موبائل کارڈ پر ٹیکس کی بحالی

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت قانون بنا دے کہ ہر بالغ فرد پر ٹیکس لگے گا، جسے استثنیٰ چاہیے درخواست دیدے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت قانون بنا دے کہ ہر بالغ فرد پر ٹیکس لگے گا، جسے استثنیٰ چاہیے درخواست دیدے۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈ پر عائد ٹیکس بحال کرتے ہوئے ٹیکس وصولی سے روکنے کا اپنا حکم نامہ واپس لے لیا، مختصر فیصلہ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے سنایا جب کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت قانون بنا دے کہ ہر بالغ فرد پر ٹیکس لگے گا، جسے استثنیٰ چاہیے درخواست دیدے، عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل نے کیس مفاد عامہ کے تحت سننے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے موقف اپنایا کہ ٹیکس پر کسی کو اعتراض ہے تو وہ ٹیکس کمشنر سے رجوع کرے، اگر داد رسی نہ ہو تو عدالت آیا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ عدالت عظمی نے قانونی اعتبار سے صائب فیصلہ کیا ہے اور اپنے دلچسپ و فکر انگیز ریمارکس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 5رکنی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے جب کہ ججزنے ٹیکس کے اطلاق اور مفاد عامہ و بنیادی حقوق کے سیاق و سباق میں اہم نکات اٹھائے ہیں جس سے ملکی ٹیکس نظام، موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین اور ٹیکس تلے دبے عوام کی پوری تصویر سامنے آ جاتی ہے اور عوام سے لیے جانے والے ٹیکسوں کی گراں بار صورت حال اور اس میں مضمر خرابیوں کا عکس بھی ملتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جو پاکستانی وطن واپس آتے ہیں انھیں اسمارٹ فونز اور پیکڈ موبائل فونز پر عائد ڈیوٹیز کی مختلف کیٹیگریز سے گزرنا پڑتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے پس منظر میں جو بنیادی چیز نمایاں معلوم ہوتی ہے وہ عدلیہ کا ٹیکس وصولی میں عدم مداخلت اور ادارہ جاتی توازن برقراررکھنے کا مثبت اور دوررس انداز نظر ہے۔

یوں بھی ماہرین اقتصاد یات کی رائے مختلف ہے ، کچھ کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے صنعتکار، تاجر اور عوام سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں لیکن پھر انھیں ہی الزام دیا جاتا ہے ، ٹیکس کے ملٹی پل اور پیچیدہ نظام سے واقف ماہرین محصولات کے نزدیک ٹیکس کلیکشن حکومت کا غیر مشروط حق ہے اور عدلیہ کا اس میں مداخلت سے گریز افضل ترین قانونی پوزیشن ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کسی حکومت نے ٹیکس اصلاحات پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا اور مطمحنظر صرف عوام پر ٹیکس لادنے پر توجہ مرکوز رکھی، ہر بجٹ سے یہی کام لیا گیا۔

چنانچہ عوامی حلقوں کا مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ حکومت ٹیکس لے مگر عوامی فلاح وبہبود کو بھی پیش نظر رکھے اسے اوور ٹیکسڈ ہونے سے بچائے، اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرے، تجارتی اور کاروباری حلقوں کو اتنا زیر بار نہیں ہونا چاہیے کہ ٹیکسوں اور دیگر مالیاتی معاملات میں عدالتوں سے بار بار رجوع کرنے پر مجبور ہوں، عوام بلاشبہ ٹیکسوں کی بھرمار سے پریشان ہیں، بے پناہ ٹیکسز لاگو ہیں ، روزمرہ کی ہر شے ٹیکس زدہ ہے، اشیائے صرف سے لے کر سروسز اور تجارتی پروڈکٹس پر ڈیوٹیز، سرچارجز اور ٹیکسز کا جال بچھا ہوا ہے، مثلاً جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا ٹیکس پر کبھی ازخود نوٹس لیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس کی مثال نہیں ملتی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا جو ٹیکس دینے کے اہل نہیں ان سے پیسہ لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔


حکومت موبائل فون کے استعمال پر ٹیکس لینا چاہتی ہے تو قانون سازی کرے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ5 ججز کا حکم نامہ آ چکا، ججز سے بالاتر کوئی حکم جاری ہو تو الگ بات ہے، جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ملک کی محبت میں کوئی ٹیکس دے تو کیا مسئلہ ہے؟

چیف جسٹس نے کہا ٹی وی لائسنس کا ٹیکس بھی ہر شہری سے لیا جاتا ہے، ہر ٹی وی دیکھنے پر اِنکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا لیکن وہ ٹیکس دیتا ہے، ماضی میں مشرقی پاکستان میں فلڈ ٹیکس نافذ ہوا تھا، مشرقی پاکستان الگ ہوگیا لیکن فلڈ ٹیکس 90 کی دہائی تک لیا جاتا رہا، چیف جسٹس نے کہا کہ چرچل نے کہا تھا ہندوستان کو آزادی نہ دیں کیونکہ لوگ ابھی اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے، آزادی دی تو یہ لوگ گلے کاٹیں گے، ہوا، پانی پر بھی ٹیکس لگائیں گے، پانی اور فون پرتو ٹیکس لگ چکا، کیا لوگوں کی جیب سے اربوں روپے نکالنا بنیادی حقوق کا کیس نہیں؟

ان ریمارکس پر ارباب حکومت اور ٹیکس لاگو کرنے والوں کو غور و فکر کرنا چاہیے۔ دنیا کے ساری ریاستیں ٹیکس لیتی ہیں ، ٹیکس کے بغیر کاروبار حکومت نہیں چلے گا۔ موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں اپنے سروسز چارجز وغیرہ لینے میں حق بجانب ہیں لیکن حکومت جو کہیں سروسز پرووائیڈر نہ ہونے پر بھی صارفین اور شہریوں سے ٹیکس کے جابرانہ نفاذ ہی کو معاشی استحکام کی کلید سمجھتی ہے اسے بھی ٹیکسوں کے سلسلہ کو معتدل رکھنا ہو گا، عوام ٹی وی سرچارج سے لے کر بینکوں اور بچت اسکیموں سے اپنی رقوم نکانے پر ناروا ٹیکسوں کے شکنجہ میں آجاتے ہیں، سفید پوش بزرگ پنشن یافتہ لوگ ود ہولڈنگ ٹیکس دینے پر مجبور ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ 22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف 12 لاکھ ٹیکس دہندہ ہیں۔ اور عوام بدنام ہیں کہ ٹیکس نہیں دیتے۔ ادھر حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے قبائلی سردار، جاگیردار اور گدی نشین اس ملک کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں ، وزارتیں انجوائے کر رہے ہیں لیکن انکم ٹیکس نہیں دیتے۔ ماہرین کا اعتراض یہ ہے کہ براہ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسوں کی بھر مار سے گریز کیا جانا چاہیے تا کہ صارفین کو احساس ہو کہ وہ حکومت کا بوجھ بٹانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا نفسیاتی طور پر وہ اثر نہیں ہوتا جو مطلوب ہوتا ہے۔

ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے عمومی طور پر ٹیکسوں سے بچاؤ کے طریقے تلاش کیے جاتے ہیں جن کے لیے محکمہ ٹیکس کے مخصوص اہلکاروں سے ہی معاونت لی جاتی ہے جو لوگوں کو ایسے ایسے گر بتاتے ہیں کہ اس طرح دونوں کی مشکل آسان ہو جاتی ہے، ٹیکس دہندہ کا تو فائدہ ہو جاتا ہے مگر سرکار کو خسارہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ملکی ترقی کے اعتبار سے درست عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس قسم کے مسئلہ کا بہتر حل یہی ہے کہ اول تو ٹیکسوں کے نفاذ میں ایسا سلیقہ ہونا چاہیے کہ ٹیکس دینے والوں کو ٹیکس کی ادائیگی میں کوئی عذر مانع نہ ہو۔ دوسرے حکومت عوام کو سہولتیں دے تاکہ ٹیکس دینے والوں کو تسلی ہو کہ ان کے ٹیکس درست جگہ خرچ ہورہے ہیں۔
Load Next Story