فٹبال افغانستان نے پاکستان کو 3 گول سے مات دیدی

اسٹیڈیم مکمل طور پر شائقین سے بھرا رہا، سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات، جنگ زدہ شہر کابل میں عوام نے ٹیم کی۔۔۔

اسٹیڈیم مکمل طور پر شائقین سے بھرا رہا، سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات، جنگ زدہ شہر کابل میں عوام نے ٹیم کی کامیابی پر بھرپور جشن منایا۔ فوٹو: فائل

دوستانہ فٹبال میچ میں افغانستان نے پاکستان کو 3-0 سے مات دے دی، فتح کے بعد جنگ زدہ شہر کابل میں شائقین فٹبال نے بھرپور جشن منایا۔

کابل کے غازی اسٹیڈیم میں یہ ایک دہائی بعد پہلا بین الاقوامی میچ تھا، 6 ہزار شائقین کی گنجائش والا گراؤنڈ مکمل طور پر بھرا رہا،سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے، فیفا رینکنگ میں سردست افغان ٹیم 139 جبکہ گرین شرٹس 168ویں نمبر پر ہے، میزبان ٹیم نے کھیل کے پہلے ہاف میں ایک جبکہ دوسرے میں 2 مرتبہ گیند کو جال کی راہ دکھائی، یہ میچ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بہتری کا مظہر رہا، اسے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی قرار دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان نے دس سال بعد اپنی سرزمین پر منعقدہ پہلے بین الاقوامی فٹبال میچ میں پاکستان کو صفر کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے دی، کابل میں دونوں ممالک کے درمیان 36 برس میں پہلا مقابلہ تھا، اس سے قبل 1977میں دونوں ملک اسی شہر میں آمنے سامنے آئے تھے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس دوستانہ میچ کے ایک سے زیادہ علامتی پہلو ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ اسے افغانستان میں کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد حالات کی معمول کی طرف واپسی کا اعلان بھی سمجھا جا سکتا ہے، افغانستان میں طالبان نے1996 سے 2000 تک حکومت کی تھی، اس دوران فٹبال پر پابندی تو نہیں تھی لیکن کابل میں غازی اسٹیڈیم کا استعمال سزائیں دینے کے لیے کیا جاتا تھا۔




میچ کے اختتام پر افغان ٹیم کے کوچ یوسف کارگر نے کہا کہ ہمارے لیے یہ فتح بہت اہم اور مجھے امید ہے اس سے دونوں قوموں میں امن کا پیغام جائیگا، دوران میچ اسٹینڈز میں خواتین کی معمولی تعداد بھی موجود رہی، اگرچہ افغان دارالحکومت میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے لیکن اس کے باوجود گراؤنڈ میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی، میچ کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی خاص انتظامات کیے گئے تھے، ٹکٹ کے بغیر گراؤنڈ کے باہر موجود شائقین کو پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے قابو کیے رکھا۔

اس موقع پر غیرملکی خبررساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے ایک شائق 25 سالہ احمد زئی فضلی نے بتایا کہ صوبہ وردک میں مقامی طالبان نے روڈ بلاک کررکھے تھے، انھوں نے راستے میں مجھے بھی روکا ، میں نے انھیں بتایا کہ میں فٹبال میچ دیکھنے کابل جارہا ہوں تو انھوں نے بخوشی آگے جانے کی اجازت دے دی، اور اب میں یہاں پہنچ کر بہت زیادہ خوشی محسوس کررہا ہوں، فائنل وسل بجنے کے ساتھ ہی افغان فٹبالرز نے قومی پرچم تھامے اسٹینڈز میں رقص کرنے والے شائقین کے سامنے پریڈ کی، یہ مقابلہ فیفا کی جانب سے فراہم کردہ مصنوعی پچ پر کھیلا گیا، جمعرات سے 8 ٹیموں پر مشتمل افغان پریمیئر لیگ شروع ہوجائے گی، پاکستان سے جوابی میچ کھیلنے کیلیے افغان ٹیم کو دسمبر میں لاہور آنا ہے۔
Load Next Story