قابل اعتراض نصاب پر سندھ اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں ہاتھا پائی
امداد پتافی نے حلیم عادل کو لینڈ گریبر کہہ دیا، ایک دوسرے کو لعنتی کہا۔
اسپیکر نے الفاظ حذف کرا دیے، اپوزیشن نے پری بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی پر کرپشن الزامات عائد کیے، اجلاس آج بھی جاری رہے گا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سندھ اسمبلی میں تیسرے رو زبھی پری بجٹ بحث جاری رہی، کارروائی کے دوران ایوان میں زیادہ تر وقت ماحول پرسکون رہا لیکن آخر میں جب پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی امداد پتافی کے خطاب کی باری آئی تو انھوں نے پی ٹی آئی کے رکن حلیم عادل شیخ کو لینڈ گریبر کہہ دیا جس پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔
رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ ہے نیا پاکستان جہاں36 لاکھ میں مشاعرہ کرتے ہیں، انھوں نے حلیم عادل شیخ کو لینڈ گریبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پیپلزپارٹی میں آنے کے لیے منت کی تھی اور یہ بات انہیں ناصر شاہ نے بتائی ہے، امداد پتافی کے ان ریمارکس پر پی ٹی آئی کے ارکان احتجاجاً اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ہنگامہ برپا کردیا جس کے دوران ارکان کے درمیان ہاتھ پائی تک نوبت پہنچ گئی اور اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں حکومتی ارکان کے منہ پر دے ماریں۔
حلیم عادل شیخ نے امداد پتافی کے لیے لعنتی کا لفظ بھی استعمال کیا جس کے جواب میں امداد پتافی نے حلیم عادل شیخ کو لعنتی کہا، پی ٹی آئی ارکان کے احتجاج پر اسپیکر آغا سراج درانی نے امداد پتافی کے غیر پارلیمانی الفاظ کارروائی سے حذف کردیے۔
بعد میں حلیم عادل شیخ نے بھی غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے پر معذرت کرلی، انھوں نے کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں اورمیں نے کبھی پیپلزپارٹی میں جانے کی کوشش نہیں کی، قبل ازیںپیپلز پارٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ ہماری کارکردگی سے سندھ کا بچہ بچہ واقف ہے اسی لیے صوبے کے لوگ ہمیں بار بار ووٹ دیکر کامیاب کراتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ اگر ناچنے اور کودنے سے انقلاب آتے تو اس میں بندر سب زیادہ سرخرو ہوتے، انھوں نے خبردار کیا کہ کچھ لوگوں کی ان دنوں زبان بہت پھسل رہی ہے، اگر ہماری پھسلی تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا، اپوزیشن کے ارکان نے پری بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی پر کرپشن اور بدنظمی کے الزامات عائد کیے۔
پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمیں طعنے دینے والوں نے اپنے دور میں جنرل ضیا کے ساتھی یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنایا، آج بھی سندھ کابینہ میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھی موجود ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور پیپلز پارٹی کے سب سے سینئرپارلیمنٹیرین سید قائم علی شاہ نے پری بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت بھی اسمبلی میں تھا جب پہلی اسمبلی میں 60 کا ایوان ہوتا تھا پیپلز پارٹی کی خاتون رکن غزالہ سیال نے کہا کہ میرے ساتھی اپوزیشن ایم پی اے نے الزام لگایا سندھ وینٹی لیٹر پر ہے، شاید میرے ساتھی کو پتا نہیں کی سندھ ملک کو80 فیصد ریوینیو دیتا ہے۔ اگر سندھ وینٹی لیٹر پر ہے تو پاکستان بھی وینٹی لیٹر پر ہوتا۔
ایم کیو ایم کی خاتون رکن شاہانہ اشعر نے کہا کہ ہرسال بجٹ پر عوام کو سب اچھا کا فریب دیا جاتا ہے مگر زمینی حقائق منفرد ہیں، پی ٹی آئی کی رابعہ اظفر نظامی نے کہا کہ پیپلز پارٹی11 سال سے سندھ میں حکومت کرتی ہے مگر نظام تعلیم درست نہ کرسکی، محکمہ تعلیم میں کاپی کلچر مرض کی طرح پھیل چکا، پیپلز پارٹی کے جام مدد علی خان نے کہا کہ بجٹ کی کاپیاں بجا بجا کراسمبلی کودھوبی گھاٹ میں تبدیل کیا جارہاہے، افسوس ہوتاہے جب اراکین یہ رویہ اپناتے ہیں۔
جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ بچوں کو کتابیں نہیں دے سکا، اومنی گروپ کی300 نئی کمپنیاں بن گئیں لیکن سندھ حکومت کے پاس درسی کتابوں کے لیے پیسے نہیں ہیں، بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس آج جمعہ کی دوپہر تک ملتوی کردیا۔
سندھ اسمبلی میں تیسرے رو زبھی پری بجٹ بحث جاری رہی، کارروائی کے دوران ایوان میں زیادہ تر وقت ماحول پرسکون رہا لیکن آخر میں جب پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی امداد پتافی کے خطاب کی باری آئی تو انھوں نے پی ٹی آئی کے رکن حلیم عادل شیخ کو لینڈ گریبر کہہ دیا جس پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔
رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہ ہے نیا پاکستان جہاں36 لاکھ میں مشاعرہ کرتے ہیں، انھوں نے حلیم عادل شیخ کو لینڈ گریبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پیپلزپارٹی میں آنے کے لیے منت کی تھی اور یہ بات انہیں ناصر شاہ نے بتائی ہے، امداد پتافی کے ان ریمارکس پر پی ٹی آئی کے ارکان احتجاجاً اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ہنگامہ برپا کردیا جس کے دوران ارکان کے درمیان ہاتھ پائی تک نوبت پہنچ گئی اور اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں حکومتی ارکان کے منہ پر دے ماریں۔
حلیم عادل شیخ نے امداد پتافی کے لیے لعنتی کا لفظ بھی استعمال کیا جس کے جواب میں امداد پتافی نے حلیم عادل شیخ کو لعنتی کہا، پی ٹی آئی ارکان کے احتجاج پر اسپیکر آغا سراج درانی نے امداد پتافی کے غیر پارلیمانی الفاظ کارروائی سے حذف کردیے۔
بعد میں حلیم عادل شیخ نے بھی غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے پر معذرت کرلی، انھوں نے کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں اورمیں نے کبھی پیپلزپارٹی میں جانے کی کوشش نہیں کی، قبل ازیںپیپلز پارٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ ہماری کارکردگی سے سندھ کا بچہ بچہ واقف ہے اسی لیے صوبے کے لوگ ہمیں بار بار ووٹ دیکر کامیاب کراتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ اگر ناچنے اور کودنے سے انقلاب آتے تو اس میں بندر سب زیادہ سرخرو ہوتے، انھوں نے خبردار کیا کہ کچھ لوگوں کی ان دنوں زبان بہت پھسل رہی ہے، اگر ہماری پھسلی تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا، اپوزیشن کے ارکان نے پری بجٹ بحث کے دوران پیپلز پارٹی پر کرپشن اور بدنظمی کے الزامات عائد کیے۔
پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمیں طعنے دینے والوں نے اپنے دور میں جنرل ضیا کے ساتھی یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنایا، آج بھی سندھ کابینہ میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھی موجود ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور پیپلز پارٹی کے سب سے سینئرپارلیمنٹیرین سید قائم علی شاہ نے پری بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت بھی اسمبلی میں تھا جب پہلی اسمبلی میں 60 کا ایوان ہوتا تھا پیپلز پارٹی کی خاتون رکن غزالہ سیال نے کہا کہ میرے ساتھی اپوزیشن ایم پی اے نے الزام لگایا سندھ وینٹی لیٹر پر ہے، شاید میرے ساتھی کو پتا نہیں کی سندھ ملک کو80 فیصد ریوینیو دیتا ہے۔ اگر سندھ وینٹی لیٹر پر ہے تو پاکستان بھی وینٹی لیٹر پر ہوتا۔
ایم کیو ایم کی خاتون رکن شاہانہ اشعر نے کہا کہ ہرسال بجٹ پر عوام کو سب اچھا کا فریب دیا جاتا ہے مگر زمینی حقائق منفرد ہیں، پی ٹی آئی کی رابعہ اظفر نظامی نے کہا کہ پیپلز پارٹی11 سال سے سندھ میں حکومت کرتی ہے مگر نظام تعلیم درست نہ کرسکی، محکمہ تعلیم میں کاپی کلچر مرض کی طرح پھیل چکا، پیپلز پارٹی کے جام مدد علی خان نے کہا کہ بجٹ کی کاپیاں بجا بجا کراسمبلی کودھوبی گھاٹ میں تبدیل کیا جارہاہے، افسوس ہوتاہے جب اراکین یہ رویہ اپناتے ہیں۔
جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ بچوں کو کتابیں نہیں دے سکا، اومنی گروپ کی300 نئی کمپنیاں بن گئیں لیکن سندھ حکومت کے پاس درسی کتابوں کے لیے پیسے نہیں ہیں، بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس آج جمعہ کی دوپہر تک ملتوی کردیا۔