رینجرز کا دباؤ ٹیکسی ڈرائیور کی اہلیہ مقدمہ واپس لینے عدالت پہنچ گئی

اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ واپس لینا چاہتی ہوں اور عدالتی کارروائی نہیں چاہتی، مقتول کی اہلیہ

فاضل عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اس قتل کا عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لیا تھا اور مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں منتقل ہوچکا ہے۔ فوٹو: محمد نعمان/ ایکسپریس

DADU:
ٹیکسی ڈرائیور کے قتل کیس میں مقدمے کی مدعیہ پر رینجر حکام کے مبینہ دباؤ پر مقتول کی اہلیہ مقدمہ واپس لینے عدالت پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق مقتول کی اہلیہ مسماۃ دعا جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی ارم جہانگیر کے روبرو پیش ہوئی اور حلف نامہ داخل کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ واپس لینا چاہتی ہیں اور عدالتی کارروائی نہیں چاہتی بلکہ شوہر کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو اﷲ کے واسطے غیر مشروط طور پرمعاف کردیا ہے اس موقع پر فاضل عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اس قتل کا عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس لیا تھا اور مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں منتقل ہوچکا ہے۔




فاضل عدالت کو مصالحت سے متعلق درخواست لینے کا اختیار نہیں ہے اور انسداد دہشت گردی کی متعلقہ خصوصی عدالت سے رجوع کرنیکی ہدایت کی ہے، استغاثہ کے مطابق 16جولائی کو گلستان جوہر میں رینجر کے اہلکار غلام رسول نے ٹیکسی ڈرائیور مرید عباس کے نہ رکنے پر فائرنگ کرکے اسے ہلاک کردیا تھا بعدازاں سپریم کورٹ نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لیا ، مقتول کے قتل کا مقدمہ اہلیہ مسماۃ دعا کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا وقوعے کے بعد مقتول کی اہلیہ نے بھی ملزمان کو سخت سزا دینے کیلیے سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی، خاتون کے مطابق اسے رینجر حکام کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے اور وہ مزید مشکالات کا سامنا نہیں کرسکتی۔
Load Next Story