پاکستان کا بڑھتا ریونیو خسارہ اور نئے ٹیکسوں کی تجاویز
بجٹ میں بھی 729 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
بجٹ میں بھی 729 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
اخباری اطلاعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کا ریونیو خسارہ تیزی سے بڑھ رہا ہے جو کہ تشویشناک امر ہے۔ ملک میں مہنگائی اور عام آدمی کی قوت خرید گھٹنے سے پہلے ہی متوشش صورتحال کا سامنا ہے۔ پاکستان کا ریونیو خسارہ جو 3 سال قبل 3.3 ٹریلین روپے تھا آج 5 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔
یہ بات عالمی بینک کی دستاویز میں سامنے آئی ہے جو ٹیکس اصلاحات کے لیے 400 ملین ڈالر قرضے کی منظوری کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 1.5 ارب ڈالر کے پاکستان ریونیو موبلائزیشن پروجیکٹ کے مطابق حکومت کو نیا ٹیکس اور نہ ہی موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں کوئی اضافہ کرنا پڑے گا۔ دستاویز کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام 10 ٹریلین روپے ریونیو حاصل کر سکتا ہے۔
عالمی بینک کی رائے صائب ہے کہ پاکستان کو موجودہ ٹیکس گزاروں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ ورک کو توسیع دینا ہو گی۔ دوسری جانب یہ بھی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ آئی ایم ایف ٹیکس آمدنی، جی ڈی پی کے 13.2 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن حکومت نے 12.7 فیصد تک یقین دہانی کرائی ہے۔ جب کہ بجٹ میں بھی 729 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
دنیا بھر میں حکومتیں شہریوں پر ٹیکسز لگا کر سرکاری خزانہ بھرتی ہیں جو کہ ریاست کو چلانے کے لیے ضروری بھی ہے۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں براہ راست ٹیکسوں کا نفاذ زیادہ کیا جاتا ہے اور بالواسطہ ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں چونکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی پر زیادہ دھیان دیا جاتا ہے اسی سبب عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ حالیہ دور میں مہنگائی کی شرح جس بلند سطح پر پہنچ چکی ہے اس میں عوام حکومت سے ریلیف کے طالب ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے پروگرام کے لیے پیر سے باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ عالمی ادارے کے مشن ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا ارنسٹو رمیریز ریگو کی سربراہی میں جائزہ مشن 29 اپریل کو 10 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے گا اور وزیراعظم کے ساتھ اس کی ملاقات متوقع ہے۔ جائزہ مشن نہ صرف مختلف اداروں کا دورہ کرے گا بلکہ آیندہ وفاقی بجٹ کے لیے تجاویز پر تبادلہ خیال ہوگا۔
ریونیو خسارہ دور کرنے کے لیے عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے اور عالمی ادارے کی ''فرمائش'' پر ٹیکس آمدنی بڑھانا مقصود ہی ہو تو صرف براہ راست ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔درست ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناپسندیدہ اور سخت فیصلے بھی لینا ہوں گے۔ حکومت درمیانی راستے کا انتخاب کرتے ہوئے صائب فیصلے لے اور عام آدمی کو بھی ریلیف فراہم کرے۔
یہ بات عالمی بینک کی دستاویز میں سامنے آئی ہے جو ٹیکس اصلاحات کے لیے 400 ملین ڈالر قرضے کی منظوری کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 1.5 ارب ڈالر کے پاکستان ریونیو موبلائزیشن پروجیکٹ کے مطابق حکومت کو نیا ٹیکس اور نہ ہی موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں کوئی اضافہ کرنا پڑے گا۔ دستاویز کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام 10 ٹریلین روپے ریونیو حاصل کر سکتا ہے۔
عالمی بینک کی رائے صائب ہے کہ پاکستان کو موجودہ ٹیکس گزاروں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ ورک کو توسیع دینا ہو گی۔ دوسری جانب یہ بھی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ آئی ایم ایف ٹیکس آمدنی، جی ڈی پی کے 13.2 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن حکومت نے 12.7 فیصد تک یقین دہانی کرائی ہے۔ جب کہ بجٹ میں بھی 729 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
دنیا بھر میں حکومتیں شہریوں پر ٹیکسز لگا کر سرکاری خزانہ بھرتی ہیں جو کہ ریاست کو چلانے کے لیے ضروری بھی ہے۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں براہ راست ٹیکسوں کا نفاذ زیادہ کیا جاتا ہے اور بالواسطہ ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں چونکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی پر زیادہ دھیان دیا جاتا ہے اسی سبب عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ حالیہ دور میں مہنگائی کی شرح جس بلند سطح پر پہنچ چکی ہے اس میں عوام حکومت سے ریلیف کے طالب ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے پروگرام کے لیے پیر سے باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ عالمی ادارے کے مشن ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا ارنسٹو رمیریز ریگو کی سربراہی میں جائزہ مشن 29 اپریل کو 10 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے گا اور وزیراعظم کے ساتھ اس کی ملاقات متوقع ہے۔ جائزہ مشن نہ صرف مختلف اداروں کا دورہ کرے گا بلکہ آیندہ وفاقی بجٹ کے لیے تجاویز پر تبادلہ خیال ہوگا۔
ریونیو خسارہ دور کرنے کے لیے عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے اور عالمی ادارے کی ''فرمائش'' پر ٹیکس آمدنی بڑھانا مقصود ہی ہو تو صرف براہ راست ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔درست ہے کہ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناپسندیدہ اور سخت فیصلے بھی لینا ہوں گے۔ حکومت درمیانی راستے کا انتخاب کرتے ہوئے صائب فیصلے لے اور عام آدمی کو بھی ریلیف فراہم کرے۔