قومی اسمبلی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کیخلاف شدید احتجاج گداگری ختم کرنیکی متفقہ قرارداد منظور

بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کے اخراجات کنٹرول کرنے کی قراردادبھی منظور،تقریرکے دوران مداخلت پرشیخ رشیدکااظہاربرہمی

بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کے اخراجات کنٹرول کرنے کی قراردادبھی منظور،تقریرکے دوران مداخلت پرشیخ رشیدکااظہاربرہمی. فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی طرف سے گداگری میںتسلسل سے اضافے اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے ارکان نے سزائے موت پر عملدرآمدروکنے پرشدید احتجاج کیا۔

اسمبلی میںوفاقی دارالحکومت میں گداگری کے خاتمے کے لیے موثراقدامات اوربیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کے اخراجات کنٹرول کیے جانے کی 2قراردادیںمتفقہ طورپرمنظورکرلیں جبکہ بی این پی کے رکن کوبلوچی زبان میںبات کرنے سے روک دیا گیا جس پر عیسی نوری نے احتجاج کیا ۔ منگل کوقومی اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت سے 20 منٹ تاخیرسے اسپیکرایازصادق کی زیرصدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا تواس وقت ایوان میں کورم مشکل سے پورا تھا۔تحریک انصاف کے عارف علوی نے پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی نجی کارروائی کادن ہونے کے باعث وزرا،ارکان اوراپوزیشن لیڈرسمیت پارلیمانی لیڈرغیرحاضر رہے۔ حکومت اور اپوزیشن کی اگلی نشستیں خالی رہیں۔ایجنڈے کے20میں سے صرف 3نکات لیے گئے ۔

گداگری کے خاتمے کے لیے موثراقدامات اوربیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کے اخراجات کنٹرول کیے جانے کی 2قراردادیں حکومتی رکن سیمامحی الدین نے پیش کیں۔وزیرمملکت شیخ آفتاب احمدنے ان کی مخالفت نہیں کی۔قومی اسمبلی نے دونوں قراردادوں کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔قبل ازیں نکتہ اعتراض پراظہارخیال کرتے ہوئے رکن اسمبلی انجینئرعلی محمدنے کہاکہ اسلام میں پھانسی کی سزاضروری ہے ، وزیراعظم نواز شریف نے کہاتھاکہ اسلام کے مطابق قاتلوں کوسزائیں ملیں گی حکومت سزاموت پرعملدرآمدیقینی بنائے۔جے یو آئی کے مولاناامیرزمان نے کہاکہ حکومت قصاص کے قانون کوتبدیل نہیں کرسکتی۔پیپلزپارٹی کی رکن اسمبلی ڈاکٹرعذرافضل پیچوہو نے کہاکہ دہشتگردوںکوسخت سے سخت سزادی جائے۔ میجر(ر)طاہراقبال نے کہاکہ جلدایوان میں قومی سیکیورٹی پالیسی پیش کرینگے ۔سیمامحی الدین جمیلی،عارف علوی، عبدالرحیم مندوخیل سمیت دیگراراکین نے کہاکہ ملک میں گداگری کیخلاف قوانین بنائے جائیں۔




مولاناامیرزمان نے کہاکہ عادی گداگروں کی امداد شرعی لحاظ سے حرام ہے ۔شیخ رشید احمد نے کہاکہ اسلام آبادمیں مختلف گداگرہیں کچھ سوشل اورچندسیاسی گداگرہیں این جی اوزبھی گداگرہیں ان این جی اوزکوفنڈز وزارت خزانہ کے ذریعے دیاجائے۔ پولیوکے خلاف کام کرنیوالے پیشہ کوبدنام کیاگیا ۔اسلام آباد میں گداگری عروج پرہے اوراسی نام پرپانچ سال مانگے جارہے ہیںشیخ رشید کے خطاب کے دوران حکومتی ارکان نے مداخلت کی توشیخ رشید پرہم ہوگئے اورکہاکہ اسپیکرکااحترام اپنی جگہ مگروہ جانبداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔آن لائن کے مطابق پیپلز پارٹی کے رکن عبدالستارباچانی نے جب وزیر اعظم کی تقریر کو مایوس کن قراردے دیاتووزیرمملکت عابدشیرعلی میںتلخ جملوں کا تبادلہ ہواعابدشیرعلی نے کہاکہ الفاظ کادرست استعمال کیا جائے اسپیکرغیرپارلیمانی الفاظ کوحذف کریںجس پر اسپیکر ایاز صادق نے کہاکہ غیر پارلیمانی الفاظ کوضرورحذف کیا جائیگا۔

اسپیکرسردارایازصادق کی جگہ پینل آف چیئرکے رکن عارف علوی نشست پربراجمان ہوئے توحکومتی رکن شیخ روحیل اصغرکوخطاب کیلیے وقت ملااس پر انھوں نے کہاکہ اپنوں سے توغیراچھے جنھوں نے آتے ہی وقت تودیاجس پرتحریک انصاف کے اراکین نے ڈیسک بجادیے۔اجلاس کے دوران ایک رکن عیسی نوری نے کہاکہ مجھے میری مادری زبان بلوچی خطاب کی اجازت دی جائے کرسی صدارت عارف علوی نے اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ معزز ارکین انگلش اوراردوکے علاوہ کسی اور زبان میںبات نہیں کرسکتے۔ مولاناقمرالدین،سلمان بلوچ نے، ڈاکٹرافضل ڈھانڈلہ،عبد الکریم، ثریاافریدی ،شیخ روحیل اصغر، شیر امیر خان، ڈاکٹر درشن،اسیہ ناصر،ساجد احمد، طاہرہ اورنگزیب، سلیم رحمن، عبدالرشید گوڈیل،ڈاکٹرنگہت ،نواب یوسف تالپور،چوہدری اعجاز،خواجہ سہیل منصور، عمران ظفر لغاری، چوہدری محمد اشرف،مرادسعید ،قیصرمحمود شیخ ، مولانا گوہر زمان،عارفہ خالد ،ڈاکٹرشاہ جہاں نے بھی اظہار خیال کیانکتہ ہائے اعتراضات پرارکان نے اپنے اپنے حلقوں کے مسائل بیان کیے۔اجلاس آج صبح ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
Load Next Story