این ای ڈی یونیورسٹی کی سینیٹ کا اجلاس1791 ملین روپے کے خسارے کے بجٹ کی منظوری
گزشتہ سال این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے بین الاقوامی جرائد میں یونیورسٹی کے 101مقالے شائع ہوئے ہیں۔
سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرنے بتایا کہ مالی خسارے سے یونیورسٹی کو نکالنے کے لیے ’’کرائسس مینجمنٹ کمیٹی‘‘ قائم کی گئی ہے۔ فوٹو: فائل
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی سینیٹ نے ڈیڑھ ماہ قبل شروع ہونے والے نئے مالی سال کیلیے 1791.334ملین روپے کاخسارے کابجٹ منظورکرلیا۔
این این ڈی یونیورسٹی کو 2013/14 کے بجٹ میں498.262ملین روپے کاخسارہ ہوگا جبکہ یونیورسٹی کو1290.65ملین روپے کی آمدنی ہوگی جس میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی گرانٹ بھی شامل ہے، بجٹ کی منظوری دینے کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کااجلاس منگل کومنعقدہوا، یونیورسٹی کے چانسلرگورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد اورپروچانسلر صوبائی وزیرتعلیم نثارکھوڑوکی عدم شرکت کے سبب سینیٹ کے اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرافضل الحق نے کی، یونیورسٹی کے رجسٹرارانجینئرجاوید عزیزخان سمیت دیگراراکین اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں سیلف فنانس کے داخلوں سے ہونے والی آمدنی متعلقہ مدوں میں خرچ کیے جانے کے بعدباقی رقم سے یونیورسٹی کے قرضے اداکیے جانے کی بھی منظوری دی گئی، سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرنے بتایا کہ مالی خسارے سے یونیورسٹی کو نکالنے کے لیے ''کرائسس مینجمنٹ کمیٹی'' قائم کی گئی ہے جسے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے ایچ ای سی اورحکومت سندھ سے گرانٹ لینے،اخراجات پر کنٹرول کے لیے پالیسی بنانے اورآمدنی میں اضافے کی تجاویز دینے کاہدف دیا گیا ہے، کمیٹی پی وی سی ون انجینئرمظفرمحمود کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔
اجلاس کوبتایا گیا کہ گزشتہ سال این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے بین الاقوامی جرائد میں یونیورسٹی کے 101مقالے شائع ہوئے ہیں جبکہ دومقالے ملکی جرائد میں شائع کرائے گئے ہیں، اجلاس کوبتایاگیاکہ این ای ڈی یونیورسٹی نے گزشتہ برس فی طالب علم بی ای کے مکمل اخراجات کے طورپر154100 روپے خرچ کیے ہیں، 1039طلبا کواسکالرشپ دی گئی ہے جس کی رقم 17.2ملین روپے ہے، اجلاس کوبتایاگیاکہ گزشتہ مالی سال میں ایچ ای سی سے یونیورسٹی کو816.477ملین روپے کی گرانٹ دی گئی تھی۔
یونیورسٹی کو ذرائع سے 349.370ملین روپے کی آمدنی ہوئی تھی جبکہ حکومت سے 250 ملین روپے گرانٹ کی مد میں جاری ہوئے، گزشتہ مالی سال میں تنخواہوں اور الاؤنسز پر 1053.137 روپے خرچ کیے جبکہ 384.625 ملین روپے دیگراخراجات پر خرچ کیے گئے، یونیورسٹی کومالی سال 2012/13میں940.04ملین روپے کاخسارہ رہا۔
این این ڈی یونیورسٹی کو 2013/14 کے بجٹ میں498.262ملین روپے کاخسارہ ہوگا جبکہ یونیورسٹی کو1290.65ملین روپے کی آمدنی ہوگی جس میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی گرانٹ بھی شامل ہے، بجٹ کی منظوری دینے کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی کااجلاس منگل کومنعقدہوا، یونیورسٹی کے چانسلرگورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد اورپروچانسلر صوبائی وزیرتعلیم نثارکھوڑوکی عدم شرکت کے سبب سینیٹ کے اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرافضل الحق نے کی، یونیورسٹی کے رجسٹرارانجینئرجاوید عزیزخان سمیت دیگراراکین اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں سیلف فنانس کے داخلوں سے ہونے والی آمدنی متعلقہ مدوں میں خرچ کیے جانے کے بعدباقی رقم سے یونیورسٹی کے قرضے اداکیے جانے کی بھی منظوری دی گئی، سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرنے بتایا کہ مالی خسارے سے یونیورسٹی کو نکالنے کے لیے ''کرائسس مینجمنٹ کمیٹی'' قائم کی گئی ہے جسے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے ایچ ای سی اورحکومت سندھ سے گرانٹ لینے،اخراجات پر کنٹرول کے لیے پالیسی بنانے اورآمدنی میں اضافے کی تجاویز دینے کاہدف دیا گیا ہے، کمیٹی پی وی سی ون انجینئرمظفرمحمود کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔
اجلاس کوبتایا گیا کہ گزشتہ سال این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے بین الاقوامی جرائد میں یونیورسٹی کے 101مقالے شائع ہوئے ہیں جبکہ دومقالے ملکی جرائد میں شائع کرائے گئے ہیں، اجلاس کوبتایاگیاکہ این ای ڈی یونیورسٹی نے گزشتہ برس فی طالب علم بی ای کے مکمل اخراجات کے طورپر154100 روپے خرچ کیے ہیں، 1039طلبا کواسکالرشپ دی گئی ہے جس کی رقم 17.2ملین روپے ہے، اجلاس کوبتایاگیاکہ گزشتہ مالی سال میں ایچ ای سی سے یونیورسٹی کو816.477ملین روپے کی گرانٹ دی گئی تھی۔
یونیورسٹی کو ذرائع سے 349.370ملین روپے کی آمدنی ہوئی تھی جبکہ حکومت سے 250 ملین روپے گرانٹ کی مد میں جاری ہوئے، گزشتہ مالی سال میں تنخواہوں اور الاؤنسز پر 1053.137 روپے خرچ کیے جبکہ 384.625 ملین روپے دیگراخراجات پر خرچ کیے گئے، یونیورسٹی کومالی سال 2012/13میں940.04ملین روپے کاخسارہ رہا۔