قتل کے مقدمے کی منتقلی کیلیے سرکاری وکلا سے رائے طلب

رینجرز اہلکار نے غلام حیدر کو شاہ فیصل کالونی میں فائرنگ کرکے قتل کیا تھا

وکیل صفائی نے درخواست دائر کی اور موقف اختیار کیا کہ اس کے موکل کے خلاف درج مقدمے میں عدالت عظمیٰ نے دہشت گردی ایکٹ کے اندراج کا حکم نہیں دیا تھا۔ فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے شہری کے قتل میں ملوث رینجر اہلکار شہزاد کے مقدمے کو ماتحت عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر ڈسٹرکٹ ڈپٹی پبلک پراسیکوٹر اور دیگر کو 22 اگست کیلیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

قبل ازیں جیل حکام نے ملزم کو پیشی کیلیے فاضل عدالت میں پیش کیا اس موقع پر پراسیکیوشن نے ملزم کو مقدمے کی نقول فراہم کی تھی، وکیل صفائی نے درخواست دائر کی اور موقف اختیار کیا کہ اس کے موکل کے خلاف درج مقدمے میں عدالت عظمیٰ نے دہشت گردی ایکٹ کے اندراج کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ اٹارنی جنرل سے رائے طلب کی تھی، جبکہ چالان میں تفتیشی افسر نے دہشت گردی اور خوف ہراس سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کیے ۔




صرف 7/ATA کا اضافہ کیا ہے اور ماتحت عدالت سے ریمانڈ حاصل کیا گیا اسی عدالت نے اس کے وکل کو جیل بھیجا تھا، مقدمہ سیشن عدالت میں زیر سماعت ہیجبکہ مقدمے کو ماتحت عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی، استغاثہ کے مطابق 4 جون کو مدعی عبدالسلام اپنے کزن مقتول غلام حیدر کو علاج کے بعد گھر لارہا تھا کہ شاہ فیصل کالونی میں رینجر اہلکار نے فائرنگ کی جس سے مقتول ہلاک ہوگیا، بعدازاں چیف جسٹس نے واقعے کا ازخود نوٹس لیا اور اعلیٰ حکام نے مقدمہ گلشن اقبال تھانے کے تفتیشی افسر طارق علی کو منتقل کیا تھا،تفتیشی افسر نے دوران تفتیش حوالدار منگلے خان ، نائب لیاقت علی اور محمد عرس کو مقدمے میں بے گناہ قرار دیا اور شہزاد کا نام کالم 2 میں درج کرکے چالان عدالت میں جمع کرادیا تھا۔
Load Next Story