گولان پہاڑیوں کا نام صدر ٹرمپ سے منسوب کرنے کا اعلان
گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی ملکیت کا حق تسلیم کر لیا ہے
گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی ملکیت کا حق تسلیم کر لیا ہے۔ فوٹو: فائل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل کے ساتھ نوازشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں جواباً اسرائیل بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دل و جان سے فریفتگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا۔ امریکی صدر نے سب سے پہلے فلسطین کے تاریخی دارالحکومت مقبوضہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے امریکا کا سفارتخانہ تل ابیب کے بجائے القدس منتقل کرنے کا اعلان کر دیا حالانکہ القدس صدیوں سے دنیا کے تین قدیمی مذاہب یعنی یہودیوں' عیسائیوں اور اسلام کی مشترکہ میراث ہے اور اس علاقے میں تینوں مذاہب کے آثار پائے جاتے ہیں۔
جن سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا لہٰذا اس قدر تاریخی مقام کو صرف ایک مذہب یعنی یہودیوں کے سپرد کر دینا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی صدر نے صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ تسلیم کرتے ہوئے وہاں پر اسرائیلی نو آبادیاں تعمیر کرنے کی اجازت بھی دیدی جب کہ تازہ ترین صورت حال کے مطابق اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ چونکہ امریکی صدر نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا دعویٰ تسلیم کر لیا ہے لہٰذا ہم گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں کو امریکی صدر ٹرمپ کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا اسرائیل کے تمام عوام صدر ٹرمپ کے حد درجہ ممنون ہیں جنہوں نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی ملکیت کا حق تسلیم کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے 25 مارچ کو تزویراتی طور پر اہم علاقے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا حق ملکیت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر1967ء کی چھ روزہ جنگ کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ملک کا اقتدار سنبھالتے ہی اپنی پالیسیوں کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنا شروع کر دیا اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا حالانکہ یہ شہر تین مذاہب کی مشترکہ میراث تھی۔ اسرائیل نے 1981ء میں گولان کی پہاڑیوں کا 12سو مربع کلومیٹر کا علاقہ اسرائیل میں باقاعدہ طور پر شامل کر لیا حالانکہ یہ شام کا علاقہ تھا جس پر جنگ کے ذریعے اسرائیل نے قبضہ کیا لیکن اس بات کو بین الاقوامی برادری نے ہرگز تسلیم نہیں کیا، اس حرکت کے بعد 18 ہزار مقامی باشندوں نے جن کا تعلق دروز برادری سے تھا انھوں نے اسرائیل کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کی شہریت حاصل کرنے سے انکار کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی 20 ہزار اسرائیلیوں کو اس علاقے میں نئی بستی قائم کرنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔اب امریکا نے اسرائیل کی پشت پناہی کرتے ہوئے اس مسئلے کو مزید ہوا دی ہے جس سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔
جن سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا لہٰذا اس قدر تاریخی مقام کو صرف ایک مذہب یعنی یہودیوں کے سپرد کر دینا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی صدر نے صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ تسلیم کرتے ہوئے وہاں پر اسرائیلی نو آبادیاں تعمیر کرنے کی اجازت بھی دیدی جب کہ تازہ ترین صورت حال کے مطابق اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ چونکہ امریکی صدر نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا دعویٰ تسلیم کر لیا ہے لہٰذا ہم گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں کو امریکی صدر ٹرمپ کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا اسرائیل کے تمام عوام صدر ٹرمپ کے حد درجہ ممنون ہیں جنہوں نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی ملکیت کا حق تسلیم کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے 25 مارچ کو تزویراتی طور پر اہم علاقے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا حق ملکیت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر1967ء کی چھ روزہ جنگ کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ملک کا اقتدار سنبھالتے ہی اپنی پالیسیوں کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنا شروع کر دیا اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا حالانکہ یہ شہر تین مذاہب کی مشترکہ میراث تھی۔ اسرائیل نے 1981ء میں گولان کی پہاڑیوں کا 12سو مربع کلومیٹر کا علاقہ اسرائیل میں باقاعدہ طور پر شامل کر لیا حالانکہ یہ شام کا علاقہ تھا جس پر جنگ کے ذریعے اسرائیل نے قبضہ کیا لیکن اس بات کو بین الاقوامی برادری نے ہرگز تسلیم نہیں کیا، اس حرکت کے بعد 18 ہزار مقامی باشندوں نے جن کا تعلق دروز برادری سے تھا انھوں نے اسرائیل کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کی شہریت حاصل کرنے سے انکار کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی 20 ہزار اسرائیلیوں کو اس علاقے میں نئی بستی قائم کرنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔اب امریکا نے اسرائیل کی پشت پناہی کرتے ہوئے اس مسئلے کو مزید ہوا دی ہے جس سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔