کراچی مریضہ سے بربریت کی انتہا

لواحقین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ عدم دلچسپی کی وجہ سے جو چند لوگ گرفتار ہیں وہ بھی چھوٹ جائیں گے۔

لواحقین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ عدم دلچسپی کی وجہ سے جو چند لوگ گرفتار ہیں وہ بھی چھوٹ جائیں گے۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی کے علاقے کورنگی کے عصمت ہلاکت کیس میں تین ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔واضح رہے 26 سالہ عصمت کی پہلے غلط انجکشن لگنے سے ہلاکت کی المناک خبر چھپی تاہم مقتولہ کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے انجکشن لگا کر قتل کیا گیا۔

اس سفاکانہ قتل میں ملوث ڈاکٹر فرار ہے ۔ بعدازاں عصمت کے اہل خانہ نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سرکاری اسپتال میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی عصمت کیس سے پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، لواحقین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ عدم دلچسپی کی وجہ سے جو چند لوگ گرفتار ہیں وہ بھی چھوٹ جائیں گے۔ شہر قائد میں معصوم بچیوں کی ہلاکت اور نوعمر عصمت سے اسپتال میں زیادتی اور قتل کی شرم ناک واردات سے شعبہ صحت کی واقعی قلعی کھل گئی ہے۔


نام نہاد مسیحاؤں کی درندگی سے نہ صرف عصمت کی عفت تار تار ہوئی بلکہ یہ دردانگیز حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ اخلاقی گراوٹ اور جنسی کجروی نے حدیں پھلانگ لی ہیں، سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز آگے آئیں اور علاج کے نام پر درندگی اور غیر انسانی رویے کی روک تھام کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اپنائیں کیونکہ ہوس زر میں انسانی قدریں بھی پامال ہورہی ہیں ، علاج پر مامور لالچی عناصر اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے نہ صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے غفلت برتی بلکہ دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کے مشن کو بھی داغدار کیا ہے۔

اسپتالوں میں غلط علاج معالجے سے ہونے والی ہلاکتوں نے شہریوں کو دکھی توکردیا ہے مگر اس سے بھی بڑھ کر سنگدلی یہ ہے کہ اسپتال مریضوں کی صحت ہی نہیں ان کی زندگی اور عزت وآبرو کے لیے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔ ارباب اختیار ان واقعات کا سختی سے نوٹس لیں اور ذمے داروں کو قرارواقعی سزا دلوائیں ۔
Load Next Story