صحت کی سہولتیںعوام ریلیف کے منتظر
دل کے امراض‘ کینسر اور ہیپاٹائٹس وغیرہ کی ادویات اور ٹیسٹ بہت زیادہ مہنگے ہیں
دل کے امراض‘ کینسر اور ہیپاٹائٹس وغیرہ کی ادویات اور ٹیسٹ بہت زیادہ مہنگے ہیں۔ فوٹو: فائل
ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے ملک کے درمیانے اور عام طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت کو بھی اسی تناظر میں عہدے سے ہٹایا ہے۔ اب وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی ادویات سستی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ خوش آیند ہے۔ ادھر میڈیا کے مطابق چیئرمین نیب نے بھی ادویات کی قیمتوں میں اچانک سو سے تین سو فیصد اضافے اور مبینہ کرپشن کے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد یوں تو ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن ادویات کی قیمتوں میں جس بلند شرح سے اضافہ کیا گیا' اس نے عام آدمی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ادویات ایک ایسی چیز ہے جو انسان کی مجبوری ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہے تو اس نے لازمی طور پر دوائی خریدنی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی موذی مرض میں مبتلا ہے تو اس کے لواحقین کو مہنگی ادویات خریدنا پڑتی ہیں۔ دل کے امراض' کینسر اور ہیپاٹائٹس وغیرہ کی ادویات اور ٹیسٹ بہت زیادہ مہنگے ہیں۔
آئین پاکستان ہر شہری کو اس کی جان و مال' صحت و تعلیم اور چادر اور چاردیواری کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے لیکن یہی وہ حقوق ہیں جو شہریوں کو آئین کے مطابق نہیں مل رہے۔ حکومت عوام سے ٹیکس وصول کر رہی ہے' وزراء' ارکان اسمبلی' سینیٹرز' وزیراعظم' گورنر صاحبان اور سرکاری افسران عوام کے انھی ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں' حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ کم از کم صحت کی سہولتیں عوام کو مفت مہیا کرے۔ سرکاری اسپتالوں کا معیار بہتر بنایا جائے' ہر سرکاری اسپتال اور مرکز صحت میں بھی تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں اسی طرح ٹیسٹ بھی مفت کیے جائیں تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔
موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد یوں تو ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن ادویات کی قیمتوں میں جس بلند شرح سے اضافہ کیا گیا' اس نے عام آدمی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ادویات ایک ایسی چیز ہے جو انسان کی مجبوری ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہے تو اس نے لازمی طور پر دوائی خریدنی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی موذی مرض میں مبتلا ہے تو اس کے لواحقین کو مہنگی ادویات خریدنا پڑتی ہیں۔ دل کے امراض' کینسر اور ہیپاٹائٹس وغیرہ کی ادویات اور ٹیسٹ بہت زیادہ مہنگے ہیں۔
آئین پاکستان ہر شہری کو اس کی جان و مال' صحت و تعلیم اور چادر اور چاردیواری کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے لیکن یہی وہ حقوق ہیں جو شہریوں کو آئین کے مطابق نہیں مل رہے۔ حکومت عوام سے ٹیکس وصول کر رہی ہے' وزراء' ارکان اسمبلی' سینیٹرز' وزیراعظم' گورنر صاحبان اور سرکاری افسران عوام کے انھی ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں' حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ کم از کم صحت کی سہولتیں عوام کو مفت مہیا کرے۔ سرکاری اسپتالوں کا معیار بہتر بنایا جائے' ہر سرکاری اسپتال اور مرکز صحت میں بھی تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں اسی طرح ٹیسٹ بھی مفت کیے جائیں تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔