس وقت ہی سامنے آئیں گی جب دہشت گرد پکڑے جائیں گے البتہ دھماکوں سے دس روز قبل سری لنکا کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے دھماکوں کا خطرہ ظاہر کیا تھا' ماہرین کے مطابق اطلاعات کے باوجود ان حملوں کا ہونا سیکیورٹی ناکامی ہے۔
اتوار کی شب بھی کولمبو ایئرپورٹ کے قریب بم برآمد ہوا جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔ مذہبی تہوار کے موقع پر مختلف علاقوں میں بم دھماکوں کا ہونا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ سری لنکا میں دہشت گردوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے جو اس خطے کے تمام ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ سری لنکا ایک طویل عرصے تک خانہ جنگی کا شکار رہا، وہاں کی فوج نے طویل لڑائی اور بڑی قربانیوں کے بعد دہشت گردوں کا مضبوط نیٹ ورک توڑا اور ملک میں امن و امان قائم کیا۔
دیکھا گیا ہے کہ کامیاب آپریشن کے بعد اگرچہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ حکومت کے لیے بڑا خطرہ نہیں رہتے لیکن آپریشن کے نتیجے میں تتر بتر ہو جانے والی دہشت گردوں کی باقیات کچھ عرصے بعد پھر متحرک ہو جاتی ہیں۔
دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکی ہے اس لیے اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کسی ایک ملک پر الزام لگانے کے بجائے تمام ممالک کو متحد ہو کر اس کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔ وہ قوتیں جو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی، انھیں تربیت اور مالی امداد فراہم کرتی ہیں ان قوتوں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف سب کو متحد ہوکر کارروائی کی جانی چاہیے۔ بعض اوقات کچھ حکومتیں بھی اپنے مخالف ملک کو نیچا دکھانے کے لیے دہشت گرد قوتوں کی پشت پناہی کرتی ہیں مگر دہشت گرد کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے دوسرے علاقوں میں موجود جرائم پیشہ افراد سے بھی رابطے قائم ہو جاتے ہیں،اس طرح دہشت گردوں کا نیٹ ورک پھیلتا چلا جاتا ہے۔
اگرچہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ مشکل ہے مگر عوام کے تعاون سے اس پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بے چہرہ اور بے شناخت دہشت گرد عوام کے اندر گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ بعض سیاسی اور مذہبی بیانیے بھی دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں' اس لیے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے حکومت کو نظریاتی جنگ بھی لڑنا پڑتی ہے جب تک دہشت گردی کا سبب بننے اور اس کو فروغ دینے والے نظریات موجود رہتے ہیں دہشت گردی کا ناسور معاشرے کے لیے خطرہ بنا رہتا ہے۔
سری لنکا میں مختلف قوموں کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافات موجود ہیں' ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد بھی متعدد پرتشدد واقعات پیش آئے۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے فوری طور پر آپریشن کر کے امن و امان تو قائم کر دیتے ہیں مگر دہشت گردی کو فروغ دینا والا نظریہ اندر ہی اندر پنپتا رہتا جو کسی وقت بھی چنگاری بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ اس لیے حکومت کو آپریشن کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی کامیابی کے لیے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔