انتہائی خطرناک قیدیوں کیلئے کراچی میں الگ جیل بنانے کا فیصلہ
سندھ کی جیلیں توڑنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں،2 سو خطرناک ترین قیدیوں کو مختلف جیلوں میں منتقل کردیا گیا، اجلاس سے خطاب۔
2 سو خطرناک ترین قیدیوںکو مختلف جیلوں میں منتقل کردیا گیا، اجلاس سے خطاب۔ فوٹو: ایکسپریس
صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور اور جیل خانہ جات محمد ایاز سومرو نے کہا ہے کہ سندھ کی جیلوں کوتوڑے جانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں جس کے باعث جیلوں میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور2 سو خطرناک ترین قیدیوںکوصوبے کی مختلف جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں سندھ کی تمام جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس، آئی جی، ڈی آئی جیز جیل اور پروجیکٹ ڈائریکٹر جیل ڈپارٹمنٹ ورکس کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے بعد پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے کراچی میں انتہائی خطرناک قیدیوں کیلیے ایک علیحدہ اور اپنی نوعیت کی منفرد جیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلیے جدید ہتھیار اور آلات جیل انتظامیہ کومہیا کیے جائیں گے تاکہ دہشتگردوں کے ممکنہ حملے سے بچا جا سکے، جب کہ عمرکوٹ، قمبر شہدادکوٹ اور دیگر اضلاع میں نئی جیلیں بنانے کے لیے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ میں جیل انتظامیہ کو دہشتگردوں کی جانب سے دھمکیاں ملی ہیں، خصوصاً اس وقت جبکہ صوبے کی جیلوں میں 200 سے زائد انتہائی خطرناک قیدی موجود ہیں، ہمیں انتہائی خطرناک قیدیوں کیلیے الگ جیل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور اس لیے حکومت سندھ نے کراچی میں مذکورہ جیل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جیلوں میں حفاظتی انتظامات کو سخت کیا ہے، صوبائی حکومت نے جیلوں کیلیے ترقیاتی اسکیموں ، قیدیوں کو جیل قوانین کے مطابق سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جیلوں میں سبزہ لگانے کیلیے2 ارب 35کروڑ روپے مختص کیے ہیں جبکہ قیدیوں کو کمپیوٹر اور دیگر شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے تا کہ جیلوں کو اصلاحی مراکز میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر قیدی کی جرائم کی تاریخ اور اس کے انگوٹھے کے نشان کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ انکی مستقبل کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔ بلدیاتی نظام سے متعلق سوال کے جواب میں ایاز سومرو جو کہ پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کی کور کمیٹی کے رکن بھی ہیں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلدیاتی نظام کے ایکٹ 2012 کو لانا چاہتی ہے اور اس ضمن میں اتحادی جماعتوں کیساتھ مذاکرات جاری ہیں، مجوزہ مسودے پر 80فیصد اتفاق رائے ہو چکا ہے، لیکن کوئی بھی نیا آئین اور ایکٹ بہت مشکل سے بنایا جاتا ہے اس لیے تاخیر ہوئی ہے، تاہم اب جلد پرویز مشرف کا ناسور بن جانے والا ناظمین کا نظام ختم کرکے2012ء کا بلدیاتی ایکٹ لایاجائے گا۔
انھوں نے کہا سندھ پی پی کا گڑھ ہے اس لیے عوام کا سودا نہیں کریں گے ، شہروں اور دیہی علاقوں میں بلدیاتی نظام ایک ہوگا۔ پیپلز پارٹی سندھ کے لوگوں کی خواہشات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی اور بلدیاتی نظام کے سلسلے میں سندھ میں ایک ہی قانون ہوگا۔ ایاز سومرو نے کہا کہ پارلیمنٹ نے آئین کو جنم دیا اوراسے ہی آئین کے کسی بھی ایکٹ میں ترمیم کا اختیار ہے۔ پارلیمنٹ اور آئین ہی سپریم ہیں، باقی صدر، وزیراعظم اور اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ سب سرکاری ملازم ہیں۔ قبل ازیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ جیل عملے، افسران اور فورس کے حقوق کا ہر قیمت میں تحفظ کیا جائے گا اور ایماندار اور قابل افسران کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ اس موقع پر ایاز سومرو اور سیکریٹری محکمہ جیل علی حسن بروہی نے نئے آئی جی جیل عبدالمجید صدیقی کو انکے عہدے کے بیجز لگائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد میں سندھ کی تمام جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس، آئی جی، ڈی آئی جیز جیل اور پروجیکٹ ڈائریکٹر جیل ڈپارٹمنٹ ورکس کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے بعد پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے کراچی میں انتہائی خطرناک قیدیوں کیلیے ایک علیحدہ اور اپنی نوعیت کی منفرد جیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلیے جدید ہتھیار اور آلات جیل انتظامیہ کومہیا کیے جائیں گے تاکہ دہشتگردوں کے ممکنہ حملے سے بچا جا سکے، جب کہ عمرکوٹ، قمبر شہدادکوٹ اور دیگر اضلاع میں نئی جیلیں بنانے کے لیے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ میں جیل انتظامیہ کو دہشتگردوں کی جانب سے دھمکیاں ملی ہیں، خصوصاً اس وقت جبکہ صوبے کی جیلوں میں 200 سے زائد انتہائی خطرناک قیدی موجود ہیں، ہمیں انتہائی خطرناک قیدیوں کیلیے الگ جیل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور اس لیے حکومت سندھ نے کراچی میں مذکورہ جیل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جیلوں میں حفاظتی انتظامات کو سخت کیا ہے، صوبائی حکومت نے جیلوں کیلیے ترقیاتی اسکیموں ، قیدیوں کو جیل قوانین کے مطابق سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جیلوں میں سبزہ لگانے کیلیے2 ارب 35کروڑ روپے مختص کیے ہیں جبکہ قیدیوں کو کمپیوٹر اور دیگر شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے تا کہ جیلوں کو اصلاحی مراکز میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر قیدی کی جرائم کی تاریخ اور اس کے انگوٹھے کے نشان کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ انکی مستقبل کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔ بلدیاتی نظام سے متعلق سوال کے جواب میں ایاز سومرو جو کہ پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کی کور کمیٹی کے رکن بھی ہیں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلدیاتی نظام کے ایکٹ 2012 کو لانا چاہتی ہے اور اس ضمن میں اتحادی جماعتوں کیساتھ مذاکرات جاری ہیں، مجوزہ مسودے پر 80فیصد اتفاق رائے ہو چکا ہے، لیکن کوئی بھی نیا آئین اور ایکٹ بہت مشکل سے بنایا جاتا ہے اس لیے تاخیر ہوئی ہے، تاہم اب جلد پرویز مشرف کا ناسور بن جانے والا ناظمین کا نظام ختم کرکے2012ء کا بلدیاتی ایکٹ لایاجائے گا۔
انھوں نے کہا سندھ پی پی کا گڑھ ہے اس لیے عوام کا سودا نہیں کریں گے ، شہروں اور دیہی علاقوں میں بلدیاتی نظام ایک ہوگا۔ پیپلز پارٹی سندھ کے لوگوں کی خواہشات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی اور بلدیاتی نظام کے سلسلے میں سندھ میں ایک ہی قانون ہوگا۔ ایاز سومرو نے کہا کہ پارلیمنٹ نے آئین کو جنم دیا اوراسے ہی آئین کے کسی بھی ایکٹ میں ترمیم کا اختیار ہے۔ پارلیمنٹ اور آئین ہی سپریم ہیں، باقی صدر، وزیراعظم اور اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ سب سرکاری ملازم ہیں۔ قبل ازیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ جیل عملے، افسران اور فورس کے حقوق کا ہر قیمت میں تحفظ کیا جائے گا اور ایماندار اور قابل افسران کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ اس موقع پر ایاز سومرو اور سیکریٹری محکمہ جیل علی حسن بروہی نے نئے آئی جی جیل عبدالمجید صدیقی کو انکے عہدے کے بیجز لگائے۔