غریبوں کو چھت دینے کا وزیراعظم کا صائب عزم

ضرورت اب نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کو شفافیت کے ساتھ بروقت تکمیل کی ہے۔

ضرورت اب نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کو شفافیت کے ساتھ بروقت تکمیل کی ہے۔ فوٹو: پی آئی ڈی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کسی خاص تھیوری سے نہیں بلکہ حکمرانوں کے احساس سے آگے اٹھے گا، ہم پاکستان کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر چلاکر مثالی ملک قائم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ کے ایکسپو سینٹر میں بلوچستان میں نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پرگورنر بلوچستان جسٹس(ر) امان اللہ خان یٰسین زئی، وزیراعلیٰ جام کمال خان ، وفاقی وزیر طارق بشیرچیمہ، زبیدہ جلال،ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری ، سردار یار محمد رند، صوبائی وزراء ، اراکین قومی وصوبائی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے وفد سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے واقعات میں شہدا کے اہل خانہ سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ہزارگنجی واقعہ میں ملوث افراد اور دہشت گردوں کو کیفرکردارتک پہنچایا جائے گا۔

وزیراعظم نے شہداء کے خاندانوں کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں 5 فیصدکوٹے کااعلان بھی کیا۔وزیراعظم عمران خان نے غریب طبقے اور پسماندہ علاقے جو پیچھے رہ گئے ہیں انھیں اٹھانے کی صائب بات کی ہے، بلوچستان میں ہاؤسنگ اسکیم پر اپوزیشن کے تحفظات اپنی جگہ تاہم حکومت نے اپنے منصوبہ پر عملدآمد کے لیے بلوچستان کی جیوپولیٹیکل صورتحال کا کماحقہ ادارک کرتے ہوئے جس تفصیل کے ساتھ رہائشی اسکیم پر روشنی ڈالی ہے اگر اسے مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچایاگیا تو یہ بلوچستان کے عوام کی ایک بڑی خدمت ہوگی۔


بلوچستان میں مسائل انتہائی پیچیدہ ہیں، اور سیکیورٹی کے معاملات بھی گھمبیر ہیں، اس لیے عوامی ریلیف کے مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت سنجیدگی سے اپنے اہداف پر توجہ دے تو کوئی کام ناممکن نہیں ہوتا، سیاست یوں بھی ناممکن کو ممکن کرنے کا آرٹ ہے۔

انھوں نے سابق حکمرانون کی کرپشن پر انھیں سخت سزا دینے کے اپنے مشن کو پانچ سال تک جاری رکھنے کا عہد کیا اور کہا کہ بلوچستان ، سندھ ، فاٹاکو ہر قیمت پر آگے لانا ہے۔ ضرورت اب نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کو شفافیت کے ساتھ بروقت تکمیل کی ہے ، یہ بڑا چیلنجنگ پروجیکٹ ہے، غریب طبقے کو چھت مل جائے تو اس سے بہتر بریک تھرو کیا ہوسکتا ہے۔

وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پاکستان میں گھر بنانے کے لیے قرضوں کی شرائط میں کمی اور قانون سازی کی جا رہی ہے ، جوکہتے ہیں کہ پانچ سال میں 50 لاکھ گھر نہیں بن سکتے ، ہوسکتا ہے 50 لاکھ سے زیادہ گھر بنادیں، تاہم انھوں نے سرکاری ملازمتوں کے انتظار کے بجائے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ کاروبارکی طرف آئیں اور نئے مواقع تلاش کریں۔ گوادر کے مچھیروں کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ ان کے لیے گھر بن رہے ہیں۔
Load Next Story