پیپلزپارٹی کا بھٹو ریفرنس کیس میں فریق بننے کافیصلہ

پارٹی اجلاس میں لطیف کھوسہ کوسپریم کورٹ میں درخواست دینے کے اختیارکی قراردادمنظور

پارٹی اجلاس میں لطیف کھوسہ کوسپریم کورٹ میں درخواست دینے کے اختیارکی قراردادمنظور فوٹو: فائل

پیپلزپارٹی نے صدرآصف علی زرداری کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت دائرکردہ بھٹوریفرنس کیس میں فریق بننے کافیصلہ کیاہے۔

یہ فیصلہ اسلام آبادمیں پارٹی اجلاس میں کیاگیا، اجلاس میں ایک قرارداد منظورکی گئی جس میں پارٹی کے سیکریٹری جنرل سردارلطیف کھوسہ کویہ اختیاردیاگیاکہ وہ بھٹوریفرنس کیس میں فریق بننے کیلیے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکریں اور اس کیس میں فریق بننے کی استدعا کریں، قراردادمیں کہاگیا کہ ڈکٹیٹرضیاء الحق نے منتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کوبرطرف کیا اوراس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ اوراسمبلیاں تحلیل کرکے مارشل لاء نافذکردیا،جھوٹی گواہیاںتخلیق کرکے تیسری دنیاکے عظیم ترین لیڈرکیخلاف قتل کاجھوٹا مقدمہ بنایا۔




قرارداد میں کہاگیاکہ قائد عوام مسلم امہ کے ترجمان تھے،انکاعدالتی قتل کیاگیا، قراردادمیں یہ بھی کہاگیاکہ پیپلزپارٹی محسوس کرتی ہے کہ وقت آگیاکہ اعلیٰ ترین عدالت اپنے اوپرلگے ہوئے کلنک کو مٹائے کیونکہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اس لیے ماضی میں کیاہواوہ جھوٹا فیصلہ جسکے تحت ذوالفقاربھٹو کوپھانسی دی گئی واپس لیاجائے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو، پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل کویہ اختیاربھی دیاگیاکہ وہ اس درخواست کی پیروی کیلئے جس ملکی اورغیرملکی ماہرِقانون کووہ مناسب سمجھیں انکی قانونی مددحاصل کریں۔

Recommended Stories

Load Next Story