پاک ایران قیادت دہشت گردی کے خلاف پرعزم

کوشش ہونی چاہیے کہ دو برادر ہمسایہ ملک سرحدی علاقے میں دہشتگردوں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کو غیر موثر کریں۔

کوشش ہونی چاہیے کہ دو برادر ہمسایہ ملک سرحدی علاقے میں دہشتگردوں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کو غیر موثر کریں۔ فوٹو: اے پی

KARACHI:
وزیراعظم عمران خان اورایرانی صدر حسن روحانی نے سرحدوں پر سیکیورٹی کے لیے مشترکہ فورس بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائے گی، دہشتگردی کا مسئلہ دونوں ممالک کے لیے چیلنج ہے، پاکستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا، پاک ایران تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں،کوئی تیسرا ملک پاک ایران تعلقات پراثرانداز نہیں ہو سکتا، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا، پاک ایران گیس پائپ لائن کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی سے باہمی ملاقات خطے میں امن،استحکام، ترقی ، دوطرفہ یگانگت اور مفاہمت و بھائی چارے کے لیے دوررس اثرات کی حامل ہے، تاہم پاک ایران تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی عالمی سازشوں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے ، وزیراعظم نے دہشتگردی، پاک ایران سرحدی معاملات اور بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کرتے ہوئے بعض اہم فیصلے کیے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی بھی طرح کے عسکری گروپوں کو ختم کررہا ہے ، کوشش ہونی چاہیے کہ دو برادر ہمسایہ ملک سرحدی علاقے میں دہشتگردوں اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کو غیر موثر کریں تاکہ کوئی خطے میں انتہاپسندانہ کارروائیوں سے پاک ایران تعلقات کو سبوتاژکرنے کی جرات نہ کرے۔

ایران بلاشبہ خطے میں اہمیت کا حامل ملک ہے، پاکستان کے لیے ایران سے خیرسگالی اور دوطرفہ تعاون کے معاہدوں پر دستخط اور جیوپولیٹیکل صورتحال میں مفاہمانہ اسٹرٹیجی اور اشتراک عمل کی ضرورت آج کل سے بھی زیادہ ہے، میڈیا کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایرانی انقلاب میں گہری فکری دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ نئے پاکستان کو ایسی انقلاب کی تلاش ہے۔


پیرکو وزیراعظم عمران خان کا ایران کے صدارتی محل سعد آباد پیلس پہنچنے پر ایرانی صدر حسن روحانی نے پرتپاک استقبال کیا، وزیر اعظم کے ہمراہ وفد میں شیریں مزاری، علی زیدی، عبدالرزاق داؤد اور زلفی بخاری سمیت دیگر وزرا موجود تھے ۔وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی اور دوطرفہ دلچسپی اور پاک ایران خیرسگالی اور خطے میں امن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پرایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے دوطرفہ تعلقات پرتعمیری بات چیت ہوئی ، ملاقات میں سرحدوں پر سیکیورٹی کے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے، سرحدوں پر دہشتگردی کے متعدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، دونوں ممالک نے سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے، جب کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی، ایران نے اپنی سرحد تک پائپ لائن بچھا لی ہے، ایران 10گنا زیادہ بجلی پاکستان ایکسپورٹ کرنے پر تیار ہے، پاکستان کے ساتھ موجودہ تجارتی حجم میں مزید اضافے کے خواہشمند ہیں، تجارت کی غرض سے مصنوعات کے تبادلے کے لیے بارٹرکمپنی بنانے پراتفاق کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گوادراور چاہ بہارکی بندرگاہ کے درمیان قریبی رابطے کا فروغ چاہتے ہیں، افغانستان میں امن واستحکام اور دیگر علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے، ملاقات میںگولان کی پہاڑیوں، ایران کے انقلابی گارڈرپر پابندی ، پاکستان ایران اور ترکی کے درمیان ریلوے لنک مربوط بنانے پر بھی بات ہوئی، توقع ہے کہ وزیراعظم کا دورہ دوطرفہ تعلقات میں نیا موڑ ثابت ہوگا۔

اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ایرانی معاشرے میں سماجی مساوات کا عکس نظرآتا ہے، دہشتگردی کے معاملات دونوں ممالک میں خلیج پیدا کر سکتے تھے، میرا ایران آنے کا مقصد بھی سیکیورٹی کے شعبے میں بات چیت کرنا تھا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے بہا قربانیاں دی ہیں، پاکستان نے یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت نہیں کیا، کچھ روز قبل بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعہ میں سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، ایران بھی دہشتگردی سے متاثر ہوا ہے، دونوں ملکوں کا اتفاق ہے کہ اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، افغانستان میں جنگ سے پاکستان اورایران دونوں متاثر ہوئے، افغانستان میں امن سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے، کشمیری عوام کو ان کے جائز حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، بھارتی افواج کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے، مسئلہ کشمیر حل ہوا تو پورا خطہ خوشحال ہوگا، مسئلہ کشمیر حل ہوگا تو ایران کو بھارت کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی، وزیراعظم کے دورہ ایران کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ۔ تقاضائے وقت ہے کہ پاک ایران دوطرفہ تعلقات چین کی طرح مضبوط تر ہوں، اور دونوں ملکوں کے عوام باہمی تجارت اور تعاون واشتراک سے قومی خوشحالی کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔
Load Next Story